محمد عامر کو برطانیہ کا ویزا مل گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 24 سالہ محمد عامر سپاٹ فکسنگ کے جرم میں پانچ سال کی پابندی کاٹنے کے بعد گذشتہ برس عالمی کرکٹ میں واپس آئے ہیں

پاکستان کے کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر کو برطانیہ کا ویزا جاری کر دیا گیا ہے۔

پی سی بی کے ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ برطانوی حکام نے محمد عامر کو ویزے کے اجرا کی تصدیق کی ہے اور وہ اب قومی ٹیم کے ہمراہ ہی انگلینڈ جائیں گے۔

٭محمد عامر پاکستانی کرکٹ کا مستقبل ہے: وسیم اکرم

پاکستان کی کرکٹ ٹیم چار ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور ایک ٹی 20 میچ کھیلنے کے لیے رواں ماہ انگلینڈ جا رہی ہے تاہم دورے کا باقاعدہ آغاز 14 جولائی سے ہوگا۔

انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے جس 17 رکنی سکواڈ کا اعلان کیا گیا تھا محمد عامر کا نام اس میں شامل تھا تاہم ان کی شمولیت کو ویزے کے اجرا سے مشروط کیا گیا تھا۔

پاکستان کے کرکٹ بورڈ نے محمد عامر کے ویزے کے لیے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ سے بھی رابطہ کر کے اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔

24 سالہ محمد عامر سپاٹ فکسنگ کے جرم میں پانچ سال کی پابندی کاٹنے کے بعد گذشتہ برس عالمی کرکٹ میں واپس آئے ہیں۔

اس کے بعد سے انھوں نے پاکستانی ٹیم کے ہمراہ نیوزی لینڈ کا دورہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان کی کرکٹ ٹیم چار ٹیسٹ، پانچ ایک روزہ اور ایک ٹی 20 میچ کھیلنے کے لیے رواں ماہ انگلینڈ جا رہی ہے

تاہم ان کے برطانوی ویزے کی درخواست کا معاملہ اس لیے خبروں میں تھا کیونکہ برطانوی قوانین کے تحت محمد عامر کے ملک میں مجرمانہ ریکارڈ کے باعث ان کے ویزے کی درخواست مسترد کی جا سکتی تھی۔

انگلینڈ کے تاریخی کرکٹ میدان لارڈز پر اگست سنہ 2010 میں کھیلے گئے ایک ٹیسٹ میچ میں جان بوجھ کر نو بال کرانے کے لیے پیسے لینے اور شرط لگانے میں دھوکہ بازی کے الزامات میں محمد عامر کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

محمد عامر کو برطانیہ کا ویزا جاری کرنے کے بارے میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکیٹو ڈیوڈ رچرڈسن کا بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ جب عامر سزا کاٹ چکے ہیں تو پھر کوئی اعتراض کرنے والا کون ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ محمد عامر اس بات پر آمادہ نظر آتے ہیں کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی مثال سے سبق سیکھنے کا کہیں گے۔

اسی بارے میں