’کُک اور روٹ کے لیے حکمت عملی میں تبدیلی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستانی ٹیم کے کپتان مصباح اور کوچ مکی آرتھر پریکٹس میچ کے دوران

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم نے انگلش بلے باز ایلسٹر کک اور جوئے روٹ کے لیے حکمت عملی تبدیلی کی ہے۔

انگلینڈ کے خلاف ایجیسٹن میں تین اگست سے شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میچ سے قبل مکی آرتھر نے کہا کہ’ انھوں نے کک اور روٹ کو دوبارہ دیکھا اور اپنی حکمت علمی کا جائزہ لیا۔‘

’ہم انھیں انگلش بیٹنگ لائن کی بنیاد سمجھتے ہیں اور اگر ہم نئی گیند کے ساتھ ان پر قابو پا سکتے ہیں تو ہمارے پاس ایک حقیقی اچھا موقع ہو گا۔‘

*’پاکستانی ٹیم ضرورت سے زیادہ پراعتماد تھی‘

* بین سٹوکس انگلش ٹیم سے ایک بار پھر باہر

* پاکستان چھ برس بعد انگلینڈ میں: خصوصی ضمیمہ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے مزید کہا کہ وہ انگلش بلے باز ہیلز کو بھی کم اہمیت نہیں دے رہے لیکن واضح طور پر اس وقت کک اور روٹ انگلش بیٹنگ کا روشن مینار ہیں۔

پاکستان کے خلاف اولڈ ٹریفرڈ میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں جوئے روٹ اور کک کی بیٹنگ کے سامنے پاکستانی بولرز بے بس دکھائی دیے تھے۔

روٹ نے میچ کی پہلی اننگز میں 254 رنز جبکہ کک نے 105 رنز بنائے تھے جبکہ دوسری اننگز میں دونوں نے بلترتیب 71 اور 76 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے تھے۔

دونوں کی عممدہ اننگز کی بدولت انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 589 رنز بنا کر پاکستان پر نفسیاتی برتری حاصل کر لی تھی اور اسے میچ میں 330 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

’ہمیشہ سے اپنی صلاحتیوں پر یقین تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ووکس نے پاکستان کے خلاف دونوں ٹیسٹ میچوں میں قابل ذکر کارکردگی دکھائی

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر کرس ووکس کے مطابق انھیں ہمیشہ سے یقین تھا کہ وہ اتنے باصلاحیت ہیں کہ اعلیٰ سطح کی کرکٹ کھیل سکیں۔

27 سالہ ووکس نے پاکستان کے خلاف سیریز کے پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں 18 وکٹیں حاصل کی ہیں اور اس میں بہترین لارڈز میں پاکستان کے خلاف 102 رن دے کر 11 جبکہ اولڈ ٹریفرڈ دوسرے ٹیسٹ میچ میں 108 رنز دے کر 7 وکٹیں ہیں۔

ووکس نے پاکستان کے خلاف اولڈ ٹریفرڈ میں دوسرے ٹیسٹ میچ میں سات وکٹوں کے علاوہ 58 رنز بنائے تھے۔

ووکس کے مطابق’ جب بھی آپ اعلیٰ سطح پر کھیلتے ہیں تو آپ کو کچھ زیادہ پرکھا جاتا ہے۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ لوگوں کو میرے پر کچھ شبہات تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ’مجھے ہمیشہ سے یقین رہا ہے کہ میں بہترین ہوں اور معاملہ صرف اتنا ہے کہ اس خود اعتمادی کو باہر نکال کر ٹیم کی جانب سے کھیلتے ہوئے دیکھانا ہے اور یہ وہ کر رہے ہیں۔‘

پاکستان کے ساتھ چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے لارڈز کے میدان میں 75 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی تاہم اولڈ ٹریفرڈ میں کھیلے جانے والے دوسرے میچ میں اسے انگلینڈ کے ہاتھوں 330 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی بارے میں