’لوگ محمد علی کی طرف کھنچے چلے آتے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ کی ریاست کینٹکی میں باکسر محمد علی کے مداح اور دیگر افراد ان کے آبائی شہر لوئی ول میں دعائیہ تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔

پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کا کہنا ہے کہ محمد علی میں ناقابل شکست ہونے کی خود اعتمادی انھوں نے آج تک کسی دوسرے باکسر میں نہیں دیکھی۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹریو میں سابق لائٹ ویٹ عالمی چیمپئین کا کہنا تھا کہ وہ محمد علی ہی تھے جن کی باکسنگ رنگ میں آمد اور پے در پے فتوحات سے یہ کھیل بےانتہا مقبول ہوا۔

خیال رہے کہ عظیم باکسر محمد علی گذشتہ جمعے 74 سال کی عمر میں چل بسے تھے اور ان کی آخری رسومات جمعے کو امریکی ریاست کینٹکی میں ان کے آبائی شہر لوئی ول میں ادا کی جا رہی ہیں اور دعائیہ تقریب میں محمد علی کے ہزاروں مداح شرکت کر رہے ہیں۔

عامر خان کا کہنا تھا کہ انھیں زندگی میں دو بار محمد علی ملنے کا شرف حاصل ہوا اور انھیں قریب سے دیکھنے نے ان کے اعتماد میں بےحد اضافہ کیا۔

Image caption محمد علی کی شخصیت اور کرشمہ ایسا تھا کہ لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔

ان کے بقول محمد علی کی شخصیت اور کرشمہ ایسا تھا کہ لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔

عامر خان کا جو آج تک محمد علی کی فائٹس دیکھتے ہیں، کہنا تھا کہ محمد علی کی زندگی کے کئی پہلو ہیں، جہاں تک ان کی باکسنگ کا تعلق ہے تو انھوں نے اپنے کریئر بہت سی ناممکن فتوحات حاصل کیں۔

’وہ جب سونی لسٹن سے مدمقابل تھے تو انھیں کوئی گھاس تک نہیں ڈال رہا تھا۔ یہی توقع کی جا رہی تھی کہ لسٹن محمد علی کو باکسنگ رنگ میں تباہ کر دیں گے۔ لیکن انھوں نے لسٹن کو ہرا کر سب کو حیران کر دیا۔‘

عامر خان کے بقول جارج فورمین کے خلاف ناقابل یقین فتح اور جو فریزر اور کن نوٹون کے خلاف ان کی شاندار فائٹس باکسنگ کے شائقین کے لیے ناقابل فراموش ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عامر خان کے بقول جورج فورمین کے خلاف ناقابل یقین فتح اور جو فریزر اور کن نوٹون کے خلاف ان کی شاندا فائٹس بکسنگ کے شائقین کے لیے ناقابل فرموش ہیں۔

محمد علی باکسنگ کے میدان سے باہر اپنے جارحانہ بیانات کے لیے بھی اکثر موضوع بحث رہے خصوصا نسل پرستی اور سیاہ فام آبادی کے ساتھ امتیازی سلوک پر اپنے خیالات کے کھلے اظہار پر وہ اکثر شہ سرخیوں میں آئے۔

محمد علی کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی کئی کہاوتیں شیئر کی گئیں جس پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی ٹی وی سیلیبریٹی پیئرز مورگن نے سفید فاموں کی بارے میں محمد علی کے خیالات کا امریکی صدارتی انتخابات کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں کے خلاف بیانات سے موازنہ کیا۔

پیئرز مورگن کو اپنی ٹویٹ پر خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption ’محمد علی نے نسل پرستی پر جو 25 سال قبل کہا تھا ان کے خیالات کی ایک سطر نکال کر اس پر بحث کرنا محمد علی سے ناانصافی ہے۔‘

اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں عامر خان کا کہنا تھا کہ محمد علی کی نسل پرستی کے خلاف خیالات پر ان کے بچپن اور لڑکپن کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں لیکن جیسے جیسے محمد علی عالمی افق پر چھاتے رہے ویسے ویسے ان کے خیالات میں تبدیلی آتی رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’محمد علی نے نسل پرستی پر جو 25 سال قبل کہا تھا ان کے خیالات کی ایک سطر نکال کر اس پر بحث کرنا محمد علی سے ناانصافی ہے۔‘

عامر خان لاس ویگس میں میکسیکو کے باکسر ساؤل کینیلو الواریس سے ہارنے کے بعد آرام کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایک چھوٹا سا آپریشن کروایا ہے اور اس وقت اپنے خاندان کے ساتھ رمضان گزار رہے ہیں لیکن مناسب وقت پر وہ اپنی اگلی فائٹ کا اعلان کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عامر خان لاس ویگس میں میکسیکو کے باکسر ساؤل کینیلو الواریس سے ہارنے کے بعد فی الحال آرام کر رہے ہیں