’پاکستانی ٹیم ضرورت سے زیادہ پراعتماد تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption محمد اکرم کا کہنا تھا کہ شاہد آفریدی نے جس تناظر اور پس منظر میں ٹیلنٹ نہ ہونے کی بات کی، اسے سمجھنا بڑا ضروری ہے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق بولنگ کوچ محمد اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم دوسرے ٹیسٹ میں ضرورت سے زیادہ پراعتماد تھی اور ٹیسٹ کرکٹ کے لیے جو صبر چاہیے وہ کھلاڑیوں میں دیکھنے کو نہیں ملا۔

٭ دورہ انگلینڈ پر گوگل ہینگ آؤٹ دیکھنے کے لیےیہاں کلک کریں

بی بی سی اردو کے کرکٹ پر خصوصی گوگل ہینگ آؤٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق بولنگ کوچ محمد اکرم نے بی بی سی اردو کے اسلام آباد سٹوڈیو جب کہ سپورٹس کی تجزیہ کار سدیرش خان نے کراچی سٹوڈیو سے شرکت کی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی اولڈ ٹریفرڈ ٹیسٹ میں خراب پرفارمنس پر محمد اکرم کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی ٹیم دوسرے ٹسٹ میں ضرورت سے زیادہ پراعتماد تھی اور ٹسٹ کرکٹ کے لیے جو سٹیمنا اور صبر چاہیے ہوتا ہے، وہ کھلاڑیوں میں دور دور تک نظر نہیں آیا۔‘

خیال رہے کہ شاہد آفریدی نے بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان میں کرکٹ کا وہ ٹیلنٹ سامنے نہیں آ رہا جو کہ انٹرنیشنل کرکٹ کی ڈیمانڈ ہے۔

شاہد آفریدی کے انٹرویو کے بارے میں محمد اکرم کا کہنا تھا کہ شاہد آفریدی کے انٹرویو پر شور تو کافی مچایا گیا لیکن جس تناظر اور پس منظر میں شاہد آفریدی کےٹیلنٹ نہ ہونے کی بات کی، اسے سمجھنا بڑا ضروری ہے۔

انھوں نے شاہد آفریدی کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’جب تک گراس روٹ لیول پر کرکٹ کو ٹھیک نہیں کیا جائے گا، تو آپ کو ٹیلنٹ نہیں ملے گا، اور اگر اس لیول پر ٹیلنٹ نہیں ملے گا تو چاہے آپ کوچز اور مینیجمنٹ کو بار بار تبدیل کرتے رہیں، بہتری نہیں آئے گی۔‘

سدیرش خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ اصل میں حکمت عملی کا فقدان ہے، ہر میچ کے لیے الگ لائحہ عمل ہونا چاہیے کیونکہ ہر پچ کی کنڈیشنز مختلف ہوتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سدیرش خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اگلے دو ٹسٹ میچز میں کم بیک کرے گا لیکن بیٹنگ کا ٹاپ آرڈر پاکستانی ٹیم کا بڑا مسئلہ رہے گا۔

اسی بارے میں