’رمبل ان دا جنگل‘ کا شیر ابدی نیند سو گیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption محمد علی نے سنہ 1984 میں پارکنسنز کی تشخیص کے بعد باکسنگ چھوڑ دی تھی

باکسنگ کے سابق ہیوی ویٹ چیمپیئن محمد علی کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی موت ’سیپٹک شاک‘ سے واقع ہوئی۔

ان کی تدفین جمعہ کو کینٹکی ریاست میں ان کے آبائی شہر لوئی وِل میں ہو گی۔

وہ سانس کی تکلیف کے باعث دو دن سے امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس کے ایک ہسپتال میں داخل تھے۔

انھیں پارکنسنز کا مرض بھی لاحق تھا جس کی وجہ سے ان کی سانس کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تھا۔

ان کے اہل خانہ کے مطابق ان کی تدفین ان کے آبائی ریاست کینٹکی کے شہر لوئی ول میں ہوگی۔

٭ ’میں عظیم ترین ہوں‘

٭ محمد علی کی زندگی تصاویر میں

٭حریفوں کو اشاروں پر نچانے کے ماہر

سابق ہیوی ویٹ چیمپیئن محمد علی کے ترجمان نے تصدیق کی تھی کہ سانس کی تکلیف کے باعث ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔ جمعے کو ان کی صحت کے بارے میں تشویش ناک خبریں سامنے آئی تھیں لیکن سانس کی تکلیف اور پرانی بیماری پارکنسنز نے معاملے کو مزیدہ پیچیدہ بنا دیا تھا۔

محمد علی تین مرتبہ باکسنگ کے عالمی چیمپیئن رہ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سونی لسٹن کے خلاف 25 فروری سنہ 1954 کو ہونے والے اہم مقابلے کے اگلے ہی دن انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اسلام قبول کر رہے ہیں

کئی نامور شخصیات نے انھیں اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہوئے ان کی صحت یابی کے لیے دعا کی تھی، جن میں برطانیہ کے عالمی چیمپیئن ٹونی بیلیوو بھی شامل ہیں۔

محمد علی نے سنہ 1984 میں پارکنسنز کی تشخیص کے بعد باکسنگ چھوڑ دی تھی۔

تین مرتبہ عالمی فاتح رہنے والے علی کو آخری بار سنہ 2015 میں پیشاب کی تکلیف کے باعث ہسپتال داخل کروایا گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ سنہ 2014 میں نمونیے کے باعث ہسپتال میں داخل رہے۔

وہ پہلی مرتبہ 1964 میں باکسنگ کے عالمی چیمپیئن بنے پھر انھوں نے یہ اعزاز 1974 اور پھر 1978 میں بھی حاصل کیا۔

امریکہ کی ریاست کینٹکی سے تعلق رکھنے والے محمد علی پہلے کیسیئس کلے کے نام سے جانے جاتے تھے لیکن سونی لسٹن کے خلاف 25 فروری 1964 کو ہونے والے اہم مقابلے کے اگلے ہی دن انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اسلام قبول کر رہے ہیں، جس کے بعد انھوں نے اپنا نام بدل کر محمد علی رکھ لیا تھا۔

انھوں نے سنہ 1960 میں روم اولمپکس میں لائٹ ہیوی ویٹ میں طلائی تمغہ حاصل کرکے شہرت حاصل کی تھی۔

ان کے نام کے ساتھ گریٹیسٹ‘ یعنی عظیم ترین لگایا جاتا ہے۔ انھوں نے 1964 میں سونی لسٹن کو شکست دے کر پہلا عالمی خطاب حاصل کیا تھا اور پھر تین بار یہ خطاب حاصل کرنے والے وہ پہلے باکسر بنے تھے۔

انھوں نے 61 مقابلوں میں 56 مقابلے جیت کر بالآخر سنہ 1981 میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔

انھیں سپورٹس السٹریٹڈ نے ’سپورٹس مین آف دا سنچری‘ کے خطاب سے نوازا تو بی بی سی نے انھیں ’سپورٹس پرسنالٹی آف دا سنچری‘ کا خطاب دیا۔ محمد علی مقابلے سے قبل اور اس کے بعد دینے جانے جانے والے بیانات کے وجہ سے معروف تھے۔ وہ رنگ میں جس قدر اپنا ہنر دکھاتے اسی قدر رنگ کے باہر اپنے بیانات سے لوگوں کو محظوظ کرتے۔

اس کے علاوہ وہ شہری حقوق کے علمبردار اور شاعر بھی تھے۔

ان سے ایک بار پوچھا گیا تھا کہ وہ کس طرح یاد کیا جانا چاہیں گے تو انھوں نے کہا تھا: ’ایک ایسے شخص کے طور پر جس نے کبھی اپنے لوگوں کا سودا نہیں کیا۔ اور اگر یہ زیادہ ہے تو پھر ایک اچھے باکسر کے طور پر۔ مجھے اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہو گا اگر آپ میری خوبصورتی کا ذکر نہ کریں۔‘

محمد علی

پیدائش 17 جنوری سنہ 1942

61

مقابلوں میں حصہ لیا جو اکیس سال پر محیط تھے

56

مقابلوں می کامیابی حاصل کی جن میں 31 ناک آؤٹ تھے

  • جتنی مرتبہ ہیوی ویٹ چیمپئین بنے 3

  • جتنی مرتبہ لائیٹ ویٹ اولمپک جیتے 1

  • جو فریزیئر سے ہارنے سے پہلے مسلسل کامیابیاں 31

Getty

اسی بارے میں