سامبا ڈانس کےذریعے بیڈمنٹن سکھانے کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ

سیبیسٹیئن اولیویرا یتیم خانے میں پلے بڑھے اور 18 سال کی عمر تک انھوں نے بیڈمنٹن کے بارے میں سنا تک نہیں تھا۔ لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ کیسے اس ریکٹ اور شٹل کاک کے کھیل میں برازیل کے روایتی ڈانس سامبا کی مدد سے بہتری لائی جا سکتی ہے تو انھوں نے ملک کے بعض مایہ ناز ایتھلیٹس کو تربیت دینے کی ترکیب تلاش کر لی جو اب اولمپکس میں جیت کے لیے پر امید ہیں۔

پہلی نظر میں تو بیڈمنٹن اور سامبا ڈانس میں کوئی چیز مشترک نہیں دکھائی دیتی۔

لیکن ریو اولمپکس میں حصہ لینے والے برازیل کے دو کھلاڑیوں کے کوچ سیبیسٹیئن اولیویرا نے یہ بات محسوس کی کہ برازیل کا ڈانس کلچر اس کھیل کی تیاری کے لیے مدد گار ہو سکتا ہے۔

اس کے بعد وہ بیڈمنٹن کورٹ میں ڈرمز اور سامبا شیکنگ لے آئے، یا یہ کہا جائے کہ وہ یہ چیزیں تربیتی سیشینز میں لے آئے جہاں ملک کے مایہ ناز کھلاڑی پریکٹس کرتے ہیں۔

تاہم یہ ایک آسان سفر نہیں تھا۔

سیبیسٹیئن اولیویرا کی زندگی کا آغاز انتہائی مشکل تھا، انھیں چھ سال کی عمر میں سرکاری یتیم خانے میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

ان کی والدہ ایک مقامی کام کرنے والی تھیں جو کہ ایک جج کے گھر میں بطور آیا کام کرتی تھیں۔ وہ فنابین فاؤنڈیشن میں دس سال تک رہے۔

سیبیسٹیئن اولیویراکا کہنا ہے کہ ’میری والدہ جن کے ہاں کام کرتی تھیں وہ مجھے ان کے گھر میں رہنے کی اجازت نہیں دیتے تھے اور انھوں نے ہی اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مجھے فنابین میں داخل کروایا۔ یہ چھوڑے ہوئے بچوں اور نوجوان مجرموں کی اصلاح کے لیے بنایا گیا ادارہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سات سال کی عمر سے 18 سال تک میں وہیں رہا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر یہ ان کے بچے کے ساتھ ہوتا تو وہ اس کے ساتھ کبھی ایسا نہ کرتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

سیبیسٹیئن نے 12 سال کی عمر میں اپنی ماں کے ساتھ پہلی چھٹی منائی، جب ان کی والدہ نے آخر کار بطور آیا کام کرنا چھوڑ دیا۔ وہ اپنے مالک کی جانب سے اپنے بچے سے ملنے کی درخواست کو مسلسل رد ہوتا دیکھ کر تھک چکی تھیں۔

انھوں نےایک چھوٹا سا مکان کرائے پر لیا اور اپنے بچے کی پرورش کرنے کے لیے کوڑا اٹھانے کی نوکری شروع کر دی لیکن اس کام کے لیے یہ پیسے کافی نہیں تھے۔

’یہ اس گلی میں سب سے غریب گھر تھا۔ میں اکثر چھٹیوں میں گھومتا اور سوچتا کہ کاش میں یہ وقت پتنگ اڑاتے اور فٹبال کھیلتے گزارتا، لیکن اس کے بجائے میں اپنی والدہ کے ساتھ کوڑے میں پھینکے ہوئے مچھلیوں کے سر تلاش کرتا تاکہ کھانے کا کچھ ہو سکے۔‘

سیبیسٹیئن نے وہ وقت یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم خوراک کے لیےگدھوں کو ہٹانا پڑتا تھا۔‘

اولیویرا اس وقت پریشان ہو گئے جب انھیں ایک استاد نے ریکٹ اور شٹل کاک تھمایا۔ وہ 18 سال کے تھے اور تازہ تازہ چلڈرن ہوم سے باہر آئے تھے اور انھوں نے کبھی بیڈمنٹن کے بارے میں نہیں سنا تھا۔

انھیں ایک سکول میں ملازمت مل گئی اور ایک استاد نے انھیں اس کھیل کے بارے میں بتایا۔

پہلی بار اس کھیل کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے اور آہستہ آہستہ وہ جو بھی پیسے کماتے اسے بیڈمنٹن میں لگا دیتے۔

انھیں خیال آیا کہ کھیل کے ذریعے محروم بچوں کو غربت اور جرائم سے روکا جا سکتا ہے۔

’میرے ذہن میں پہلے سے ہی ایک تیراکی کے حوالے سے ایک سماجی منصوبہ شروع کرنے کا خیال تھا کیونکہ میں فنابین میں تیراکی کیا کرتا تھا۔ میں بچوں پر اثر انداز ہونے والا کچھ کرنا چاہتا تھا۔ ہمارے آس پاس منشیات کا کام حاوی تھا۔ منشیات کا کام کرنے والے آٹھ سال کے بچوں کو اس کام میں شامل کر لیتے ہیں۔‘

’ہمیں ان تک منشیات ڈیلروں سے پہلے پہنچنے کی ضرورت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

انھوں نے اپنے چند دوستوں کو بلایا اور ایک بیڈمنٹن کورٹ بنانا شروع کیا جہاں وہ اب اپنی والدہ اور گھر والوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

’بچپن میں اپنی والدہ کے ساتھ رہنے کا موقع مجھے نہیں ملا لیکن اب میرے پاس ان کا خیال رکھنے کا موقع ہے۔‘

یہاں سبیسٹیئن نے میراٹس بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کا آغاز کیا۔

ٹیکنیکل سپروائزر اور اساتذہ میں سے ایک ایلگزینڈر کارلوس سلوا نے اس بارے میں کہا کہ ’میں اس پراجیکٹ کا آغاز سے ہی حصہ ہوں۔ یہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ تربیت کے بعد ہم سب یہیں ٹھرتے اور تعمیراتی کام کرتے۔‘

جیسے جیسے یہ پراجیکٹ آگے بڑھا اور مالی امداد آنے لگی تو اولیویرا اس منصوبے کو مزید پھیلانے کے قابل ہو گئے اور آج یہاں بیڈمنٹن کے چار کورٹس کے علاوہ کلاس رومز ہیں جہاں کمپیوٹر اور زبانیں سکھائی جاتی ہیں اور اس کے ساتھ تھیئٹر ورکشاپ کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔

سبیسٹیئن نے بتایا کہ ’ہمارے پاس یہاں دو سو سے زائد بچے ہیں جو بیڈمنٹن کھیلتے اور سیکھتے ہیں۔‘

آج اولیویرا کا یہ پراجیکٹ برازیل کا سب سے کامیاب بیڈمنٹن سینٹر ہے۔

لیکن بچوں کو کھیل میں مشغول رکھنا ایک مشکل کام ہے۔

غیر ملکی دوروں کے دوران براجیکٹ کے لیڈر نے بیڈمنٹن میں بہتر کھلاڑی بننے کے لیے جسم کے نچلے اعضا کی تربیت کروانے کی اہمیت کے بارے میں سیکھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اس کے بعد انھیں فٹنس میں بہتری لانے کے لیے تربیتی سیشنز میں سامبا متعارف کروانے کا خیال آیا۔

اس کھیل میں برازیل کی موسیقی کا تڑکا لگانے سے نہ صرف کاکردگی بہتر کرنے میں مدد ملی بلکہ تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔

اولیویرا نے اس کے بعد ’بیمن‘ ڈانس سٹائل متعارف کروایا جو ان کے خیال میں کسی بھی کھیل کو سکھانے میں استعمال ہو سکتا ہے۔

بیڈمنٹن میں برازیل کے بہترین کھلاڑی یگار کوہیلو ہیں جو کہ سبیسٹیئن کے بیٹے ہیں اور اولمپکس میں اپنے ملک کی نمائندے کرنے والے ہیں۔

رینکنگ کے لحاظ سے ایک اور بہترین خاتون کھلاڑی لوہیننی ویسنٹ ہیں جو اسی چاکریناہپراجیکٹ میں تربیت حاصل کر چکی ہیں۔

اولیویرا نے مزید بتایا کہ ’یہاں سے اولمپکس کے لیے بہترین کھلاڑی تیار کیے گئے ہیں اور صرف یہی نہیں ہم نے انڈر 13، انڈر 15، انڈر 17 اور انڈر 19 کیٹگری کے ٹاپ کھلاڑیوں کو بھی تربیت دی ہے۔‘

ایسا لگتا ہے کہ بیڈمنٹن میں ملک کا مستقبل کافی حد تک اس شخص کے ہاتھ میں ہے جنھوں نے ریو کے ایک پسماندہ بیڈمنٹن سکول کو سامبا کی تھوڑی سے مدد سے کھیلوں کی اعلیٰ کاکردگی کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے۔

اسی بارے میں