ریو اولمپک: روسی کھلاڑیوں کی قسمت کا فیصلہ پینل پر

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آئی او سی کے صدر اولمپکس سے قبل دو روزہ کانفرنس کے دوران خطاب کر رہے تھے

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئي او سی) نے کہا ہے کہ ایک تین رکنی پینل یہ طے کرے گا کہ آیا روسی کھلاڑی ریو اولمپکس میں شرکت کر سکیں گے یا نہیں۔

گذشتہ ہفتے آئی او سی نے کہا تھا کہ منفرد کھیلوں کے ادارے یہ طے کریں کہ روسی کھلاڑی ممنوعہ ادویات سے پاک ہیں یا نہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ روس میں حکومت کی ایما پر ڈوپنگ ہوتی رہی ہے۔

لیکن آئی او سی نے کہا ہے کہ اب یہ تین رکنی پینل پر منحصر ہے کہ وہ ’حتمی تجویز کو قبول کرے یا مسترد کر دے‘۔

ابھی تک 250 روسی کھلاڑیوں کو ریو میں ہونے والے اولمپکس میں شرکت کرنے کے لیے غیر ممنوعہ ادویات سے پاک قرار دیا گیا ہے۔

تین رکنی کمیٹی میں عالمی فن تیراندازی کے ادارے کے صدر اوغر ارڈینر، آئی او سی ایتھلیٹس کمیشن کی کلاڈیا بوکل اور آئي او سی کے سپین کے رکن ژاں انٹونیو سمراینچ جونیئر شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption روسی کھلاڑیوں کے متعلق فیصلہ جلد ہی متوقع ہے

انسداد منشیات کی عالمی ایجنسی واڈا نے یہ تجویز دی تھی کہ تمام روسی کھلاڑیوں پر پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ یہ تجویز اس نے آزادانہ طور پر تیار کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد دی تھی جس میں یہ پایا گیا تھا کہ روس میں زیادہ تر اولمپک کھیلوں میں ’وسیع پیمانے پر‘ چار سال تک ’ڈوپنگ پروگرام چلایا گیا تھا‘۔

آئی او سی نے روسی کھلاڑیوں پر مکمل پابندی لگانے سے گریز کیا جس پر واڈا اور دوسرے اداروں نے اس کی تنقید کی جبکہ ولادیمیر موروزو اور نکیتا لوبنتسیو جیسے تیراکوں نے کھیل کی عدالت میں اس کے خلاف اپیل کی۔

خیال رہے کہ اولمپکس جمعے یعنی پانچ اگست سے برازیل کے شہر ریو میں شروع ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روسی کھلاڑیوں پر ڈوپنگ کا الزام ہے جبکہ وہ اس کی تردید کرتے ہیں

دریں اثنا اس معاملے پر خطرے کی گھنٹی بجانے والی ایتھلیٹ یولیا سٹپینووا نے ریو میں اپنی شرکت پر بابندی کے خلاف پھر سے تجزیے کی بات کہی ہے۔

میٹر فاصلے کی دوڑ کے مقابلوں میں شرکت کرنے والی یولیا کی گواہی کے بعد ہی یہ بات سامنے آئي کہ روس میں کس قدر وسیع پیمانے پر ڈوپنگ موجود ہے۔ یولیا ریو اولمپکس میں نیوٹرل پرچم کے تحت شرکت کرنے کی متمنی ہیں۔ لیکن آئي او سی نے کہا ہے کہ انھیں اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کیونکہ وہ اس سے قبل ڈوپنگ ٹیسٹ میں ناکام ہو چکی ہیں۔

اسی بارے میں