لارڈز میں صبر کا امتحان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سچ بات تو یہ ہے کہ ہم جب بھی کرکٹ کھیلتے ہیں اس میں ہمیں ایک جیسی ہی دلکشی نظر آتی ہے، ایک ہی جیسا بہکاوا۔

دراصل یہ کھیل ہی ایسا ہے۔ اس میں برداشت کے طویل دور بھی ہوتے ہیں اور پھر ایک دم ایکشن۔ اور اس کھیل کی خوبی یہی ہے کہ یہ اپنے اندر بوریت کے طویل دور اور ڈرامائی لمحات کو بڑی خوبی سے سمو لیتا ہے۔ چاہے آپ اپنی گلی میں دوستوں کے ساتھ کھیل رہے ہوں، عین عید کے روز اپنے کزنوں کو پکڑ کر میچ شروع کر دیں، سکول کے فائنل میچ میں والدین کے سامنے کھیل رہے ہوں یا کرکٹ کا کوئی بین الاقوامی میچ ہو۔۔ اس کھیل کے بنیادی اجزا وہی رہتے ہیں۔

’انگلینڈ نے پاکستان کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا‘ *’صرف گھر کے شیر نہیں‘

ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اس کھیل کے اجزا وہی رہتے ہیں اور اگر کسی چیز کا فرق ہوتا ہے تو وہ ایک ہے، یعنی وقت۔

پورے پانچ دنوں پر پھیلا ہوا ٹیسٹ میچ کرتا یہ ہے کہ ان جذبات کو کھینچ کر بہت لمبا کر دیتا ہے جو گلی محلے اور سکول کے میچوں میں چند لمحوں، چند منٹوں میں گذر جاتے ہیں۔ اور پھر جب کرکٹ میچ کے یہ ’اجزائے ترکیبی‘ پانچ دنوں پر پھیل جاتے ہیں، تو چھوٹی چھوٹی چیزیں سامنے آنے لگتی ہیں اور دو دن بعد آپ سوچتے ہیں کہ وہ چیز اصل میں کس قدر اہم تھی۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری لارڈز ٹیسٹ کا تیسرا دن بھی اپنے اندر وہ تمام رومانس اور خوبصورتی لیے ہوئے تھا جو ٹیسٹ کرکٹ کا خاصا ہے۔ سارا دن دو اچھی ٹیمیں ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی کوشش کرتی رہیں اور جب جب ضرورت پڑی صبر اور بردباری کا دامن بھی تھامتی رہیں۔

دوسرے دن کی طرح آج بھی وہ ٹیم جو گذشتہ شام بیٹنگ کر رہی تھی، بالنگ سائیڈ نے اس کی اننگز جلد ہی لپیٹ دی اور وہ واپس پویلین چلی گئی۔ یوں انگلینڈ پاکستان سے 67 رنز کم پر آؤٹ ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز خراب کیا اور محمد حفیظ جلد ہی آؤٹ ہو گئے۔ اور پھر اس کے بعد پاکستان نے فیصلہ کیا کہ اب انتظار کرنا چاہیے۔

کرکٹ کے اس دور میں جب ٹوئنٹی ٹوئنٹی نے ٹیسٹ کرکٹ کو بھی پہلے کے مقابلے میں خاصا تیز کھیل بنا دیا ہے، وہاں مصباح کی ٹیم انتظار کرنے کی ماہر ہو گئی ہے۔

ٹیم کو معلوم ہو گیا ہے اگر وقت ان کے ہاتھ میں ہے تو پھر وہ ٹُک ٹُک بھی کرتے رہے تو کیا نقصان ہے۔ انگلینڈ کے تیز اٹیک کے خلاف انھوں نے متحدہ عرب امارات اور پھر انگلینڈ میں اپنی بہترین شارٹس کو ایک طرف رکھا اور سپنرز کی پٹائی کرنے سے پہلے تیز بولروں کو تھکاتے رہے۔

تیسرے دن بھی پاکستان نے اسی ترکیب پر عمل کرنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ مگر اعتماد سے کھیلنا شروع کر دیا۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم کو اتنی اچھی ٹیم بلا وجہ تو نہیں کہا جاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

گذشتہ چند برسوں میں متحدہ عرب امارات میں کھیلنے والی ٹیموں سے بہترین ٹیم انگلینڈ رہی ہے جس کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ انگلش ٹیم میں انتظار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اور آج بھی پاکستانی بلے بازوں کو کھیلنے پر اکسانے کی بجائے، انھوں نے بھی برداشت اور انتظار کا کھیلا۔

اس دوران انگلینڈ کے بولر وکٹوں پر سیدھی سیدھی گیندیں کراتے رہے اور یا تو رنز دیے ہی نہیں اور اگر دیے بھی تو بہت کم۔ اور پھر آخر کار اس دباؤ نے کام کر دیا اور ایک پورا سیشن کھیلنے کے باجود پاکستان نے تھوڑے ہی وقت میں تین وکٹیں گنوا دیں۔ پاکستان کی جھنجھلاہٹ یہ تھی کہ ان تینوں وکٹوں میں ان کے کپتان کا اس معین علی کے ہاتھوں آؤٹ ہونا بھی شامل تھا جن کے خلاف مصباح عموماً بڑے مزے سے چوکے لگاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی بلے بازوں میں شاید سب سے زیادہ صبر کا مظاہرہ یونس خان نے کیا۔ ایک ایسے بلے باز کی طرح بیٹنگ کرتے ہوئے جو بیٹنگ جانتا ہی نہیں، انھوں نے شاید اپنے کیریئر کی سب سے زیادہ بیزار کر دینے والی اننگز کھیلی۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ وہاں کریز پر کھڑے رہے اور اسد شفیق کو موقع دیا کہ وہ ایک مرتبہ پھر اپنی اننگز بنا سکیں۔ اور پھر یونس خان تبھی آؤٹ ہوئے جب انھوں نے اپنے واحد ساتھی کا ساتھ چھوڑا، یعنی اپنے صبر کا دامن چھوڑ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس وقت اننگلینڈ نے یقیناً یہی سوچا ہو گا کہ اب پاکستان کی اننگز کو ختم کرنے کا اچھا موقع ہاتھ آ گیا ہے کیونکہ وہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان کے آخری بلے باز خاصے کمزور ہیں۔

لیکن بیٹنگ کے لیے آنے والے اگلے کھلاڑی سرفراز احمد نے بیٹنگ ایسے شروع کی جیسے انھوں نے صبر کا لفظ کبھی سنا ہی نہ ہو۔ انھوں نے پاکستانی اننگز میں ایک نئی جان ڈال دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اور پھر جلد ہی بے چارے شفیق ایک میچ میں اپنی دوسری نصف سینچری سے ایک رنز کم پر آؤٹ ہو گئے۔ آج کوئی بھی دوسرا پاکستانی بلے باز اتنا پر اعتماد نظر نہیں آیا جتنا کراچی کا یہ کھلاڑی جس نے اپنے باقی ساتھیوں کے برعکس اس فکر کو اپنا پاس پھٹکنے نہیں دیا کہ اگر میں نے یہ شارٹ کھیلی تو سلپ میں کیچ ہو جاؤں گا۔

یہ بات انگلینڈ کے لیے خاصی پریشان کن ثابت ہوئی کہ جس وقت ان کا خیال تھا کہ اب کھیل ان کے ہاتھ میں آ گیا ہے، پاکستان نے مزاحمت کرنا شروع کر دی۔ اور اس مرتبہ ان کو زخم لگانے والا کھلاڑی وہ تھا جس کی بولنگ انھیں پہلے ہی اذیت دے چکی تھی۔ یاسر شاہ نے تیسرے دن کا اختتام 30 رنز پر کیا اور وہ ابھی آؤٹ نہیں ہوئے، اور اگر آپ پِچ کی صورتِ حال کو سامنے رکھیں تو لگتا ہے کہ یاسر شاہ کو اس میچ میں ابھی مزید لطف آتا رہے گا۔

انگلینڈ کی جانب سے آج کرس ووکس نے گیند پر زبردست کنٹرول کا مظاہر کیا اور مزید پانچ وکٹیں لے کر اس میچ میں اپنی وکٹوں کی تعداد 11 کر لی۔ انگلینڈ نے یہ بھی دکھا دیا کہ جب اگلے ٹیسٹ میں جمی اینڈرسن اور سٹوکس واپس آ جائیں گے، تو شاید ان ان کے پاس وہ بولنگ آ جائے کہ جو پاکستان کو واقعی پریشان کر دے۔

اور جہاں تک اس میچ کا تعلق ہے تو یہ کہنا بہت قبل از وقت ہو گا کہ کون جیتے گا۔

میرا خیال ہے ہمیں بھی صبر کرنا پڑے گا۔

اسی بارے میں