سلمان اور آصف انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے لیے ناقابل قبول

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان کا کہنا ہے کہ ’سپاٹ فکسنگ‘ میں سزایافتہ کرکٹرز سلمان بٹ اور محمد آصف کے بارے میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے حکام کو تحفظات تھے جس کا اظہار انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کیا تھا ۔

شہریارخان نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انگلینڈ کے دورے کے لیے پاکستانی ٹیم کے سلیکشن اور محمد عامر کے ویزے کے موقع پر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے سلمان بٹ اور محمد آصف کے بارے میں تحفظات ظاہر کیے تھے تاہم یہ دونوں کرکٹرز ٹیم میں منتخب نہیں ہوئے۔

واضح رہے کہ سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر 2010 کے انگلینڈ کے دورے میں سپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے جس پران تینوں کو لندن کی عدالت نے قید کی سزائیں سنائی تھیں اور آئی سی سی نے بھی ان پر کرکٹ کھیلنے کی پابندی عائد کردی تھی۔

یہ پابندی اب ختم ہوچکی ہے ۔ محمد عامر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی ہوچکی ہے اور اسوقت وہ پاکستانی ٹیم کے ساتھ انگلینڈ کے دورے پر ہیں۔

محمد عامر کو برطانیہ کا ویزا دلوانے میں شہریارخان کی سفارت کاری اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ سے ان کے اچھے تعلقات نے بھی اہم کردار ادا کیا اور سپاٹ فکسنگ میں سزا یافتہ فاسٹ بولر کو برطانیہ کا ویزا مل گیا جو عام حالات میں کسی سزا یافتہ کو نہیں ملا کرتا۔

شہر یار خان سے جب پوچھا گیا کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے تحفظات کا مطلب تو یہ ہوا کہ سلمان بٹ اور محمد آصف مستقبل میں پاکستانی ٹیم کے ساتھ انگلینڈ کا دورہ نہیں کرسکتے تو ان کا جواب تھا کہ جب ان دونوں کے سلیکشن کا معاملہ آئے گا اس وقت دیکھیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption تینوں کرکٹر سپاٹ فکسنگ کے جرم میں سزائیں پوری کر چکے ہیں

شہریارخان نے اگرچہ سلمان بٹ اور محمد آصف کے بارے میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے تحفظات کی مزید تفصیل نہیں بتائی لیکن ای سی بی کی دونوں کرکٹرز سے ناراضی کی بنیادی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان دونوں کرکٹرز نے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بعد ہونے والی تحقیقات میں تعاون نہیں کیا تھا اور آخر وقت اپنا جرم قبول نہیں کیا تھا ان کے برعکس محمد عامر نے اپنے جرم کا فوراً اعتراف کرلیا تھا۔

شہریارخان نے کہا کہ سلمان بٹ اور محمد آصف کو بحالی کے پروگرام میں رکھا گیا تھا جس کے بعد یہ دونوں قومی ون ڈے ٹورنامنٹ کھیلے تھے۔

یاد رہے کہ سلمان بٹ نے قومی ون ڈے ٹورنامنٹ میں سات میچوں میں ایک سنچری اور چار نصف سنچریوں کی مدد سے536 رنز بنائے تھے۔

محمد آصف نے اسی ٹورنامنٹ کے سات میچوں میں سات وکٹیں حاصل کی تھیں۔

سلمان بٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کا بحالی کا پروگرام مکمل کر چکے ہیں اور وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے لیے پراُمید ہیں۔

محمد آصف نے بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کی اُمیدیں نہیں چھوڑی ہیں اور وہ ان دنوں ناروے میں کلب کرکٹ کھیلنے میں مصروف ہیں۔