فرانس کا نیا ہیرو گریزمین

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈیڈیئر ڈیچیمپس کا کہنا تھا کہ ’ہم نے جوش دیکھا جب ہم نے لوگوں سے بات کی‘

فرانسیسی فٹبال ٹیم کے مینجر ڈیڈیئر ڈیچیمپس کا کہنا ہے کہ فرانس کے اپنی سرزمین پر یورو 2016 کے فائنل تک رسائی کرنے سے ملک میں عوام میں مسرت کا احساس دوبارہ اجاگر کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

جمعرات کی شب مارسے میں کھیلے گئے سیمی فائنل میں فرانس نے جرمنی کو 0-2 سے شکست دی تھی۔

ڈیڈیئر ڈیچیمپس کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس فرانسیسی عوام کے مسائل کو حل کرنے کا اختیار نہیں ہے لیکن ہم ان کے پریشانیوں کو کم کر سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بہت زیادہ جوش و خروش ہے۔ فرانس بھر میں آج رات بہت زیادہ خوشی ہے۔‘

گذشتہ سال نومبر میں دارالحکومت پیرس میں ہونے والے حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس ٹورنامنٹ کے دوران بھی سکیورٹی کے حوالے سے خدشات پائے جاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’آپ کو سٹیڈیم کے اندر اور باہر جوش دیکھتے ہیں، تو اس ٹیم میں وہ سب کچھ ہے جو پیار کے قابل ہے‘

دوسری جانب اس ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل فرانس کو لیبر اصلاحات کے بل کے باعث ہڑتالوں اور مظاہروں کا سامنا تھا جس میں 58 افراد گرفتار اور 29 پولیس اہکاروں سمیت 40 افراد زخمی ہوئے تھے۔

ڈیڈیئر ڈیچیمپس کا کہنا تھا کہ ’جب ہم نے لوگوں سے بات کی تو ہم نے ان میں جوش دیکھا۔‘

فرانس کی ٹیم یورو کپ کے فائنل میں اتوار کو پرتگال کا سامنا کرے گی۔ یہ میچ پیرس کے سٹیڈ ڈی فرانس سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جسے نومبر میں دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

’آپ سٹیڈیم کے اندر اور باہر جوش دیکھتے ہیں، تو اس ٹیم میں وہ سب کچھ ہے جو پیار کے قابل ہے، کھلاڑی میدان میں اچھی کارکرگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور مجھے اس بات پر فخر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انتوئن گریزمین نے جرمنی کے خلاف دونوں گول سکور کیے تھے

’فرانس کا نیا ہیرو گریزمین‘

’ہمارے پاس پھر سے ایک ہیرو ہے، ایک سٹرائیکر جو ہمیں ٹورنامنٹس جتوا سکتا ہے۔ پر امید۔ کیا کھلاڑی ہے۔‘

جب یہ الفاظ فرانس کی جانب سے سب سے زیادہ گول کرنے والے تھیئری ہنری کی زبان سے ادا ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کچھ خاص ہوا ہے۔

انتوئن گریزمین نے جرمنی کے خلاف دونوں گول سکور کیے تھے اور اس طرح اس ٹورنامنٹ میں ان کے کل گول چھ ہوگئے ہیں۔ جو کسی بھی کھلاڑی سے دگنے ہیں۔

گریزمین کہتے ہیں: ’ہم بہت خوش ہیں۔ ہم دس جولائی کے خواب دیکھنا شروع کر سکتے ہیں۔ ابھی ایک میچ رہتا ہے پھلنے پھولنے کے لیے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم فرانسیسی عوام کے لیے میچ جیتیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گریزمین اس ٹورنامنٹ میں چھ گول کر چکے ہیں

ہسپانوی کلب اٹلیٹیکو میڈرڈ کی نمائندگی کرنے والے گریزمین نے جرمنی کے خلاف پہلا گول پہلے ہاف کے آخری لمحات میں پنلٹی کک پر کیا تھا۔

25 سالہ سٹرائیکر کا کہنا تھا کہ ’میں نے چیمپیئنز لیگ کے فائنل میں اپنی پنلٹی مس کر دی تھی اور میں ایک اور اہم میچ میں پنلٹی لینا چاہتا تھا۔‘

’مجھے یہ فیصلہ لینے اور گول کرنے کی خوشی ہے۔‘

تھیئری ہینری کہتے ہیں: ’میں بہت جذباتی ہوں۔ ٹیم میں، اور مداحوں میں یکجہتی دیکھنا بہت عمدہ ہے۔‘

’گریزمین اہم شخص ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ انھیں اس قسم کا کھیل پیش کرنا تھا۔ جرمنی نے دو غلطیاں کیں لیکن انھوں نے اسے جال میں پھینک دیا۔‘

اسی بارے میں