ریو میں اولمپکس مشعل کے جلوس پر مظاہرین کا دھاوا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مشعل دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ آئے ہوئے تھے

تین ماہ تک برازیل کے مختلف شہروں کے چکر کاٹنے کے بعد اولمپک مشعل بالآخر ایک کشتی کے ذریعے ریو ڈی جنیرو پہنچ گئی ہے۔

ریو کے میئر ایدواردو پایس شہر کے وسط میں تھوڑی دور تک مشعل لے کر بھاگے۔

تاہم شہر کے شمال میں اس وقت صورتحال خراب ہوئی جب مشعل کے جلوس کو سینکڑوں لوگوں کے ہجوم کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں اولمپک کھیلوں پر اٹھنے والی بھاری لاگت پر اعتراض ہے۔

٭ ریو اولمپکس 2016: خصوصی ضمیمہ

٭ اولمپکس مشعل کا سفر

بلوہ پولیس نے آنسو گیس اور مرچوں کا سپرے کر کے لوگوں کو منتشر کیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں وہ بچے دیکھے جا سکتے ہیں جو مشعل دیکھنے آئے تھے لیکن پولیس کی کارروائی کے بعد وہاں سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔

پولیس نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ لوگوں نے سڑک کا ایک حصہ خالی کرنے سے انکار کر دیا جہاں سے مشعل گزرنی تھی، جس کے بعد انھیں انتشار روکنے کے لیے حرکت میں آنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ریو کے میئر ایدواردو پایس شہر کے وسط میں تھوڑی دور تک مشعل لے کر بھاگے

بی بی سی کے برازیل کے نامہ نگار وائر ڈیویز کہتے ہیں کہ برازیلین اولمپک منتظمین کو مشعل کے جلوس کے دوران اسی بات کا ڈر تھا۔

منگل کو نیتوروئی قصبے میں تین مظاہرین کو وہاں سے مشعل گزرنے کے دوران احتجاج کرنے پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔

برازیل مالی اور سیاسی بحرانوں کی زد میں ہے اور جمعے کو اولمپک کی افتتاحی تقریب سے قبل مزید مظاہروں کا خدشہ ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ دس لاکھ ٹکٹ اب تک فروخت نہیں ہو سکے۔

اسی بارے میں