روسی ایتھلیٹس کی پہلی پرواز برازیل کے لیے روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انسداد ڈوپنگ کے ادارے کا مطالبہ ہے کہ روس کی ان کھیلوں میں شرکت پر مکمل پابندی عائد کی جائے

روس کی اولمپک ٹیم کے 70 ارکان ریو اولمپکس میں شرکت کے لیے ماسکو سے برازیل کے لیے روانہ ہو گئے ہیں جبکہ باقی ڈوپنگ کی وجہ سے پابندی کے تحت گھر پر ہی رہیں گے۔

روس کی والی بال، ہینڈ بال، باکسنگ، سنکرونائزڈ تیراکی اور ٹیبل ٹینس کی ٹیموں کو جمعرات کو برازیل کے لیے روانہ کیا گیا۔

٭ ڈوپنگ سکینڈلز کے باعث اولمپکس میں عوامی دلچسپی کم

٭ ’تمام روسی ایتھلیٹس پر پابندی کے مطالبے پر قائم ہیں‘

انسداد ڈوپنگ کے ادارے کا مطالبہ ہے کہ روس کی ان کھیلوں میں شرکت پر مکمل پابندی عائد کی جائے لیکن اولمپکس کی بین الاقوامی کمیٹی نے یہ فیصلہ انفرادی طور پر ہر کھیل کی اپنی فیڈریشن پر چھوڑا ہے۔

اولمپک کمیٹی کے فیصلے پر انسداد ڈوپنگ کے ادارے کے سربراہ اولیور نِگلی کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ’اقدام کا مطلب ہے کہ صاف ریکارڈ والے ایتھلیٹس کے لیے کوئی تحفظ نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روسی صدر کا کہنا تھا کہ روسی حریفوں کی غیر موجودگی میں ریو میں جیتے جانے والے میڈلز اپنی قدر کھو دیں گے

روس کا ارادہ ہے کہ وہ اپنے کم از کم 387 کھلاڑی ریو بھیجےگا تاہم ان میں سے 100 پر اب تک ڈوپنگ کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی ہے۔

ٹیموں سے نکالے جانے والے 68 میں سے 67 ایتھلیٹس ہیں۔

بعض فیڈریشنز نے روسی کھلاڑیوں پر مکمل جب کہ کچھ نے جزوی پابندی عائد کی ہے تاہم بعض نے روسی کھلاڑیوں کو شرکت کے لیے اجازت دے دی ہے۔ ابھی کئی کے بارے میں فیصلہ ہونا باقی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے ’روسی ایتھلیٹس کونشانہ بنانے کے لیے جان بوجھ کر مہم چلائی گئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ روسی حریفوں کی غیر موجودگی میں ریو میں جیتے جانے والے میڈلز اپنی قدر کھو دیں گے۔

اسی بارے میں