’افریقہ میں جانوروں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے‘

باکسر محمد علی نے 1964 میں یہ کہہ کر اپنا پہلا افریقی دورہ شروع کیا تھا کہ وہ اپنے افریقہ کو دیکھنا چاہتے ہیں اور اپنے بھائی بہنوں سے ملنا چاہتے ہیں۔ ان کا دورہ گھانا سے شروع ہوا جو یورپی طاقت سے آزادی حاصل کرنے والا پہلا ملک تھا۔

محمد علی نے کہا کہ مجھے اپنے لوگوں کو یہ بتانے میں بہت خوشی ہوگی کہ افریقہ میں شیروں اور ہاتھیوں کے علاوہ دیکھنے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے۔ انھوں نے کبھی بھی ہمیں آپ کے خوبصورت پھولوں، شاندار ہوٹلوں، خوبصورت گھروں، ساحلوں، ہسپتالوں، سکولوں اور یونیورسٹیوں کے بارے میں کبھی نہیں بتایا۔

ان کے دورے میں نائجیریا بھی شامل تھا جو افریقہ کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جہاں لوگوں نے ان کا خیر مقدم ’دنیا کے بادشاہ‘ کا نعرے لگا کرکیا۔

محمد علی کا یہ دورہ اس سال ہوا جو ان کے لیے بھی تاریخی سال تھا۔ اسی سال انھوں نے عالمی چیمپیئن بننے کے لیے سنی لسٹن کو شکست دی، اپنا غلامی والا نام تبدیل کرنے کے ساتھ اسلام قبول کیا۔

22 سالہ محمد علی نے مصر کا دورہ کر کے افریقہ میں نسلی تفریق کو ختم کیا۔

قاہرہ میں احرامِ مصر پر ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ بلند کرکے مذہب اور سیاست کو ہم آہنگ کیا

سنہ 1986 میں انھوں نے ایک بار پھر مصر کا دورہ کیا۔ ایک مرتبہ انھوں نے کہا تھا کہ اگر کسی باکسر کو بہت بڑا بننا ہے تو اسے مسلمان ہونا چاہیے ورنہ وہ انڈونیشیا، ایران، سعودی عرب، لبنان، پاکستان، مصر، ترکی، شام جیسے ممالک تک نہیں پہنچے گا۔

سنہ 1974 میں سابق زائر کے دارالحکومت کنشاسا کا دورہ سب سے کامیاب رہا۔ جو اب ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو ہے۔انھوں نے وہاں جارج فورمین کو شکست دی تھی۔

زائر کے حکمران موبوتو سیسی سکو نے اس مقابلے کا انعقاد کیا تھا جس کے بعد محمد علی کی مقبولیت دنیا میں مزید پھیل گئی۔

یہ مقابلہ مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے شروع ہوا۔ جس وقت محمد علی باکسنگ رِنگ میں داخل ہوئے تو لاکھوں لوگ انھیں ٹیلی وژن پر دیکھ رہے تھے اور وہاں موجود ساتھ ہزاروں تماشائی اپنی زبان میں ’علی ناک ہِم آؤٹ‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

محمد علی نے 1988 میں اسلام کے ذریعے امن کا پیغام پھیلانے کے لیے سوڈان کا دورہ کیا۔ چار سال پہلے ہی انھیں پارکنسن ہوا تھا۔ یہاں انھوں نے خرطوم میں صوفی مسجد میں نماز پڑھی۔

اسی بارے میں