فٹبال تشدد: فرانس میں 36 افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فرانس میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں بدھ کے روز کی گئی ہیں

فرانس میں ہونے والے یورو 2016 ٹورنامنٹ میں پولیس اور فٹبال کے شائقین کے درمیان ہونے والے تصادم کے بعد لیل کے شہر میں تقریبا 36 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

فرانس کی پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں بدھ کے روز کی گئیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسی دوران 16 افراد کو ہسپتال میں داخل بھی کرایا گیا ہے۔

بدھ کی رات کو پولیس نے مشتعل ہجوم کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ آگ لگانے پر پولیس نے انگلینڈ کے سینکڑوں مداحوں کا پیچھا کیا۔

یورپی فٹبال کی گورننگ باڈی یوئیفانے اس ہفتے کہا تھا کہ اگر مزید تشدد برپا ہوا تو روس کی ٹیم کو اس برس کے ٹورنامنٹ سے نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

ادارے نے یہ دھمکی روس اور انگلینڈ کے درمیان اختتام ہفتہ مارسے میں میچ کے بعد ہونے والے تشدد کے بعد دی تھی جس میں کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

فرانس کے حکام کا کہنا ہے کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں چھ کا تعلق روس سے ہے اور وہ مارسے میں ہونے والے تشدد میں بھی ملوث تھے۔

جبکہ پانچ افراد کو عوامی سطح پر شراب پینے کی وجہ سے گرفتار کیا گيا جو لندن سے آنے والی ایک ٹرین میں بیٹھے شراب نوشی کر رہے تھے۔

لیل میں انگلینڈ کے ایک مداح اولویئر لارک وردھی کا کہنا تھاکہ وہ اس وقت پھنس گئے جب پولیس نے ریلوے سٹیشن کے پاس جمع ہونے والے شائقین پر آنسو گيس کا استعمال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ، سلواکیا اور بعض مقامی مداحوں پر مشتمل وہاں زبردست بھیڑ جمع ہوگئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بدھ کی رات کو پولیس نے مشتعل ہجوم کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ آگ زنی کرنے کے لیے پولیس نے انگلینڈ کے سینکڑوں مداحوں کا پیچھا کیا

انھوں نے بتایا کہ ’وہاں سٹیشن کے باہر ہی روسی مداحوں کا زبردست ہجوم تھا جو مشکلات کھڑی کرنے کے انتظار میں تھا۔ بس یہ سب تباہی تھی جسے ہونا تھا۔ بالکل ایسے ہی جیسے کوئی زبردست شے پھٹنے کے لیے تیار ہو۔‘

ماہرین کے مطابق تشدد کئی سالوں سے روس کی فبٹال کا حصہ رہا ہے۔ تاہم گذشتہ ہفتے یورو فٹبال کپ سنہ 2016 میں روس اور انگلینڈ کے مداحوں کے درمیان میچ کے دوران فرانس کے شہر مارسے میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں نے روس کی غنڈہ گردی کو اجاگر کر کے رکھ دیا ہے۔

روس کی فٹبال یونین نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا تھا جبکہ وزیرِ کھیل نے اسے شرمندگی قرار دیا۔

اسی بارے میں