’محمد علی فائٹ سے پہلے ہی جیت جایا کرتے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption 74 سالہ سابق باکسنگ چیمپیئن محمد علی گذشتہ جمعے کو انتقال کر گئے تھے

عظیم باکسر محمد علی نے دو بار پاکستان کا دورہ کیا تھا اور دونوں مرتبہ پاکستانی باکسروں اور کوچوں کو ان سے ملنے کا موقع ملا جسے وہ اپنی زندگی کا یادگار لمحہ سمجھتے ہیں۔

عبدالمجید قمبرانی نے 15 سالہ باکسر کی حیثیت سے سنہ 1989 کے سیف گیمز میں گولڈ میڈل جیتا تھا اور وہ اس بات کو اپنی خوش نصیبی سمجھتے ہیں کہ انھیں یہ گولڈ میڈل محمد علی نے پہنایا تھا۔

* ’لوگ محمد علی کی طرف کھنچے چلے آتے تھے‘

* حریفوں کو اشاروں پر نچانے کے ماہر

’میری خوشی کی انتہا نہ تھی جب محمد علی نے مجھے جیتنے پر مبارک باد دی میری تعریف کی اور مجھے گولڈ میڈل پہنایا۔‘

عبدالمجید قمبرانی کے بڑے بھائی یونس قمبرانی طویل عرصے سے کوچنگ سے وابستہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ محمد علی کو صرف باکسر کہہ دینا کافی نہیں ہے۔

’محمد علی دراصل ایک ماہر نفسیات تھے جو مقابلے سے پہلے ہی حریف باکسر کی کمزوریوں سے کھیلنا جانتے تھے اور اسے اپنے تیز طرار جملوں اور اپنی بذلہ سنجی سے حیران پریشان کر دیتے تھے۔ درحقیقت وہ فائٹ سے پہلے ہی فائٹ جیت لیا کرتے تھے۔‘

یونس قمبرانی کا کہنا ہے کہ محمد علی ایک مکمل باکسر تھے جن کی تکنیک اور سٹائل پاکستانی باکسر اپنانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔

’محمد علی چہرے پر ہاتھ رکھ دفاعی انداز میں لڑنا پسند نہیں کرتے تھے بلکہ ہاتھ کھول کر رنگ میں حرکت کرتے تھے۔ پاکستانی باکسروں نے اسی انداز کو اپنایا جس پر ان کے کیوبن کوچ خوش نہیں تھے لیکن جب عبدالمجید قمبرانی نے اسی انداز میں کھیلتے ہوئے حریف کو شکست دی تو وہ اس تکنیک کی اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔‘

علی بخش ایشین باکسنگ چیمپیئن شپ کے گولڈ میڈلسٹ باکسر ہیں جنھوں نے بعد میں کوچنگ اختیار کی اور حسین شاہ سمیت کئی باکسروں کی کوچنگ کی۔

علی بخش کا کہنا ہے کہ محمد علی نے باکسنگ کو نیا اسلوب دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمد علی سے پہلے باکسنگ کا کھیل کشتی معلوم ہوتا تھا اور باکسر روڈ فائٹر دکھائی دیتے تھے لیکن محمد علی نے فٹ ورک اور تکنیک سے اس کھیل میں دلچسپی پیدا کر دی: علی بخش

محمد علی سے پہلے باکسنگ کا کھیل کشتی معلوم ہوتا تھا اور باکسر روڈ فائٹر دکھائی دیتے تھے لیکن محمد علی نے فٹ ورک اور تکنیک سے اس کھیل میں دلچسپی پیدا کر دی۔

علی بخش بھی ان خوش قسمت افراد میں شامل ہیں جو محمد علی سے ملاقات کر چکے ہیں۔

’محمد علی سنہ 1987 میں پاکستان آئے تھے تو اس وقت باکسنگ کیمپ اسلام آباد میں جاری تھا۔ تمام باکسروں کو قائم مقام صدر غلام اسحق خان نے ایوان صدر میں مدعو کیا جہاں ہمیں محمد علی سے ملنے اور مختصر سی ملاقات کے باوجود بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا تھا۔‘

نوجوان خاتون باکسر انعم قمبرانی بھی اپنے بڑوں کی طرح محمد علی کے مداح ہیں لیکن وہ محمد علی کی بیٹی لیلیٰ علی سے بے حد متاثر ہیں۔

’میں نے محمد علی اور لیلیٰ علی دونوں کی فائٹس دیکھی ہیں اور ان سے سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں میری خواہش ہے کہ میں لیلیٰ علی کے ساتھ فائٹ کروں ان سے ملوں اور ان سے کہوں کہ مجھے یہ بتائیں کہ میں اپنی باکسنگ میں کیسے بہتری لا سکتی ہوں۔‘

اسی بارے میں