ٹیم پر عامر کا دباؤ نہیں پڑنا چاہیے: راجہ

تصویر کے کاپی رائٹ pcb

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کے خیال میں ’سپاٹ فکسنگ‘ میں سزا یافتہ فاسٹ بولر محمد عامر کی موجودگی سے پاکستانی ٹیم دباؤ محسوس کرے گی جسے وہ اپنی کارکردگی سے دور کر سکتی ہے ۔

واضح رہے کہ سپاٹ فکسنگ میں سزا مکمل کرنے کے بعد محمد عامر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی ہو چکی ہے اور وہ اسوقت انگلینڈ کا دورہ کرنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل ہیں۔

محمد عامر اگر ان فٹ نہ ہوئے تو وہ یقینی طور پر چودہ جولائی سے لارڈز میں کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ کھیلیں گے۔

محمد عامر چھ سال قبل اسی لارڈز کے میدان میں اپنے دو دیگر ساتھی کرکٹرز سلمان بٹ اور محمد آصف کےساتھ سپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے جس پر انھیں لندن کی عدالت نے سزا سنائی تھی جبکہ آئی سی سی نے پانچ سالہ پابندی عائد کی تھی۔

رمیز راجہ نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ محمد عامر کی ٹیم میں موجودگی کی وجہ سے ہر کوئی انہی کی طرف دیکھ رہا ہے جس سے ٹیم کی توجہ ہٹ سکتی ہے ۔یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس سے راہ فرار اختیار نہیں کی جا سکتی ہے۔ ان حالات میں پاکستانی ٹیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی کارکردگی پر توجہ رکھے اور اس دباؤ سے بچے اور انگلینڈ میں سیریز جیتنے کے مقصد سے اپنی توجہ بٹنے نہ دے۔

پاکستانی ٹیم کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ محمد عامر کے بارے میں جو بھی شہ سرخیاں شائع ہوں وہ ٹیم پر اثرانداز نہ ہو۔

رمیز راجہ نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ پاکستانی ٹیم اپنے مقصد سے نہیں ہٹے گی کیونکہ اس ٹیم میں استحکام نظر آتا ہے اور وہ ٹیسٹ کرکٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اسی اچھی کارکردگی سے وہ سپاٹ فکسنگ کا داغ بڑی حد تک دھونے میں کامیاب ہوئی ہے۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے دورے میں ٹیم منیجمنٹ پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام کھلاڑیوں اور خصوصاً محمد عامر کو ذہنی طور پر تیار رکھے کہ ان سے سپاٹ فکسنگ سے متعلق سوالات ہو سکتے ہیں ان سے کیسے نمٹا جائے لیکن اس دورے میں محمد عامر کو کسی شدید ردعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ وہ شہ سرخیوں میں ضرور ہوں گے لیکن ان کی شدید مخالفت نہیں ہوگی۔

رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ محمد عامر کو اپنے کیرئر کو دوبارہ شروع کرتے ہوئے کرکٹرز اور کرکٹ بورڈ کی ہمدردی حاصل ہو چکی ہے لیکن گیند اب محمد عامر کے کورٹ میں ہے کہ وہ اپنے کھیل سے زیادہ اپنے طرز عمل سے صورتحال کا کیسے سامنا کرتے ہیں۔

رمیز راجہ نے کہا کہ ذاتی طور پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو بھی کرکٹر منفی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہو اسے دوبارہ ملک کی نمائندگی نہیں کرنے دینی چاہیے لیکن وہ کرکٹ بورڈ میں نہیں ہیں اور اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اس بارے میں کوئی فیصلہ دے سکیں۔

رمیز راجہ نے2010 ء کے انگلینڈ کے دورے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ لمحہ یقیناً ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔چونکہ اس دورے میں وہ واحد پاکستانی کمنٹیٹر تھے لہذا ہر کوئی انہی سے سوال کر رہا تھاجس کا جواب دینا آسان نہ تھا۔

اسی بارے میں