گنڈاسا، نازیہ حسن اور لمبی شراکت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سمیع اسلم نے 82 رنز کی شاندار اننگز کھیلی

سلطان راہی کا گنڈاسا، نازیہ حسن کی آواز، جنرل ضیا کی مونچھیں، عمران خان کی پنڈلیاں، ہاکی ٹیم کا اولمپک طلائی تمغہ، پی ٹی وی کا سنہرا دور۔

یہ وہ ثقافتی حوالے ہیں جن سے اس وقت کے بعد پاکستانی معاشرہ دوچار رہا ہے جب پچھلی بار پاکستانی بلے بازوں نے کسی ٹیسٹ کے دوران دوسری وکٹ کی اتنی طویل شراکت قائم کی تھی۔

٭ پہلے دن کا کھیل، آرٹ فلم یا فارمولا؟

1982 کی بات ہے جب پاکستان کے کچے دھاگے سے بھی کمزور ٹاپ آرڈر نے اتنے رنز بنائے تھے جتنے اظہر علی اور سمیع اسلم نے میچ کے دوسرے روز جوڑے۔

اظہر علی نے اپنی دسویں سینچری بنائی اور اب تک سیریز میں اپنی ناقص کارکردگی پر پردہ ڈال دیا۔ سمیع اسلم، جنھیں کسی کونے کھدرے سے نکال کر شان مسعود کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا تھا، ایک ایسی سینچری بنانے سے 18 رنز قبل بدقسمتی سے رن آؤٹ ہو گئے جس کے وہ پوری طرح سے مستحق تھے۔

ایک نوآموز کھلاڑی اور ایک ٹاپ آرڈ بیٹسمین جو بار بار ایک ہی طرح سے آؤٹ ہوتا ہے، ان سے کسی بڑی کارکردگی کی زیادہ توقع نہیں کی جا سکتی۔ لیکن جس چیز نے ان کی کامیابی کو مزید حیران کن بنایا وہ یہ تھی کہ دونوں دن کا آغاز ہوتے ہی کریز پر پہنچ گئے تھے۔

محمد حفیظ نے اب تک میچ میں پھینکی جانے والی بدترین گیندوں میں سے ایک اس وقت سیدھی فیلڈر کے ہاتھ میں تھما دی جب ابھی پہلے اوور کی چار گیندیں ہوئی تھیں۔ اس موقعے پر ناگزیر نظر آ رہا تھا کہ انگلستان برتری لے جائے گا۔

اس کے برعکس جب دن کا اختتام ہوا تو پاکستان صرف 40 رنز پیچھے تھا اور اس کی سات وکٹیں ابھی باقی ہیں۔ ایک بار پھر جس ٹیم نے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا، میدان اسی کے ہاتھ رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اظہر علی سنچری بنانے کے بعد

اظہر اور سمیع دونوں نے سست رفتاری سے کھیلتے ہوئے کوئی غیر ضروری شاٹس لگانے کی کوشش نہیں کی۔ ان کی شراکت کا اہم پہلو تیز سنگل تھے، جن کی وجہ سے دباؤ میں کمی آتی رہی۔ البتہ یہ بات افسوس ناک ہے کہ انھی میں سے ایک سنگل نے ان کی شراکت کا خاتمہ کر ڈالا۔

یہ رن آؤٹ اس لحاظ سے بھی مایوس کن تھا کہ اس وقت تک ایسا لگتا تھا جیسے انگلستان کے پاس وکٹ لینے کی کوئی حکمتِ عملی باقی نہیں رہی۔

اظہر کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ لیگ سائیڈ پر کھیلنے کی کوشش میں توازن کھو کر ایل بی ڈبلیو ہو جاتے ہیں، لیکن انگلستان نے اس پہلو سے فائدہ اٹھانے کی کوئی خاص کوشش نہیں کی۔

اسی طرح نوجوان سمیع کے خلاف اسی منصوبے پر عمل کیا گیا جو شان مسعود کے خلاف کامیاب رہا تھا، یعنی پانچویں وکٹ پر گیندیں کراتے چلے جانا لیکن جب وہ اس امتحان میں سرخرو نکلے تو انگلستان کے پاس کوئی متبادل حکمتِ عملی نہیں تھی۔

بظاہر الیسٹر کک کو معین علی پر زیادہ اعتماد نہیں ہے، اس لیے ان کی طرف سے بھی کسی خاص خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

البتہ آخری گیند نے ایک بےعیب دن کا مزا کرکرا کر دیا۔ اظہر سستی سے کھیلتے ہوئے سلپ میں کیچ آؤٹ ہو گئے جس سے انگلستان کو ایک موہوم سا موقع مل گیا ہے کہ وہ پاکستان کو بڑا سکور بنانے سے باز رکھے۔

لیکن اگر انھوں نے دوسرے دن جیسی فضول خرچی دکھائی، جس میں دو ڈراپ کیچ، کئی مِس فیلڈ اور اوور تھرو شامل ہیں، تو پھر انھیں ایک اور لمبے دن کا سامنا کرنا ہو گا۔

پاکستان کو یقیناً امید ہو گی کہ وہ انھیں ایسا کرنے پر مجبور کر سکیں۔

اسی بارے میں