انہونی جو فائنل میں ہوئی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

فرانس کے خلاف فائنل، وہ بھی پیرس میں اور مخالف ٹیم بھی وہ جس میں کوئی اور نہیں بلکہ دنیا کا سب سے مشہور کھلاڑی رونالڈو کھیل رہا ہو۔

سنہ 1998 میں ایک مشہور برازیلی کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہوا تھا جب وہ زخمی ہوگیا تھا اور چاہتے ہوئے بھی میدان میں وہ نہ کر سکا جو اس کی خواہش تھی۔

اتوار کی رات بھی کچھ ایسا ہی ہوا اور جب کھیل کے آغاز میں ہی زحمی ہونے کے بعد مشہور پرتگالی کھلاڑی کو میدان سے باہر جانا پڑا تو لگا کہ آج قسمت اس کے ساتھ بھی وہی کھیل کھیلنے جا رہی ہے جو برازیلی رونالڈو کے ساتھ کھیلا تھا۔

سنہ 1998 میں جب وہ رونالڈو زخمی ہو گئے تھے تو فرانس نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور میچ جیت لیا تھا۔ کل رات بھی لوگ یہی سوچنے لگے تھے کہ شاید تاریخ خود کو دھرانے جا رہی ہے۔

لیکن گزشتہ دنوں میں اس ٹورنامنٹ میں اتنی انہونیاں ہو چکی تھیں کہ کل رات ایک اور انہونی بھی ہونی تھی۔

کسے معلوم تھا کہ اس ٹورنامنٹ سے پہلے جو جرمنی کبھی بھی اٹلی کو (ناک آؤٹ مرحلے میں) نہیں ہرا پایا تھا وہ اس ٹونامنٹ میں یہ بھی کر گزرے گا۔اسی طرح اس سے پہلے نہ تو فرانس جرمنی کو شکست دے پایا تھا اور نہ ہی کبھی پرتگال نے فرانس کو ہرایا تھا۔

کل رات جب اضافی وقت کے بھی آخری منٹوں میں ایڈر نے میچ کا واحد گول کیا تو لگا کہ اس ٹورنامنٹ کے تین میچوں میں تین انہونیاں ہو گئیں۔

جب فائنل شروع ہوا تو حسب توقع اس ٹونامنٹ کی فیورٹ ٹیم، فرانس ہی کھیل پر چھائی نطر آ رہی تھی اور لگ یہی رہا تھا کہ وہ اپنے گولوں کی تعداد بڑھا کر ہی دم لیں گے۔

لیکن لگتا ہے کہ رونالڈو کا زخمی ہو جانا دونوں ٹیموں کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا، کیونکہ ان کے زخمی ہو جانے کے بعد فرانس کی جانب سے بھی اُس تیزی اور مومنٹم میں کمی آ گئی جس سے انھوں نے فائنل کا آغاز کیا تھا۔

ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ میزبان ٹیم کو سمجھ نہیں آ رہی کہ رونالڈو کے میدان سے چلے جانے پر ان کا رد عمل کیا ہونا چاہیے۔ اپنے سٹار سٹرائیکر کے چلے جانے کے بعد پرتگال نے خلافِ توقع دفاعی کھیل شروع کر دیا اور زیادہ توجہ اپنے ہاف پر مرکوز کر دی۔ اس حکمت عملی نے میچ کو برباد کر کے رکھ دیا۔ ہر کوئی مایوس ہو گیا کہ پرتگال کے پاس رونالڈو کی جگہ لینے والا کوئی نہیں ہے اور ان کی جانب سے اب کوئی بڑا حملہ نہیں ہو سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

لیکن لگتا ہے کہ اس میچ میں شائقین سے زیادہ جس شخص کو ابھی مایوس ہونا تھا وہ فرانس کے مینیجر ڈیڈئے ڈیشان تھے۔ پورے ٹورنامنٹ کے دوران ہر کوئی انھیں برا بھلا کہہ رہا تھا کہ وہ ہر میچ کا آغاز غلط ٹیم کے ساتھ کرتے ہیں اور پھر ہاف ٹائم پر انھیں مجبوراً ٹیم تبدیل کرنا پڑتی ہے۔

لیکن کل رات ڈیڈئے ڈیشان کو اس مسئلے کا سامنا ہاف ٹائم سے پہلے ہی اس وقت کرنا پڑ گیا جب رونالڈو میدان سے نکل گئے۔ فرانسیسی مینیجر کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ صورتحال سے کیسے نمٹیں۔ پال پوگبا، جو اِس موسم گرما میں دنیا کے سب سے مہنگے فٹبال کے کھلاڑی بن جائیں گے، میدان کے بائیں جانب اتنے پیچھے کھڑے تھے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جرمنی کے خلاف اِس پوزیشن پر کھیلتے ہوئے وہ بہت اچھے کھیل کا مظاہرہ کر چکے تھے لیکن یہ وہ میچ تھا جب فرانس خود دفاعی کھیل کھیل رہا تھا۔ کل رات پوگبا چھ کھلاڑیوں کے ساتھ اس دفاعی لائین کا حصہ تھے جو اپنے گول کے قریب کھیل رہی تھی۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈیشان کے پاس اس مسئلے کا حل نہیں تھا۔ وہ چاہتے تو نگولو کانٹے کو بلا لیتے اور وہ پگوبا کی جگہ کھیلتے اور پھر پگوبا آگے بڑھ کر پرتگال کے گول پر حملے کر سکتے تھے۔

لیکن ہوا یہ کہ ڈیشان نے کل رات ٹیم میں جو بھی تبدیلیاں کیں، ان کے مسئلے حل نہیں ہوئے۔ چاہے پرتگال نے جتنا بھی منفی کھیل کھیلا، فرانس کے پاس اس کا حل موجود تھا، لیکن ڈیشان کی ہر حکمتِ علمی ناکام گئی۔

اس بات کے امکانات کم ہی تھے کہ پرتگال کوئی گول کر سکے گا، لیکن ایڈر کے میدان میں آنے سے کھیل کا نقشہ بدل گیا۔ ان کے آنے سے پہلے پرتگال کی جانب سے جو بھی حملہ ہوا، وہ گول میں تبدیل نہیں ہو سکا کیونکہ پرتگالی کھلاڑیوں کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اگر کراس لگائیں تو آگے گول کون کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ایڈر کے آنے سے یہ مسئلہ حل ہو گیا اور ان کی شکل میں باقی پرتگالی کھلاڑیوں کو وہ سٹرائیکر مل گیا جو ان کے پاس پرگول کر سکتا تھا۔ لیکن اس تمام کے باجود، سٹیڈیم میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جو یہ سوچ رہا تھا کہ ایڈر جیسا غیر معروف کھلاڑی اتنی دور سے شاندار کِک لگائے گا اور گول کر دےگا۔

اس گول کا نتیجہ یہ نکلا کہ کافی دیر میدان کے کنارے کھڑے ایک لنگڑاتے ہوئے رونالڈو نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کی پہلی بڑی ٹرافی اٹھا لی۔

اگر آپ سوچیں کہ چند ہی ہفتے پہلے فٹبال کی دنیا میں ان کے سب سے بڑے مدمقابل لیونل میسی کو ایک فائنل ہارنے کے بعد خالی ہاتھ اور آنسوؤں کے ساتھ میدان سے رخصت ہونا پڑا تھا، تو کل رات کی فتح ایک ایسی فتح ہے جس کے لیے رونالڈو کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

یہ فتح جتنی اہم رونالڈو کے لیے ہے اتنی ہی تاریخی پرتگال کے لیے بھی ہے۔ کل رات سے پہلے پرتگال بہت سے سیمی فائنل کھیل چکا تھا اور کئی ٹورنامنٹس سے شکستہ دل کے ساتھ لوٹ چکا تھا۔ سب سے بڑا حادثہ تو سنہ 2004 میں ہوا تھا جب وہ اپنے ہی ملک میں فائنل میں یونان سے ہار گئے تھے۔

لیکن کل رات پرتگال کی باری تھی اور انھوں نے آخر کار پانسہ پلٹ دیا اور ایک نئی تاریخ رقم کر لی۔

اسی بارے میں