محمد علی کا جسدِ خاکی آبائی علاقے میں پہنچا دیا گیا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

سابق ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپیئن محمد علی کا جسدِ خاکی امریکی ریاست کینٹکی میں اُن کے آبائی علاقے لوئی ول پہنچا دیا گیا ہے جہاں جمعے کو اُن کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔

ان کے خاندانی ذرائع نے کہا ہے کہ جمعے کو ان کا بہت بڑا جنازہ منعقد کیا جائے گا تاکہ ’دنیا بھر کے لوگوں کو انھیں خداحافظ کہنے کا موقع مل سکے۔‘

٭ ’رمبل ان جنگل‘ کے فاتح محمد علی چل بسے

٭ محمد علی کے جنازے میں ’دنیا بھر کو شرکت کی دعوت‘

٭ ’میں عظیم ترین ہوں‘

٭ محمد علی کی زندگی تصاویر میں

یاد رہے کہ محمد علی ہفتے کو 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES

ان کے خاندانی ذرائع کے مطابق محمد علی کا انتقال نامعلوم قدرتی وجوہات سے ہونے والے سیپٹک شاک سے ہوا، سیپٹک شاک میں مریض کا بلڈ پریشر کسی انفیکشن کے باعث خطرناک حد تک گر جاتا ہے۔

محمد علی کے جسدِ خاکی کو لوئی ول ایئرپورٹ سے گاڑیوں کے ایک قافلے کی شکل میں اسلامی مرکز لایا گیا ہے۔

لوئی ول اسلامک سینٹر میں منعقد ہونے والی دعائیہ تقریب میں مسلمان، مسیحی، یہودیوں سمیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

محمد علی کے خاندان کے ترجمان باب گنیل نے کہا کہ ’وہ ساری دنیا کے شہری تھے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ان کے جنازے میں شرکت کر سکیں۔‘

باکسنگ کے سابق لیجنڈ محمد علی کے انتقال پر انھیں دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور کھیلوں کی دنیا کی اس عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے والوں میں امریکی صدر براک اوباما، برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن، معروف موسیقار سر پال میکارٹنی، باکسنگ کی دنیا کے مشہور نام جارج فورمین، مائیک ٹائسن اور فلوئیڈ مےویدر کے علاوہ گالف کے سابق عالمی چیمپئن ٹائیگر وُڈز بھی شامل ہیں۔

صدر براک اوباما کے بقول ’علی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔‘

سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے محمد علی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’محمد علی نہ صرف رنگ میں چیمپیئن تھے، وہ شہری حقوق کے بھی چیمپیئن اور بہت سے لوگوں کے لیے رول ماڈل تھے۔‘

امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے محمد علی کو ان الفاظ میں یاد کیا کہ ’جب انھوں نے سنہ 1960 میں اولمپک گولڈ میڈل جیتا تو باکسنگ کے شائقین کو پتہ چل گیا تھا کہ وہ خوبصورتی اور انداز، رفتار اور قوت کا وہ امتزاج دیکھ رہے ہیں جو دوبار دیکھنے کو نہیں ملے گا۔‘

مشہور فٹبالر پیلے نے کہا کہ کھیل کی دنیا کو عظیم نقصان ہوا ہے جبکہ جارج فورمین کا کہنا تھا کہ ’محمد علی آپ کو مجبور کر دیتے تھے کہ آپ ان سے پیار کرنے لگیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

جارج فورمین کا مزید کہنا تھا: ’ وہ ایک بہترین شخص تھے، آپ باکسنگ کو بھول جائیں، وہ ٹی وی اور میڈیا پر آنے والے دنیا کی بہترین شخصیات میں سے ایک تھے۔‘

واضح رہے کہ محمد علی نے سنہ 1974 میں ہونے والے باکسنگ کے معروف مقابلے ’دی رمبل ان دی جنگل‘ میں جارج فورمین کو شکست دی تھی۔

باکسنگ کے ایک اور سابق عالمی چیمپیئن مینی پیکیاؤ نے محمد علی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ’ ہم ایک بڑی شخصیت سے محروم ہو گئے ہیں۔ محمد علی کی صلاحیتوں سے باکسنگ کو فائدہ پہنچا، لیکن اتنا نہیں جتنا انسانیت کو ان سے فائدہ پہنچا۔‘

اسی بارے میں