یورو 2016: سپین نے جمہوریہ چیک کو شکست دے دی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سپینش کھلاڑیوں نے کھیل کی رفتار تیز رکھی اور بال کو زیادہ تر چیک رپبلک کے ہاف میں ہی رکھا۔

فرانس میں جاری یورو فٹبال مقابلوں کے گروپ ڈی کے ایک میچ میں سپین نے کانٹے کے مقابلے کے بعد جمہوریہ چیک کو ایک گول سے ہرا دیا ہے۔

سپین کی طرف سے جیرارڈ پیکے نے 87ویں منٹ میں انئیسٹا کے پاس پر ہیڈر کے ذریعے واحد گول کر کے سپین کو اپنے پہلے گروپ میچ میں کامیابی دلائی۔

اس سے قبل سپین نے میچ کے ابتدائی لمحات سے ہی گیند کو اپنے قبضے میں رکھا اور چیک کھلاڑیوں کو کھیل پر حاوی نہیں ہونے دیا۔

سٹار ہسپانوی مڈفیلڈر فیبریگاس نے سٹرائیکروں کے لیے کئی مواقع پیدا کیے تاہم پہلے 20 منٹ تک ہسپانوی کھلاڑی اس کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔

ہسپانوی کھلاڑیوں کے گول نہ کرنے میں ان کے فنشنگ مسائل کا زیادہ کردار تھا۔ راموس اور موراٹا دونوں کو دو سے زائد مواقع ملے تاہم دونوں کھلاڑی اس کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔

28ویں منٹ میں انئیسٹا کے پاس پر موراٹا نے قدرے ہلکی کک ماری اور گیند گول کیپر کے ہاتھ سے ہوتی ہوئی بائیں جانب سے گول پوسٹ پار کر گئی۔ 40 ویں منٹ میں ہسپانوی کھلاڑیوں نے چیک گول پر یکے بعد دیگرے دو خطرناک حملے کیے۔

جورڈی البا نے بائیں جبکہ ڈیوڈ سلوا نے دائیں جانب سے اٹیک کیا جنھیں چیک گول کیپر پیٹر چیچ نے زبردست انداز میں روکا۔

45 ویں منٹ میں چیک سٹرائیکر تھامس نیسڈ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 20 گز کی دوری سے ہسپانوی گول پر حملہ کیا جسے سپین کے گول کیپر نے با آسانی روک لیا۔

ہسپانوی کھلاڑیوں نے کھیل کی رفتار تیز رکھی اور بال کو زیادہ تر چیک ٹیم کے ہاف میں ہی رکھا۔ تاہم پہلے ہاف کے اختتام پر دونوں ٹیمیں کوئی گول نہ کرسکیں۔ سپین کو پہلے ہاف میں چار جبکہ مخالف ٹیم کو دو کارنر ملے۔ دوسرے ہاف کا آغاز ایک بار پھر ہسپانوی حملوں سے ہوا اور ابتدائی دو منٹوں میں سپین نے دو حملے کیے اور تین کارنر حاصل کیے تاہم گول پھر بھی نہ ہو سکا۔ 62ویں منٹ میں چیک کھلاڑی لمبیزکی نے سپین کے کھلاڑی ڈیوڈ سلوا کو میدان کے دائیں جانب ٹچ لائن پر جارحانہ انداز میں ٹیکل کیا جس کے نتیجے میں ریفری نے انھیں تنبیہ کی اور پیلا کارڈ دکھایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سپین کے اس میچ کے بعد تین پوائنٹس ہیں اور گروپ ڈی میں ان کی کروئیشیا کے ہمراہ پہلی پوزیشن ہے۔

چیک کھلاڑیوں نے گیند کو اپنے قبضے میں رکھنے کی کوشش ضرور کی لیکن سپین کے کھلاڑی روائتی ’ٹیکی ٹاکا‘ یعنی چھوٹے چھوٹے اور تیزی سے پاس کرنے کے انداز میں کھیلتے رہے جو کہ چیک کھلاڑیوں کے لیے بہت تیز تھا۔ اس صورت میں چیک کھلاڑیوں نے کاؤنٹر اٹیک یعنی جوابی حملوں پر انحصار کیا۔

64ویں منٹ میں چیک رپبلک کے سٹرائکر رومن ہبنوک نے سپین کے گول پر میدان کے بیچ سے تیزی سے خطرناک حملہ کیا تاہم سٹار کھلاڑی فیبریگاس نے گیند کو گول میں جانے سے پہلے آخری لمحات میں روک کر گیند کا رخ موڑ دیا۔

77ویں منٹ میں سپین کو کارنر ملا تاہم سرجئیو راموس کا ہیڈر چیک کیپر پیٹر چیچ کے بائیں جانب سے کوسوں دور نکل گیا۔ چیک ڈیفینڈرز نے میچ کے اختتامی لمحات میں زبردست کھیل کا مظاہرہ کیا۔

سپین کو گول کرنے کے زیادہ تر مواقع اور حکمتِ عملی چیک ریپیبلک کے ڈیفنڈرز نے ناکام بنائی جبکہ کچھ مواقع سپینش اٹیکرز نے خود ضائع کیے اور باقی معجزاتی طور پر ناکام ہوگئے۔ تاہم 87ویں منٹ میں جب انئیسٹا کے پاس پر جیرارڈ پیکے نے گیند گول کی طرف پھینکی تو نہ تو چیک ٹیم کو اس کے دفاعی کھلاڑی بچا سکے، نہ گول کیپر اور نہ ہی کوئی بیرونی طاقت۔

انئیسٹا کا پاس مڈ فیلڈ سے تھا اور پیکے گول کے قریب بائیں جانب پہلے سے کھڑے تھے، سب کچھ اتنا تیزی میں ہوا کہ چیک گول کیپر پیٹر چیچ گیند کی رفتار کا صحیح طور پر اندازہ نہ لگا سکے اور پیکے نے گیند ہیڈر کے ذریعے گول پوسٹ کے دوسری طرف نیٹ میں پھینک دی۔

میچ کی خاص بات چیک ٹیم کے ڈیفینڈرز کی قابلِ داد کارکردگی تھی۔ سپین کے اس میچ کے بعد تین پوائنٹس ہیں اور گروپ ڈی میں ان کی کروئیشیا کے ہمراہ پہلی پوزیشن ہے جبکہ جمہوریہ چیک بغیر کسی پوائنٹ کے تیسرے نمبر پر ہے۔

اسی بارے میں