پاکستانی کھلاڑیوں کی مہارت ناقابل یقین ہے: مکی آرتھر

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر انگلینڈ پہنچ گئے ہیں یہ ان کی تیسری ٹیم ہے جس کی وہ اپنے ماضی کے تجربات کو استعمال میں لاتے ہوئے رہنمائی کریں گے۔

مکی آرتھر اس بات پر بضد ہیں کہ وہ پاکستان ٹیم کی کوچنگ اپنے طریقۂ کار سے ہی کریں گے۔

انھیں سنہ 2013 کی ایشز سیریز کے آغاز سے قبل ہی چیمپیئنز ٹرافی میں ناکامی پر آسٹریلیا کی کوچنگ سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ یہ ان کا انگلینڈ کا آخری دورہ تھا۔

٭ مکی آرتھر کیسے کوچ ہیں؟

٭ ’پاکستانی ٹیم میں خود غرض کھلاڑی نہیں چاہیے‘

اب مکی آرتھر ایک مرتبہ پھر انگلینڈ میں ہیں اور انھیں نیا چیلنج درپیش ہے اور وہ ہے ناقابل اعتبار پاکستانی کرکٹ ٹیم سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کروانا۔

دورۂ انگلینڈ پر جانے والی پاکستانی ٹیسٹ ٹیم میں فاسٹ بولر محمد عامر بھی شامل کیے گئے ہیں جو سنہ 2010 میں سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بعد پہلی مرتبہ آئندہ ماہ لارڈز میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کو تیار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مکی آرتھر سنہ 2013 کی ایشز سیریز کے آغاز سے قبل ہی چیمپیئنز ٹرافی میں ناکامی پر آسٹریلیا کی کوچنگ سے برطرف کردیا گیا تھا

مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ ’آپ ماضی میں جائیں اور تجزیہ کریں، میں نے لازمی طور پر بہت زیادہ تجربہ حاصل کیا ہے۔ لیکن میں نے اپنا سٹائل تبدیل نہیں کیا، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ آپ کے خیال میں کام کرنے کا جو صحیح راستہ ہے آپ اس پر یا اپنی اقدار اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں ہوم ورک گیٹ پر بات کرتے کرتے تنگ آچکا ہوں، اور جیسے اسے پیش کیا گیا وہ حقیقت سے بہت دور ہے۔

’جہاں تک ٹیموں کو چلانے کی بات ہے ، اس کے لیے راستے موجود ہیں۔ ایسے ہی آپ حقیقت میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔‘

پاکستانی ٹیم کے انگلینڈ کے خلاف کھیلی جانے والی چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے بارے میں مکی آرتھر بہت پر امید ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ماضی میں وہ جن ٹیموں کی کوچنگ کر چکے ہیں ان میں سے سب سے زیادہ فطری صلاحیتیں پاکستانی کھلاڑیوں میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی ٹیم کی مہارت ناقابل یقین ہے۔ دیگر ٹیموں میں کھیل کے حوالے سے جو چیزیں تھیں وہ فٹنس لیول، سہولیات اور نظم ضبط ہے۔‘

اسی بارے میں