18 سال کی عمر میں 18 ادویات سے پابندی تک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ماریا شراپووا کا ٹرئیبونل کے سامنے کہنا تھا کہ ان کے والد روس میں ایک نامعلوم ذرائع سے میلڈونیم حاصل کرتے تھے

جس سال 17 سال کی عمر میں ماریہ شراپووا نے ومبلڈن جیتا تھا اس کے ایک سال کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ ماسکو کے سینٹر فار بائیوٹک میڈیسن گئیں۔

اس وقت انھیں زکام اور گلے میں انفیکشن کی شکایت رہتی تھی۔ انھیں جسم کے اوپر والے حصے میں درد تھا۔

ان کا معائنہ ڈاکٹر اناتولی سکالنی نے کیا، جنھوں نے ان میں منرل میٹابولزم ڈس آرڈر کی تشخیص کی اور علاج کے لیے میلڈونیم کا استعمال تجویز کیا۔

٭ شراپووا: سائبیریا سے ممنوعہ ادویات تک

٭ ماریہ شراپووا کا واپس آنے کا عہد

اس دوا کا استعمال ان کی تنزلی کا باعث بنا اور بالآخر بدھ کو ان کے خلاف 33 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا گیا، جس سے ان کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔

ڈاکٹر اناتولی سکالنی کے خیال میں شراپووا کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ ان کے جسم کو ضرورت کے مطابق غذائیت نہیں مل رہی تھی۔

ابتدائی طور پر انھیں 18 مختلف ادویات اور قوت بخش اجزا تجویز کیے گئے جن کی مارچ 2010 میں تعداد 30 تک پہنچ گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈاکٹر اناتولی سکالنی کے خیال میں شراپووا کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی

سنہ 2014 کے اختتام تک شراپووا نے فیصلہ کیا کہ اتنی مقدار میں گولیاں کھانے کا کوئی متبادل ضرور ہوگا اور انھوں نے ڈاکٹر کو مطلع کیا کہ وہ ان کے ساتھ مزید کام نہیں کرنا چاہتیں۔

انھوں نے ایک ماہر عذائیت کو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا، لیکن ڈاکٹر کی تجویز کردہ تین عناصر کا استعمال جاری رکھا۔

لیکن ان میں سے ایک میلڈونیم تھا لیکن شراپووا نے اس بارے میں تشہیر نہیں کی۔ صرف ان کے والد اور ان کے ایجنٹ اس بارے میں جانتے تھے۔

29 سالہ شراپووا کی اپنی گواہی کے مطابق انھوں نے 2015 میں اس بارے میں صرف روس کی اولمپک ٹیم کے ڈاکٹر سرگئی یانتسکی کو بتایا تھا۔

ان کے کوچ، ٹرینر، فزیوتھیراپسٹ اور ماہرغذائیت کو اس بارے میں علم نہیں تھا۔ ان کے بارے میں انھوں نے ویمن ٹینس ایسوسی ایشن کے طبی عملے کو بھی نہیں بتایا تھا۔

اگرچہ انھوں نے گذشتہ سال ڈوپنگ کنٹرول فارمز میں ادویات اور وٹامنز کے استعمال کے بارے میں بتایا تھا لیکن ان میں میلڈونیم کا ذکر نہیں کیا۔

مقدمے کی سماعت سے قبل انھوں نے ٹرائیبونل پینل کو ایک خط میں تسلیم کیا کہ انھوں نےرواں سال 18، 20، 22، 24 اور 26 جنوری کو 500 ملی گرام کی میلڈونیم استعمال کی تھی اور انھیں دنوں میں انھوں نے آسٹریلین اوپن میں پانچ میچ کھیلے تھے۔

ٹرائیبونل کا کہنا تھا کہ ماریہ شراپووا نے اس دوائی کا استعمال غیردانستہ طور پر کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹرائیبونل کا کہنا تھا کہ ماریا شراپووا نے اس دوائی کا استعمال غیردانستہ طور پر کیا تھا

یکم جنوری تک اس کا استعمال غیرقانونی نہیں تھا۔ پینل نے قبول کیا کہ شراپووا کے خیال میں اس کا استعمال ممنوع نہیں تھا اور انھوں نے اس سال کے آغاز میں اس کا استعمال کیا تھا، چنانچہ ان کی جانب سے یہ اقدام غیردانستہ تھا۔

آزاد ٹرائیبونل کی 33 صفحات پر مشتمل رپورٹ شراپووا کے زیراستعمال ادویات کی قانونی حیثیت جانچنے میں ناکامی جیسے حیرت انگیز پہلو کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔

سنہ 2016 میں میلڈونیم کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے بارے میں کھلاڑیوں کو بذریعہ ای میل اور دیگر ذرائع کے ذریعے مطلع کیا گیا تھا۔

تاہم ماریہ شراپووا نے خود تسلیم کیا کہ انھوں نے اس حوالے سے کچھ نہیں پڑھا، نہ آئی ٹی ایف کی ویب سائٹ یا مزید معلومات کے لیے فراہم کردہ والٹ کارڈ سے رجوع کیا۔

ان کے ایجنٹ میکس ایسنبڈ نے الزام اپنے سر لینے کی کوشش کی۔

انھوں نے ٹرائیبونل کو بتایا کہ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے قواعد کے مطابق شراپووا کی ادویات اور قوت بخش عناصر کے استعمال پر نظر رکھنا ان کی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی۔

میکس ایسنبڈ نے تفصیلات بتائیں کہ کس طرح انھوں نے یہ عادت بنا لی کہ نومبر میں کیریبیئن میں چھٹیوں کے دوران وہ آئندہ سال ممنوعہ قرار دی جانے والی ادویات کی فہرست کا پرنٹ نکال پر اپنے ساتھ رکھتے تھے۔

تاہم سنہ 2015 میں وہ چھٹیوں پر نہیں گئے کیونکہ میکس ایسنبڈ اور ان کے اہلیہ کے درمیان حال ہی میں علیحدگی ہوئی تھی اور انھوں نے اس دستاویز کا مطالعہ نہیں کیا۔

ٹرائیبونل کی جانب سے اس بیان کو مسترد کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شراپوورا کا یہ مؤقف کہ اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں ہے ٹرائیبونل نے رد کر دیا تھا

ماریہ شراپووا کا ٹرائیبونل کے سامنے کہنا تھا کہ ان کے والد روس میں ایک نامعلوم ذرائع سے میلڈونیم حاصل کرتے تھے لیکن وہ اس کا نمونہ پیش نہیں کر سکیں۔

ان کا یہ مؤقف کہ اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں ہے ٹرائیبونل نے رد کر دیا۔

اگرچہ اس سماعت کی تحریری رپورٹ ماریہ شراپووا کے لیے تضحیک آمیز ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ کورٹ آف آربیٹریشن فار سپورٹس نرم رویہ اختیار کرے۔

گذشتہ تین برسوں میں کروئیشیا کے مرین سیلک اور سربیا کے وکٹر ٹروئیسکی پر غیرممنوعہ ادویات کے استعمال پر عائد پابندی میں کورٹ آف آربیٹریشن فار سپورٹس نے کمی کی ہے۔

شراپووا کا اگلا قدم یہی ہوسکتا ہے۔

تاہم اگر وہ ناکام ہوجاتی ہیں تو وہ خاتون جس نے 17 سال کی عمر میں ومبلڈن جیتا تھا 31 سال کی عمر تک کسی گرینڈ سلیم میں شرکت نہیں کرسکیں گی۔

اتنے طویل عرصے کے بعد کھیل میں دوبارہ نام پیدا کرنا ماریہ شراپووا کا غیرمعمولی کارنامہ ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں