جرمنی سیمی فائنل میں، اٹلی کی گھر واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جرمنی نے پنلٹی ککس پر اٹلی کو ہرا سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے

فرانس میں ہونے والے یوروکپ کے تیسرے کواٹر فائنل میں جرمنی نے پنلٹی شوٹ آؤٹ پر اٹلی کو پانچ کے مقابلے میں چھ گول سے ہرا کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔

ایکسٹرا ٹائم کے خاتمے پر میچ ایک ایک گول سے برابر تھا۔

دونوں ٹیموں نے پانچ مقررہ پنلٹی ککس پر دو دو پنلٹی ککس مس کیں جس کے بعد میچ ’سڈن ڈیتھ‘ مرحلے میں داخل ہوگیا۔ دونوں ٹیموں نے کل نو نو پنلٹی ککس لگائیں جس پر جرمن ٹیم نے چھ گول کیے جبکہ اٹلی پانچ گول کر سکا۔

تیسرے کواٹر فائنل کی لمحہ بہ لمحہ صورتحال

جرمنی کی طرف سے میسو اوزل، شوان سٹائیگر اور تھامس ملر نے پنلٹی ککس ضائع کیں جبکہ اٹلی کی طرف سے لیوررناڈو بنوچی، گرازینو پیلا ، سیمون زازا اور میٹیو ڈارمین پنلٹی کک پر گول نہ کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تھامس ملر نے پنلٹی کک پر گول نہ کر سکے

اس طرح جرمنی نے بالآخر پہلی بار اٹلی کو ورلڈ کپ یا یورو کپ کے کسی مقابلے میں شکست دے دی۔ اس سے قبل آٹھ مقابلوں میں چار بار اٹلی فاتح رہا جبکہ چار میچ برابری پر ختم ہوئے تھے۔

میچ کے پہلے ہاف میں کوئی ٹیم بھی گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی تھی۔

دوسرے ہاف کے 64ویں منٹ میں میسو اوزل نے شاندار گول کر کے جرمنی کو برتری دلا دی۔ پہلے گول کے چند منٹ بعد جرمنی کو گول کرنے کا ایک اور موقع ملا جب ماریو گومز نے گیند کو گول میں پھینکنے کی کوشش کی لیکن اٹلی کے گول کیپر نے انتہائی شاندار انداز میں گیند کو گول سے باہر پھینک دیا۔

پہلے گول کے بعد جرمن ٹیم نے اٹلی کے گول پر تابڑ توڑ حملے کیے لیکن اٹلی کے 38 سالہ گول کیپر بوفان نے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہے۔ بوفان نے جس انداز میں ماریو گومز کی کک کو گول سے باہر پھینکا اس سے لگتا ہے کہ وہ اگلے کئی برسوں تک میدان میں نظر آتے رہیں گے۔

جرمن حملے پسپا کرنے کے بعد اٹلی نے جب جرمنی کے ہاف کا رخ کیا تو پنلٹی ایریا میں گیند جرمنی کے دفاعی کھلاڑی جیروم بوٹنگ کے بازو سے ٹکرائی گئی جس پر ریفری نے اٹلی کو پنلٹی کک دی جسے لیونارڈو بنوچی نے گول میں بدل کر میچ کو برابری پر لاکھڑا کیا۔

پہلے ہاف میں میچ اتنے پرامن انداز میں ہوا کہ دونوں ٹیموں کے کسی کھلاڑی کو ییلو کارڈ نہیں دکھایا گیا لیکن دوسرا شروع ہوتے ہی ریفری کو ایک کے بعد ایک کارڈ دکھانا پڑا اور چند منٹوں میں اٹلی کے تین کھلاڑیوں کو ییلو کارڈ دکھائے جا چکے تھے۔

جرمنی نے میچ کے آغاز سے گیند کو زیادہ وقت اپنے کنٹرول میں رکھا لیکن وہ اس غلبے کو گول میں بدلنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور اٹلی کے دفاعی کھلاڑی عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لیونارڈو بنوشی نے پنلٹی کک پر گول کر کے میچ برابر کر دیا

اٹلی کو ابتدائی پانچ منٹوں میں دو کارنر ملے لیکن جرمنی کے دفاعی کھلاڑیوں نے باآسانی اس خطرے کو ٹال دیا۔

ٹورنامنٹ میں عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرنے والے جرمن کھلاڑی سیمی قدیرا ابتدائی منٹوں میں زخمی ہو کر میدان سے چلےگئے اور ان کی جگہ شوان سٹائیگر کو میدان میں اتارا گیا۔ شوان سٹائیگر ایک بار گیند کو گول میں پھینکنے میں کامیاب رہے لیکن ان کی یہ کوشش بے سود رہی۔ آف سائیڈ ہونے کی وجہ سے گول قبول نہیں کیاگیا۔

اٹلی نے ہمیشہ کی طرح اپنے دفاعی کھیل پر توجہ دی اور جب بھی موقع ملا اپنے فارورڈ کو لمبا پاس کے جرمنی کے گول کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

اگرچہ دونوں ٹیموں کی جانب سے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا لیکن کہنا غلط نہ ہوگا کہ میچ میں زیادہ دیر جرمنی کا پلڑا بھاری رہا ہے۔

گذشتہ یورو کپ میں جرمنی اور اٹلی کا سیمی فائنل میں ٹکراؤ ہوا تھا جس میں اٹلی نے جرمنی کو پچھاڑ دیا تھا۔

اٹلی نے جس ٹیم کو میدان میں اتار اس میں کپتان گگی بوفان سمیت سات کھلاڑی ایسے تھے جن کو ٹورنامنٹ میں پہلے ییلو کارڈ دیکھایا جا چکا تھا۔