’روس نے سوچی اولمپکس میں ڈوپنگ کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ تحقیق روس کی انسداد ڈوپنگ کی لیبارٹری کے سابق سربراہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی وجہ سے کروائی گئی

ایک رپورٹ کے مطابق روس نے سوچی میں منعقد ہونے والے سنہ 2014 کی موسم سرما کے اولمپکس کھیلوں میں کھلاڑیوں کی مدد کرنے کے لیے ڈوپنگ پروگرام آپریشن جاری کیا تھا۔

٭اولمپکس: 31 کھلاڑیوں پر پابندی لگنے کا امکان

عالمی انسداد ڈوپنگ ایجنسی کی جانب سے کی جانے تحقیقات میں یہ امر سامنے آیا ہے کہ روسی کھیلوں کی کمیٹی نے اپنے کھلاڑیوں کے پیشاب کے نمونوں میں ہیرا پھیری ’کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی کی۔‘

یہ تحقیق روس کی انسداد ڈوپنگ کی لیبارٹری کے سابق سربراہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی وجہ سے کروائی گئی۔

گرگوری روڈچنکاف کا کہنا تھا کہ انھوں نے سوچی میں منعقد کھیلوں کے دوران درجنوں کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کی ادویات فراہم کی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس رپورٹ کے بعد امکانات ہیں کہ پانچ اگست کو برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہونے والے موسم گرما کے اولمپکس میں روس کی پابندی کے مطالبوں کو فروغ ملے

اس کمشن کی قیات کینیڈا سے تعلق رکھنے والے قانون اور کھیلوں کے پرافیسر رچرڈ مکلیرن نے کی جن کا کہا ہے کہ انھیں اپنے نتائج پر ’پوری طرح اعتماد‘ہے۔

گرگوری روڈچنکاف کا یہ بھی کہنا ہے کہ روسی خفیہ سروس نے ان کی مدد بھی کی تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے اُن بوتلوں کو کھولنا سیکھ لیا تھا جن میں بیشاب کے نمونے رکھے گئے تھے جس کے بعد انھوں نے اصلی پیشاب کے نمونوں کو بدل کر ’صاف‘ نمونے ڈال دیے تھے۔

ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے رچرڈ مکلیرن نے سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزان میں واقع انسداد ڈوپنگ لیبارٹری میں رکھے جانے والے سنہ 2014 کی سوچی کھیلوں کے پیشاب کے نمونوں کو لندن میں واقع ایک اور لیبارٹری میں یہ دیکھنے کے بھیجا کہ کیا بوتلوں پر کھرچنے نے نشان تھے یا نہیں۔

مکلیرن نے کہا کہ بوتلوں کو ’100 فیصد کھرچا گیا تھا‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ غیر تربیت یافتہ آنکھوں کو یہ نشان نہیں نظر آسکتے ہیں۔

اس رپورٹ کے بعد امکانات ہیں کہ پانچ اگست کو برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہونے والے موسم گرما کے اولمپکس میں روس کی پابندی کے مطالبوں کو فروغ ملے۔

اسی بارے میں