’پاکستان میں باکسروں کی کوئی عزت نہیں‘

Image caption کوئٹہ آمد پر محمد وسیم کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا

جنوبی کوریا کے شہر سیؤل میں ورلڈ باکسنگ کونسل مقابلوں میں سلور فلائی ویٹ ٹائٹل جیتنے والے کھلاڑی محمد وسیم نے کہا ہے کہ پاکستان میں باکسنگ کے کھلاڑیوں کی کوئی عزت نہیں۔

یہ بات انھوں نے کوئٹہ پہنچنے پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔

28 سالہ باکسرمحمد وسیم کا تعلق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ہے۔

٭ میں نے نئی تاریخ رقم کی ہے

محمد وسیم نے سلور ٹائٹل جیتنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ اعزاز جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ہی وہ حکومت سے کافی نالاں دکھائی دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس چیز سے ہم کافی مایوس ہوتے ہیں کہ باکسنگ کو کوئی سپورٹ نہیں کرتا اور اسے یہاں کوئی ترجیح نہیں دیتا۔‘

Image caption محمد وسیم پاکستان کے پہلے پروفیشنل باکسر ہیں جنھوں نے یہ اعزاز حاصل کیا ہے

محمد وسیم نے کہا کہ ’مجھے ابھی تک کسی نے بھی سپورٹ نہیں کیا ہے۔2014 سے میں نے تین فائٹ اور تین ناک آؤٹس کیے۔ ہم نے کوریئر ٹائٹل بھی جیتایہاں پر کسی نے ہمیں نہیں پوچھا۔ یعنی باکسر کی پاکستان میں کوئی عزت نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جب ہم اپنے ملک سے باہر جاتے ہیں وہاں زیادہ عزت ملتی ہے۔

محمد وسیم نے 17 جولائی کو شمالی کوریا کے شہر سیؤل میں ورلڈ باکسنگ کونسل میں سلور فلائی ویٹ ٹائٹل جیتاتھا۔۔

اسی بارے میں