ایتھلیٹس کے جسموں پر سرخ دھبے کیسے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Ryan Pierse

ریو اولمپکس میں حصہ لینے والے کئی کھلاڑیوں کی تصاویر میں ان کی جلد پر سرخ رنگ کے دھبے دیکھے گئے ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں امریکی تیراک مائیکل فیلپس بھی شامل ہیں۔

یہ کیسے دھبے ہیں، اور کیوں ہر کوئی اچانک ان پر بات کرنے لگا ہے؟

ریو 2016 کے دوران تیراکی اور جمناسٹکس میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں اور خاص طور پر امریکی ٹیم کے ارکان کی جلد پر یہ نشانات دیکھے گئے ہیں۔

مردوں کے 4‌x100 میٹر فری سٹائل ریلے تیراکی کے مقابلے کے دوران امریکی تیراک مائیکل فیلپس کے جسم پر سرخ دھبے نمایاں تھے۔

اس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر لوگ اس بارے میں اندازے لگانے لگے کہ شاید فیلپس پینٹ بال کھیل رہے تھے یا پھر ان پر کسی بڑے اوکٹوپس نے حملہ کیا ہے۔

تاہم یہ نشانات نہ تو پینٹ بال کے کھیل کی وجہ سے ہیں اور نہ ہی یہ ’لو بائٹس‘ ہیں۔ یہ اس قدیم طریقۂ علاج کا نتیجہ ہیں جسے ’کپنگ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جس کے جلد پر گرم کپ رکھے جاتے ہیں۔

’کپنگ‘ کیسے ہوتی ہے؟

یہ بدن سے سرنج کے ذریعے ناقص خون کو نکالنے کے طریقے جیسی ایک تکنیک ہے، جو کپ میں جلنے والے ایک مادے کو ڈال کر کی جاتی ہے۔

جیسے ہی شعلے جلتے ہیں اور درجہ حرارت میں کمی کے باعث کشش پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے کپ جسم کے ساتھ چپک جاتا ہے۔

یہ کشش جلد کو جسم سے دور کھینچتی ہے اور خون کا دورانیہ بڑھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم پر سرخ دھبے پڑ جاتے ہیں جو عام طور پر تین سے چار دن تک رہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

بعض اولمپیئنز ہی کیوں اس کا استعمال کرتے ہیں؟

ایتھلیٹس کا کہنا ہے کہ وہ درد اور مستقل تربیت اور مقابلوں کی وجہ سے ہونے والی تھکاوٹ کو دور کرنے کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ صحتیابی کے اور کئی طریقے بھی ہیں جنھیں کھلاڑی استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سپورٹس مساج، سوانا، آئی باتھ اور دباؤ ڈالنے والے لباس شامل ہیں۔

جمناسٹک کے امریکی کھلاڑی ایلکس نیڈور نے یو ایس اے ٹو ڈے کو بتایا کہ ’کپنگ ان طریقوں سے بہتر ہے جس پر میں نے پیسے خرچ کیے۔‘

ایلکس نیڈور نے امریکی جریدے کو مزید بتایا: ’یہ وہ راز ہے جس کا میں نے اس سال استعمال کیا اور اس نے مجھے صحت مند رکھا، اور مجھے شدید درد سے بچایا۔‘

ان کی ٹیم کے کپتان کرس بروکس نے بتایا کہ سکواڈ میں شامل کئی کھلاڑیوں نے خود سے یہ علاج شروع کر دیا ہے۔

’آپ کہتے ہیں اچھا مجھے یہاں درد ہو رہا ہے، اور اس پر کپ رکھوں یا آپ کا کوئی ساتھی آپ کی مدد کر دے گا، آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Above Average Twitter

کیا اس سے درد نہیں ہوتا؟

دی برٹش آکیوپنچر کونسل (بی اے سی سی) کا کہنا ہے کہ کپنگ سے درد نہیں ہوتا ہے اور جلد پر سرخ نشان اس لیے رہ جاتے ہیں کیونکہ خون کو جلد کے قریب لایا جاتا ہے اور باریک رگیں پھٹ جاتی ہیں۔

دوسری جانب تیراک مائیکل فیلپ کو حالیہ اشتہار میں اس تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے فلم بند کیا گیا، جبکہ ایک اور اولمپیئن نے سوشل میڈیا پر چند تصاویر شائع کیں جس کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کپنگ کا سیشن کافی دردناک ہوتا ہے۔

امریکی خاتون تیراک نیٹیلی کفلین نے بھی اپنی تصاویر شائع کی ہیں جن میں ان کے سینے پر کپ لگے ہیں جو ان کی جلد کے ساتھ چپکے ہوئے ہیں۔

انھوں نے تصاویر کے ساتھ یہ الفاظ بھی لکھے ہیں :’میں اس لیے ہنس رہی ہوں کیونکہ اس سے بہت درد ہوتا ہے اور یہ تصویر اس علاج کے بعد ہونے والے درد کی ہے۔‘

بی اے سی سی نے خبردار کیا ہے کہ ’بعض اوقات‘ ان گرم کپوں کی وجہ سے ہلکی جلن محسوس ہو سکتی ہے۔

کونسل نے اس تکنیک کو استعمال کرنے کے بعض اصول بھی شائع کیے ہیں، اور ساتھ میں لوگوں سے کہا ہے کہ وہ کپنگ کے لیے تربیت یافتہ افراد کے پاس جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK

کیا یہ واقعی کام کرتا ہے؟

اس تکنیک کو استعمال کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے پٹھوں کے مسائل، درد سے آرام، رات کو نیند نہ آنا وغیرہ جیسے کئی مسائل میں مدد ملتی ہے۔

مسٹر لانگ جو گذشتہ 20 سالوں سے کپننگ کا استعمال کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد توانائی کو بڑھانا ہے، جو کہ چینی روایتی علاج ’کی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

لانگ کا کہنا ہے کہ جسم کے جس حصے پر کپ زیادہ گہرا نشان چھوڑتا ہے اس جگہ خون کی گردش صحیح نہیں ہوتی۔

یونیورسٹی آف ایکسٹر کے پروفیسر ایڈزرڈ ایرنسٹ ماضی میں بی بی سی کو بتا چکے ہیں کہ ’یقینی طور پر گذشتہ تین ہزار سال سے لوگ اسے استعمال کر رہے ہیں اور انھیں فائدہ ہو رہا ہے لیکن یہ ثابت شدہ طبی علاج نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک محفوظ عمل ہے لیکن یہ اثر کرتا ہے اس کا ثبوت نہیں ہے۔ اس کو فی الحال تجزیے کے لیے پیش نہیں کیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Natalie Coughlin Instagram

اس کا آغاز کیسے ہوا؟

مسٹر لانگ نے بتایا کہ کپننگ کا آغاز چین میں تین ہزار سال پہلے ہوا تھا، پھر یہ طریقہ مصر میں بھی مشہور ہونے لگا اور اس کے بعد مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ’شیشے کے کپوں سے قبل بانس کے بنے کپ استعمال کیے جاتے تھے۔ مینڈرین چائنیز میں اسے ’ہاؤ گوان‘ کہا جاتا ہے جس کا مطلب ’آگ سے کپننگ‘ ہے اور یہ قدیم نسلوں میں زیادہ جانی جاتی تھی۔‘

ایسا ہی ایک اور طریقہ بھی ہے جسے ’ویٹ کپننگ‘ کہا جاتا ہے جو چین اور بعض اسلامی ممالک میں رائج ہے اور وہاں اسے ’حجامہ‘ کہا جاتا ہے۔

حجامہ کے ذریعے جلد پر چھوٹا سا کٹ لگانے کے بعد کپ رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے بعد بہت ہی کم مقدار میں خون باہر نکالا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اسی بارے میں