ہر بار جادوئی گیند سے وکٹ نہیں ملتی: مصباح الحق

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ٹاپ کرکٹ دراصل مائنڈ گیم ہے: مصباح الحق

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق فتح گر لیگ سپنر یاسر شاہ کے بارے میں انگلینڈ کے کپتان الیسٹر کک کے بیان سے بالکل متفق نہیں ہیں۔

الیسٹر کک نے لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ لارڈز ٹیسٹ کے دوسرے دن انگلینڈ کے بیٹسمینوں نے خود ہی یاسر شاہ کو اس بات کا موقع دیا کہ وہ وکٹیں حاصل کریں حالانکہ ان کی گیندیں ٹرن بھی نہیں ہو رہی تھیں۔

واضح رہے کہ یاسر شاہ نے لارڈز ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں چھ اور دوسری اننگز میں چار وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کی 75 رنز کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔

٭ 20 سال بعد پاکستانی بولر عالمی درجہ بندی میں سرِ فہرست

مصباح الحق نے پیر کے روز بی بی سی اردو سروس کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ٹاپ کرکٹ دراصل مائنڈ گیم ہے جس میں دنیا کا کوئی بھی بولر ہر بار جادوئی گیند سے وکٹ حاصل نہیں کرتا بلکہ یہ ایک مسلسل عمل میں ہے جس میں بولر بیٹسمین پر دباؤ قائم کرتے ہوئے اسے غلطی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

مصباح الحق نے کہا کہ اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ بیٹسمینوں نے غلطیاں کیں اور آؤٹ ہوئے تو اس کا کریڈٹ یقیناً یاسر شاہ کو جاتا ہے جنھوں نے بیٹسمینوں کو ان غلطیوں پر مجبور کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مجھے یہ بات معلوم تھی کہ لارڈز کی وکٹ پر یاسر شاہ کو زیادہ سپن نہیں ملے گی لیکن انھوں نے مستقل مزاجی سے درست لائن پر بولنگ کی اور بیٹسمین اس لائن کو سمجھنے سے قاصر رہے

انھوں نے کہا کہ تمام ذہین بولر ایسا ہی کرتے ہیں کہ درست لائن پر مسلسل بولنگ کرتے رہتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بیٹسمین ذہنی طور پر تھک جاتا ہے اور تنگ آ کر غلطی کر بیٹھتا ہے۔ انگلینڈ کے بیٹسمینوں کو کوالٹی اسپن کھیلنے کا تجربہ نہیں ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ انھیں یہ بات معلوم تھی کہ لارڈز کی وکٹ پر یاسر شاہ کو زیادہ سپن نہیں ملے گی لیکن انھوں نے مستقل مزاجی سے درست لائن پر بولنگ کی اور بیٹسمین اس لائن کو سمجھنے سے قاصر رہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ یاسر شاہ کی بولنگ کی سب سے خاص بات قدرتی تنوع ہے۔

مصباح الحق نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو لارڈز ٹیسٹ کی جیت کے جوش وخروش کو کنٹرول کرنا ہو گا کیونکہ یہ صرف ایک ٹیسٹ کی سیریز نہیں بلکہ ابھی تین ٹیسٹ باقی ہیں اور کوشش کرنی ہوگی کہ بیٹنگ اور فیلڈنگ میں جو غلطیاں سامنے آئی ہیں انھیں اگلے میچوں میں نہ دہرایا جائے۔

لارڈز ٹیسٹ میں پاکستانی پیس اٹیک میں شامل تینوں فاسٹ بولرز بائیں ہاتھ کے تھے۔ اس بارے میں مصباح الحق کہتے ہیں کہ ان کا ذہن بالکل واضح تھا کہ انگلینڈ کی ٹیم میں بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے بیٹسمینوں اور لارڈز کی فلیٹ وکٹ کے سبب تینوں ہی لیفٹ آرم فاسٹ بولر کھلانے تھے۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ محمد عامر اور راحت علی کا انتخاب نئی گیند کے بولروں کے طور پر یقینی تھا۔ تیسرے لیفٹ آرم بولر وہاب ریاض بھی 140 اور 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرتے ہیں اور ہم یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ یہ بولر گیند کو دونوں طرف موو کرسکیں اورپھر جب دوسری اننگز میں گیند ریورس سوئنگ ہوتو ایسی صورت میں تیز رفتار بولر زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔

مصباح الحق نے تسلیم کیا کہ وہ اس وقت زیادہ فکر مند ہوگئے تھے جب راحت علی اور وہاب ریاض بولنگ کرتے ہوئے ڈینجر زون میں آرہے تھے، اس مرحلے پر وہ اپنے کسی بھی بولر کو کھونا نہیں چاہتے تھے۔ ان دونوں بولروں کو آئندہ دنوں میں اس پر توجہ دینی ہوگی کہ امپائروں کو انھیں تنبیہ کرنے کی نوبت نہ آئے کیونکہ جب کسی بولر کو بولنگ کرتے ہوئے وکٹ پر آجانے کے سبب وارننگ ملتی ہے تو کپتان کی توجہ اصل چیزوں سے ہٹ جاتی ہے اوراس پر اضافی دباؤ آ جاتا ہے۔

اسی بارے میں