ابھی میں نے مزید اچھی ٹینس کھیلنی ہے: مرے

Image caption اینڈی مرے نے ومبلڈن کے فائنل میں کینیڈا کے میلوس راونک کو ہرا کر دوسری بار ومبلڈن کا ٹائٹل اپنے نام کیاہے

اتوار کو ومبلڈن کا ٹائٹل دوسری بار اپنے نام کرنے والے برطانوی ٹینس سٹار اینڈی مرے کے بقول وہ ابھی اپنے کیرئیر کے بہترین دور میں نہیں پہنچے ہیں۔

اینڈی مرے کا کہنا ہے کہ ’ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ابھی میں نے مزید اچھی ٹینس کھیلنی ہے اور میرے پاس مزید ٹورنامنٹس جیتنے کا موقع ہے۔‘ اینڈی کے مطابق ’ ہر کسی کو مختلف مراحل پر کامیابی ملتی ہے اور امید ہے کہ میری کامیابی کا دور بھی آنے والا ہے۔‘

اس سے قبل سابق برطانوی ٹینس کھلاڑی ٹم ہنمین کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اینڈی مرے دنیا کے نمبر ایک کھلاڑی بن سکتے ہیں۔

ٹم ہنمین کا کہنا ہے کہ ’ اینڈی اس جیت کو مستقبل میں مزید گرینڈ سلیم جیتنے کے لیے بنیاد کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ اینڈی مرے نے ومبلڈن کے فائنل میں کینیڈا کے میلوس راونک کو ہرا کر دوسری بار ومبلڈن کا ٹائٹل اپنے نام کیا ہے۔

29 سالہ اینڈی مرے نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حریف کو با آسانی سٹریٹ سیٹس میں شکست دے دی۔ اینڈی مرے نے پہلا سیٹ 6-4 دوسرا 7-6 اور تیسرا بھی 7-6 سے جیتا۔

اینڈی مرے 1935 کے بعد ایک سے زیادہ بار ومبلڈن ٹائٹل اپنے نام کرنے والے پہلے برطانوی کھلاڑی بن گئے ہیں۔

میچ جیتنے کے بعد بات کرتے ہوئے اینڈی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہوگئے تھے۔

اتوار کو کھیلے جانے والے فائنل میں اینڈی نے میچ کے آغاز سے ہی اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا اور اپنے حریف کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔

خیال رہے کہ یہ مرے کا 11 واں گرینڈ سلیم فائنل تھا اور نواک جوکوچ اور راجر فیڈرر کے ٹورنامنٹ سے باہر ہو جانے کے باعث یہ پہلا موقع تھا جب اینڈی مرے اس فائنل میں فیورٹ کی حیثیت سے حصہ لے رہے تھے۔

اسی بارے میں