یادگار اننگز یا پھر بڑی ہزیمت!

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان جاری دوسرے ٹیسٹ میچ کا دوسرا دن جوں جوں اختتام کے قریب پہنچتا گیا، پاکستانی شائقین پر یہ دردناک حقیقت واضح ہوتی گئی کہ میزبان ٹیم کا ریکارڈ اس کے ہوم گراؤنڈ پر اتنا اچھا کیوں ہے۔

مصباح الحق کی ٹیم نے سنہ 2012 اور پھر سنہ 2015 میں انگلینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں میں جو کیا تھا، کل سارا دن ان کی مخالف ٹیم نے بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کیا۔

دوسرے دن کی پہلی گیند سے آخری گیند تک پاکستانی ٹیم ایسے دکھائی دے رہی تھی جیسے اس کے پاس انگلینڈ کی بیٹنگ کا کوئی توڑ تھا اور نہ ہی ان کی بولنگ کا۔

پہلے ٹیسٹ کی غلطیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے، لگتا ہے کہ جو روٹ نے کل صبح ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ایک بڑا سکور کر کے دم لیں گے۔ میچ کے دوسرے دن وہ بہت کھل کر کھیلے اور پاکستانی بولنگ کے پرخچے اڑا دیے۔

نہ صرف یہ، بلکہ کریز پر آنے والے ہر انگلش بلے باز نے پاکستانی بولروں کی خوب پٹائی کی۔ جو روٹ کا ساتھ دینے والے پہلے بلے باز کرس ووکس تھے جنھوں نے تیز بیٹنگ کرتے ہوئے جلد ہی اپنی نصف سنچری مکمل کر لی۔

انگلش بلے بازوں کی عمدہ کارکردگی اپنی جگہ لیکن پاکستانی فیلڈروں نے بھی اپنے بولروں کی مدد نہ کرنے کی قسم کھائی ہوئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یونس خان نے اس دورے کے دوران دوسرے دن بھی اپنی بری فیلڈنگ جاری رکھی اور سلپ میں جو روٹ کا کیچ چھوڑ دیا۔ یونس خان نے یہ کیچ یاسر شاہ کی گیند پر چھوڑا جن کے لیے یہ دن ان کے مختصر ٹیسٹ کریئر کا مسلسل دوسرا بدترین دن تھا۔

میچ کے دوسرے دن مصباح الحق نے بولنگ کے لیے گیند اظہر علی اور شان مسعود تک کو تھما دی تو یہ واضح ہو گیا کہ جب آپ چار بولروں کے ساتھ ٹیسٹ کھیلتے ہیں تو آپ کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مصباح اپنے سٹرائک بولروں کو سستانے کا موقع دینے اور کسی بریک تھرو کے لیے گیند پانچویں اور چھٹے بولر کر دے رہے تھے، مگر انھیں بریک تھرو نہ ملنا تھا نہ ہی ملا۔

پاکستانی بولروں کی اذیت کی تکمیل جونی بیرسٹو نے کی، جو انگلینڈ کی طرف سے نصف سنچری سکور کرنے والے چوتھے بلے باز ثابت ہوئے۔

اگرچہ انگلینڈ کے اس نوجوان وکٹ کیپر کی پاکستان کے خلاف کارکردگی متحدہ عراب امارات اور انگلینڈ دنوں میں اچھی رہی ہے، لیکن کل خاص طور پر اعتماد سے کھیلے اور سکور بورڈ بھی ان کا ساتھ دے رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وکٹ پر آتے ہی جس طرح انھوں نے بیٹنگ کا آغاز کیا، اس نے پاکستان کی رہی سہی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا۔

جب پاکستان نے بیٹنگ شروع کی تو پہلے گھنٹے میں ایسا لگا کہ پاکستان آج کا دن کسی بڑے نقصان کے بغیر ختم کرے گا لیکن اسی وقت تباہی کا آغاز ہو گیا۔

سب کا خیال تھا کہ دوسرے دن کے بہترین کھلاڑی کا تاج جو روٹ کے سر پر سجے گا لیکن ووکس نے پاکستان کے تین کھلاڑیوں کو پویلین واپس بھیج کر ہر کسی کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ دوسرا دن ان کے نام ہونا چاہیے یا جو روٹ کے نام۔

پاکستان کی بیٹنگ بھی اتنی سست تھی کہ اسے دیکھ کر لگتا تھا کہ پاکستانی بلے باز بھی اپنی مدد نہیں کر رہے تھے۔ حفیظ اور اظہر کے آؤٹ ہونے کے بعد جب یونس خان نے اس دورے پر ایک آسان گیند پر ایک مرتبہ پھر وکٹ گنوائی تو پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان یقیناً سوچ رہا ہوگا کہ اولڈٹریفرڈ کی یہ پچ اتنی بے جان ہے کہ اگر انھوں نے ڈھنگ سے بیٹنگ شروع کردی تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، لیکن جب وہ تیسرے دن بیٹنگ کے لیے آئیں گے تو پچ کی حالت اور موسم کی بجائے جو چیز ان کو پریشان کرے گی وہ سکور بورڈ پر انگلینڈ کا پہلی اننگز کا ایک پہاڑ جیسا ٹوٹل ہوگا۔

اگر تیسرے دن پاکستان کی جانب سے کوئی کھلاڑی یادگار بڑی اننگز نہیں کھیلتا تو اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہیں کہ پاکستان کو جلد ہی ایک بڑی ہزیمت اٹھانا پڑے گی۔

اسی بارے میں