ریو اولمپکس کے غیرمتوقع مہمان

تصویر کے کاپی رائٹ RIO 2016

مگرمچھ، سلاٹس ، کیپی باراس اور سانپ ریو 2016 کے غیر متوقع مہمان ہو سکتے سکتے ہیں۔ جن علاقوں میں کھیلوں کے مقامات رکھے گئے ہیں وہاں قریب ہی تالاب اور ہریالی بہت ہے۔

ریو اولمکپس کے منتظمین میں شامل تانیا براگا کا کہنا تھا ’ہم جانوروں کو چھپانا نہیں چاہتے بلکہ ہم یہ بتانا چاہیے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ RIO 2016

ان کا کہنا تھا ’25 فیصد ریو کے علاقے میں قدرتی جنگل ہیں۔ اور ایسی وسعت دکھانا ایک سعادت ہے۔‘ مس براگا کے مطابق اولمپکس کے لیے مقامات پر ٹیموں کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ ان جانوروں کو ان کے قدرتی ٹھکانوں پر واپس بھیجیں اور محفوظ رکھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Silma Cardoso Corredor Verde Recreio

بارا دا ٹیجوکا میں جہاں اولمکپس کا مرکزی انتظام کیا گیا ہے گالف کورس کے گرد 230 قسم کے جاندار رہتے ہیں۔

ان میں ایک جان لیوا مگرمچھ بھی شامل ہے تاہم یہ کم غصیلے اور فلوریڈا کے مگرمچھوں کی طرح نہیں ہیں۔ مس براگا کے مطابق ’جب یہ جانور گالف کورس تک آتے ہیں تو ہم یہ یقینی بناتے ہیں کہ جانور اور انساوں دونوں کو ہی کوئی خطرہ نہ ہو۔‘

کیپی باراس جو ایک بڑے چوہے کی ایک نسل ہے اس علاقے میں عام دکھائی دیتے ہیں اور گھاس کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ایک ممنوعہ قرار دیے گئے علاقے میں گالف کورس بنانے پر تنازع ہوا لیکن منتظمین کا کہنا ہے کہ ان اس علاقے مںی صوارحال پہلے سے کافی بہتر ہے۔

ایک ماہر حیاتیات ازار ایزیموف کا کہنا تھا ’شہری آبادی کے پھیلاؤ سے لوگ جانوروں کے قریب سے قریب تر ہو رہے ہیں ہم نے ان کی جگہ پر قبضہ کر لیا ہے۔‘ ماہرینِ حیاتیات کے ایک گروہ ے یہاں جانوروں کے بقا کی جدو جہد کو اجاگر کیا بالخصوص مگرمچھ کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ CREDITSilma Cardoso Corredor Verde Recreio
تصویر کے کاپی رائٹ Silma Cardoso Corredor Verde Recreio

ان کی جانب مہیا کی گئی تصاویر مںی دیکھا جا سکتا ہے کہ مگر مچھ کچرے کے ساتھ تیر رہا ہے۔

ایک ماہر ارضیات سانتا ماریا کا کہنا تھا ’اولمکپس پارک کے گرد کے علاقے میں ترقیاتی کام پچھلے 30 سال میں کافی بڑھا ہے۔ جس کے نتیجے میں سانپ اور مگر مچھ جیسے جانور بھی اپنے قدرتی ٹھکانوں سے بے دخل ہو گئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ RIO 2016

اسی بارے میں