حریفوں کو اشاروں پر نچانے کے ماہر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption محمد علی نے 1996 کے ایٹلانٹا اولمپکس کی مشعل روشن کی

وہ شخصیات جو کھیلوں کی دنیا میں عظمت کے پیمانے کے طور پر دیکھی گئیں ان میں عظیم باکسر محمد علی سرِ فہرست ہیں۔

باکسنگ کا کھیل درحقیقت محمد علی کی وجہ سے ہی پہچانا گیا جنہوں نے اسے نئے معنی اور نیا انداز دیا ۔

محمد علی سے پہلے کسی نے بھی دنیا بھر کو نیند سے بیدار کر کے ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر باکسنگ مقابلے کا شدت سے انتظار کرنے پر مجبور نہیں کیا ۔

محمد علی کا لڑنے کا اپنا انداز تھا۔

وہ شہد کی مکھی کی طرح کاٹتے تھے اور تتلی کی طرح اڑتے تھے۔ ان کے پیروں میں جیسے بجلی بھری تھی۔ رنگ میں حرکت میں کمی آتی تو وہ رسے پر جھولنے کی حکمت عملی اپنا کر حریفوں کے صبر کا امتحان لینا شروع کر دیتے تھے۔

وہ رنگ میں حریف باکسر کو اپنے اشارے پر نچانے کے فن میں ماہر تھے۔

انھی خوبیوں نے انہیں تاریخ کا عظیم ترین باکسر بنادیا ۔

محمد علی کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے مقابلوں سے قبل ہی حریف باکسروں کو اپنی تیز طرار گفتگو سے مشتعل کر دیتے تھے۔

ان کے طنزیہ جملے جو ان کے حریفوں کو کبھی پسند نہیں آئے، تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔

انھوں نے سونی لسٹن کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ریچھ کی طرح سونگھتے ہیں اور وہ انھیں شکست دینے کے بعد چڑیا گھر کو عطیہ کردیں گے۔

اسی طرح محمد علی نے مختلف اوقات میں مختلف حریفوں کے بارے میں دلچسپ فقرے کسے تھے جس پر ان پر تنقید ہوتی رہی لیکن دنیا کو محمد علی کا یہی روپ پسند تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption محمد علی 1966 میں شکاگو میں

محمد علی جیسے باکسنگ ہی کے لیے پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں اپنی سائیکل چوری کرنے والے کو سبق سکھانے کے لیے انھوں نے پولیس افسر جو ای مارٹن کے کہنے پر باکسنگ شروع کی تھی۔ چور تو کبھی بھی ان کے ہاتھ نہ آیا البتہ باکسنگ کی دنیا کے کئی بڑے نام ان کے ہتھے ضرور چڑھ گئے۔

محمد علی نے تین بار ہیوی ویٹ کا عالمی اعزاز حاصل کیا۔

1964 میں وہ سونی لسٹن کو ہراکر ہیوی ویٹ چیمپئن بنے اوراس کے اگلے ہی دن انھوں نے اعلان کر دیا کہ وہ کیسئس کلے سے محمد علی ہوچکے ہیں۔

تاہم ان کی زندگی کا اہم ترین موڑ اس وقت آیا جب ویت نام کی جنگ میں حصہ نہ لینے پر ان پر پابندی عائد کر دی گئی۔

محمد علی ساڑھے تین سال باکسنگ سے دور رہے جس کے بعد امریکی سپریم کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

جوفریزر سے ان کی جھڑپ کو فائٹ آف دی سنچری کہا جاتا ہے جس میں محمد علی کو شکست ہوئی۔

1974 میں محمد علی نے جارج فورمین کوشکست دے کر دوسری مرتبہ ہیوی ویٹ ٹائٹل حاصل کیا۔ یہ باؤٹ باکسنگ کے چند تاریخی مقابلوں میں شمار کی جاتی ہے ۔

محمد علی نے تیسری بار ہیوی ویٹ کا عالمی اعزاز لیون اسپنکس کو ہراکر حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد علی بمقابلہ جارج فورمین

محمد علی کی زندگی ہنگامہ خیز رہی۔ وہ ایک جانب جنگ سے نفرت کا پرچار کرتے دکھائی دیے جس میں وہ مارٹن لوتھر کنگ سے متاثر تھے۔

دنیا نے انھیں عالی جاہ محمد کے پیروکار کے طور پر بھی دیکھا تاہم بعد میں صوفی ازم کے قریب ہو گئے۔

حریف باکسروں کے مکوں نے محمد علی کو پارکنسنز کی بیماری میں مبتلا کر دیا جس نے آخر وقت تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ گرتی ہوئی صحت کے سبب محمد علی کی عوامی تقریبات میں شرکت وقت کے ساتھ ساتھ کم سے کم ہوتی چلی گئی تھی۔

وہ آخری بار اولمپک پرچم لیے 2012 کے لندن اولمپکس میں نظر آئے تھے۔

محمد علی پر کئی کتابیں لکھی گئیں اور کئی فلمیں بھی بنیں۔ انھوں نے اپنی سوانح حیات ’گریٹیسٹ‘ پر بننے والی فلم میں کام بھی کیا۔

اسی بارے میں