انگلینڈ کی کٹھن سیریز کے لیے ٹیم تیار

پاکستان ٹیم تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹیم ایک صف میں تو ہے لیکن کیا وہ انگلش کنڈیشنز کا مقابلہ کر پائے گی

انگلینڈ کے دورے میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز پاکستانی کرکٹ ٹیم کا سب سے بڑا اور کٹھن امتحان ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تین سال سے زائد عرصے میں پاکستانی ٹیم کی پہلی ٹیسٹ سیریز ہے جو وہ ایشیا سے باہر کھیلے گی۔

2013ء میں پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز تین صفر سے ہاری تھی جبکہ زمبابوے کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر رہی تھی۔ اس کے بعد سے پاکستانی ٹیم نے متحدہ عرب امارات میں پانچ ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں اور سری لنکا کے دو اور بنگلہ دیش کا ایک دورہ کیا ہے۔

اس حقیقت کے باوجود کہ پاکستانی ٹیم نے انگلینڈ میں ٹیسٹ میچز جیتے بھی ہیں لیکن اس کے بیٹسمینوں کو وہاں کے موسم اور وکٹوں پر مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس بار بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ انگلش کنڈیشنز میں جیمز اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ کی بولنگ کا سامنا کرنا پاکستانی بیٹسمینوں کے لیے چیلنج ہوگا۔

پاکستانی ٹیم میں شامل بیٹسمینوں میں صرف محمد حفیظ۔ یونس خان اور اظہرعلی کو انگلینڈ میں ٹیسٹ میچز کھیلنے کا تجربہ ہے۔

پاکستان نے اوپنرز کے طور پر محمد حفیظ شان مسعود اور سمیع اسلم کا انتخاب کیا ہے۔ ان میں محمد حفیظ سب سے زیادہ تجربہ کار ہیں تاہم ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد سے وہ فٹنس مسائل کا شکار رہے ہیں اور یہاں تک کہا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا میڈیکل پینل ان کے گھٹنے کا صحیح علاج نہیں کرا سکا ہے اور وہ بیرون ملک علاج کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

سلیکشن کمیٹی کہتی ہے کہ اس نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے نئے فزیو شان ہیز اور بورڈ کے ڈاکٹر کی رپورٹ کی بنیاد پر محمد حفیظ کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ pcb
Image caption محمد عامر انگلینڈ میں کامیاب بولر ثابت ہوئے تھے لیکن وہ سپاٹ فکسنگ کے سکینڈل کے بعد پہلی مرتبہ انگلینڈ میں کھیل رہے ہیں

شان مسعود نے سری لنکا میں میچ وننگ سنچری اسکور کی تھی لیکن انگلینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز کی چار اننگز میں صرف ایک نصف سنچری سکور کرنے اور چاروں مرتبہ جیمز اینڈرسن کے ہاتھوں آؤٹ ہونے کے بعد وہ آخری ٹیسٹ سے ڈراپ کر دیے گئے تھے۔اس لحاظ سے یہ سیریز شان مسعود کے لیے سخت امتحان ہوگی۔

پاکستانی مڈل آرڈر بیٹنگ سیٹ اور متوازن ہے۔ چاروں بیٹسمین اظہرعلی، یونس خان، مصباح الحق اور اسد شفیق مستقل مزاجی سے رنز کرتے آ رہے ہیں۔

یونس خان اور اظہر علی اس سے قبل بھی انگلینڈ میں کھیل چکے ہیں۔مصباح ا لحق اگرچہ اپنے کریئر میں پہلی بار انگلینڈ میں ٹیسٹ میچ کھیلیں گے لیکن انہیں ہر کنڈیشن میں خود کو ہم آہنگ کرکے پرفارم کرنا آتا ہے۔اسی طرح اسد شفیق چھٹے نمبر پر خود کو قابل اعتماد بیٹسمین ثابت کرچکے ہیں۔

پاکستانی بولنگ میں بھی ورائٹی نظر آتی ہے جس میں بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے محمد عامر، وہاب ریاض اور راحت علی کے علاوہ دائیں ہاتھ کے سہیل خان اور عمران خان شامل ہیں جبکہ سپن کا شعبہ یاسر شاہ اور ذوالفقار بابر سنبھالے ہوئے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستان کا بولنگ اٹیک انگلینڈ کے طویل دورے میں خود کو کتنا فٹ رکھتا ہے۔

محمد عامر نے دو ہزار دس کے انگلینڈ کے دورے میں شاندار بولنگ کی تھی لیکن اسی دورے میں وہ سپاٹ فکسنگ کے مرتکب ہوئےتھے۔

پانچ سالہ پابندی ختم ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ محمد عامر ٹیسٹ ٹیم میں منتخب ہوئے ہیں تاہم کرکٹ کے میدانوں میں واپس آنے کے بعد سے مسلسل کھیلتے رہنے کے سبب وہ فٹ اور فارم میں ہیں اور پانچ دن کی کرکٹ کے لیے بھی تیار نظر آ رہے ہیں۔

سلیکٹرز نے سہیل خان کو ان کی موجودہ فٹنس کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا ہے جو گزشتہ سال ورلڈ کپ کے بعد سے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلے ہیں تاہم انھوں نے قائد اعظم ٹرافی کے چھ میچوں میں اکیس وکٹیں حاصل کی تھیں جس میں تنتیس رنز کے عوض سات وکٹوں کی عمدہ کارکردگی بھی شامل تھی۔ البتہ جنید خان کے بارے میں سلیکٹرز کا کہنا ہے کہ انھیں ٹیم میں واپس آنے کے لیے ابھی مزید کچھ وقت درکار ہے۔

فاسٹ بولر وہاب ریاض کی کارکردگی پر بھی سب کی نظر ہوگی جنھوں نے ورلڈ کپ میں شین واٹسن کے خلاف اپنے سپیل سے شہرت حاصل کی تھی لیکن اس کے بعد سے انھوں نے 15 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں 94 ء 36کی اوسط سے صرف17 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

اس سال کھیلے گئے 8 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں 77 ء 27 کی اوسط سے ان کی صرف 9 وکٹیں ہیں۔

وہاب ریاض نے انگلینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں8 وکٹیں37 ء 43 کی اوسط سے حاصل کی تھیں۔

اسی بارے میں