’شکست کے باوجود آئس لینڈ کا مستقبل تابناک ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اپنی ٹیم کے ميچز دیکھنے کے لیے تین لاکھ 30 ہزار کی آبادی والے ملک آئس لینڈ کی دس فی صد عوام فرانس میں موجود تھی

آئس لینڈ کی فٹبال ٹیم کے کپتان ایرن گنارسن نے کوارٹر فائنل میں میزبان فرانس کے ہاتھوں دو کے مقابلے پانچ گول سے شکست کے بعد کہا ہے کہ یہ ان کی ٹیم کا بین الاقوامی سطح پر ابھی صرف آغاز ہے۔

خیال رہے کہ آئس لینڈ نے کوارٹر فائنل میں پہنچنے کے لیے انگلینڈ کو شکست دی تھی اور اس طرح وہ کسی بڑے مقابلے کے فائنلز میں پہنچنے والا سب سے چھوٹا ملک بن گیا۔

گنارسن نے کہا: ’ہم مایوس تو ہیں لیکن ہمیں فخر ہے۔ یہ حیرت انگیز تجربہ تھا۔ اس کے لیے بہت محنت کی گئی اور مداح شاندار تھے۔ وہ اب تک گنگنا رہے ہیں۔ یہ ناقابل یقین ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کپتان گنارسن نے اپنی ٹیم کی حوصلہ ا‌فزائی کی

’سارے فرانسیسی جا چکے ہیں لیکن ہمارے مداح ابھی تک یہاں ہیں۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہم نے اس میں کیا کچھ لگایا ہے۔ پہلا نصف بہت خراب تھا، بریک کے بعد ہم نے بہتر کھیل پیش کیا۔۔۔ہم اس سے سیکھیں گے، ابھی تو ہمارا آغاز ہے۔‘

جبکہ آئس لینڈ کے کوچ لارش لاگربیک نے کہا: ’آئس لینڈ کا مستقبل واقعی تابناک نظر آتا ہے۔‘

پہلے نصف تک آئس لینڈ کے خلاف چار گول ہو چکے تھے۔ اولیویئر گیروڈ، پال پوگبا، دیمرتی پایٹ اور گریزمان نے گو ل کیے۔

دوسرے نصف میں آئس لینڈ نے بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا اور کولبن سگتھورسن اور برکر برناسن نے گول کیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آئس لینڈ کے کوچ لارش لاگربیک نے کہا کہ آئس لینڈ کا مستقل واقعی تابناک نظر آتا ہے

اب ان کی توجہ کا مرکز روس میں سنہ 2018 میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنا ہے جو کہ ان کے لیے پہلا موقع ہوگا۔ اس گروپ میں ان کا مقابلہ کروئیشیا، یوکرین، فن لینڈ، ترکی اور کوسووو کے ساتھ ہے۔

سوانسی کے مڈ فیلڈر گلفائی سیگرڈسن نے کہا: ’دس پندرہ کھلاڑی واقعی اپنی اچھی عمر میں ہے اور ہم ورلڈ کپ کے لیے پرامید ہیں۔ امید کہ آئس لینڈ کا مستقبل تابناک ہے۔

’ہمیں بہت فخر ہے۔ یہ ٹورنامنٹ بہت شاندرا رہا، ہماری جیسی چھوٹی ٹیم کے لیے یہ بہت اہمیت کا حامل تھا، ہم سے کسی کو ایسی توقع نہیں تھی لیکن ہم نے شاید بہت کچھ حاصل کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آئس لینڈ کے مداح شکست کے باوجود میدان میں جمے تھے

انھوں نے مزید کہا: ’اس سے ملک میں بچوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ اس طرح کی چیزیں ممکن ہیں اور امید کہ ہم دوسرے فائنلز میں پھر آئیں گے۔‘

کہا جاتا ہے کہ اپنی ٹیم کے ميچز دیکھنے کے لیے تین لاکھ 30 ہزار کی آبادی والے ملک آئس لینڈ کی دس فی صد عوام فرانس میں موجود تھی۔

اسی بارے میں