کوریائی ایتھیلٹس کی سیلفی، اب کیا ہوگا؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

شمالی اور جنوبی کوریا کی خواتین جمناسٹ کی سیلفی بناتے ہوئے لی گئی تصویر نے بی بی سی کے سوشل میڈیا پر صارفین کو اس فکر میں ڈال دیا ہے کہ ہانگ اُن جونگ کو ایک دشمن کے ساتھ بھائی چارہ دکھانے کی پاداش میں کیا سزا بھگتنا پڑے گی؟ لیکن شمالی کوریا کے تجزیہ کار اور کھیلوں کے مداح مائیکل میڈن کہتے ہیں کہ شاید ایسا کوئی معاملہ نہ ہو۔

شمالی کوریا نے کھیلوں کی سفارتکاری کو پالیسی کا حصہ بناتے ہوئے سنہ 1980 کی دہائی سے قومی مفاد کی خاطر اپنا رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی کوریا نے تو جنوبی کوریا سے سنہ 2000 ، 2004، اور سنہ 2008 کے اولمپکس کے لیے کوریا کی مشترکہ ٹیم بھیجنے کو کہا تھا لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا

یہ وہ واحد غیر سیاسی راستہ ہے جس کے ذریعے دنیا سے کٹا ہوا شمالی کوریا باقی دنیا اور تہذیبوں سے رابطہ قائم رکھے ہوئے ہیں۔

بعض مایوس مبصرین تو اسے پروپیگینڈہ قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ شمالی کوریا کو حاصل عوامی سفارتکاری کے گنے چنے راستوں میں سے ایک ہے۔ بقول ان کے شمالی کوریا نے تو جنوبی کوریا سے سنہ 2000 ، 2004، اور سنہ 2008 کے اولمپکس کے لیے کوریا کی مشترکہ ٹیم بھیجنے کو کہا تھا لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا (عوامی جمہوریہ کوریا ) کے ایتھلیٹس کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے سامنے اپنے ملک کی نمائندگی کریں ایسے میں جب اپنے عوام سے ان پر توقعات کا شدید دباؤ بھی ہے۔

اس قسم کے دعوے کیے جا رہے ہیں کہ شاید انھیں فائرنگ سکواڈ کا سامنا کرنا پڑے گا یا وہ لِی یُن جُو کے ساتھ سیلفی لینے کے جرم میں اب ساری عمر سخت مشقت کاٹیں گی وہ لوگ شاید اس حقیقی کو بھول رہے ہیں کہ اس سے پہلے بھی سنہ 2014 میں ایک بین الاقوامی مقابلے کے دوران ان کی امریکی جمناسٹ سیمون بیلیس سے گلے ملتے ہوئے تصاویر سامنے آئی تھیں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ایک دشمن ملک کی ایتھلیٹ کو گلے لگانے پر مذمت سے بچنے کے لیے کیا بہتر نہیں تھا کہ ہانگ اُن جونگ کو ریو گیمز میں حصہ لینے کی اجازت ہی نہ دی جاتی۔

لیکن ایسا نہیں ہوا۔ کھیل شمالی کوریا میں اعلی مقام حاصل کرنے کا تیز ترین راستہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption شمالی کوریا کے ایتھلیٹس کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے سامنے اپنے ملک کی نمائندگی کریں

کامیاب ایتھلیٹس کا وطن واپسی پر شاندار استقبال کیا جاتا ہے اور ریاستی میڈیا میں ان پر خبریں نشر کی جاتی ہیں۔ انھیں ریاست کی جانب سے خطابات دیے جاتے ہیں اور حکومت کی جانب سے اعزازات دیے جاتے ہیں۔

سنہ 2013 میں کامیاب ایتھیلٹس کو ایک تقریب میں ان کے خاندان سمیت نئے تیار شدہ گھروں میں منتقل کیا گیا۔

ریاستی میڈیا کا کہنا تھا ’ملک کے تمام کھلاڑی ورکرز پارٹی کی محبت اور خیال رکھے جانے کے رویے سے متاثر ہیں اور بین الاقوامی کھیلوں میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘ جو کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں انھیں نہ صرف ملک کے اندر کے میڈیا میں بہت زیادہ پذیرائی دی جاتی ہے بلکہ غیر ملکی صارفین کے لیے شائع کیے جانے والے مواد میں انھیں زیادہ سے زیادہ دکھایا جاتا ہے۔

کامیاب ایتھیلٹس کے حوالے سے دستاویزی فلمیں حتی کہ ڈارامائی انداز میں فیچر فلمیں بھی بنائی جاتی ہیں۔

سنہ 2011 میں اقتدر سنبھالنے کے بعد سے کم جونگ اُن نے کھیلوں اور کھیلوں کی سفارتی کاری کو ترجیحات میں شامل کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2010 میں جو شمالی کوریا کی فٹ بال ٹیم ورلڈ کپ جیتنے میں ناکام رہی تو میڈیا میں ایسی غیر مصدقہ خبریں آئیں کہ شاید ٹیم کو مشقت کے لیے کیمپ میں بھجوا دیا گیا ہے

انھوں نے مقابلوں کے مقامات کی تزئین اور تعمیر کے ساتھ ساتھ ایتھلیٹس کے لیے مشق کرنے کی سہولیات میں اضافے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایتھلیٹس کے ذاتی معاشی ذرائع کو بھی بہتر بنایا۔

انھوں نے ملک کے بیشتر ایتھلیٹس اور کھیلوں کی ٹیموں سے ذاتی ملاقاتوں کے علاوہ انھیں دی گئی دعوتوں اور اعزازی تقریبات میں بھی شرکت کی۔

شمالی کوریا میں کسی بین الاقوامی مقابلے میں ناکامی کے بعد بطور سزا قید یا سزائے موت کی مصدقہ خبر آج سے 25 سال پہلے آئی تھی۔

سنہ 2010 میں جو شمالی کوریا کی فٹ بال ٹیم ورلڈ کپ میں کوئی میچ جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی تو میڈیا میں ایسی غیر مصدقہ خبریں آئیں کہ شاید ٹیم کو مشقت کے لیے کیمپ میں بھجوا دیا گیا ہے۔

در حقیقت جو بھی ہوا ہو اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ شمالی کوریا میں اچھی کارکردگی دکھانے اور ناکام ہونے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹیم کے کوچ کو کسی تعمیراتی مقام پر مزدوری کرنے بھیج دیا گیا جہاں سے واپسی پر انھیں فٹ بال ایسوسی ایشن میں نچلے درجے کی ملازمت دی گئی

شمالی کوریا کے ایتھلیٹس یا تو حکمراں پارٹی کے رکن ہیں یا وہ ملک میں لازمی فوجی ملازمت کی مدت پوری کر رہے ہیں۔ یعنی وہ ناکامی کی صورت میں پارٹی یا فوج کی جانب سے تادیبی کارروائی کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

ایتھیلٹس کو جیسا کہ سنہ 2010 میں فٹ بال ٹیم کے ساتھ ہوا شدید تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے جو کہ سیاسی جماعت کی زندگی کا حصہ ہوتا ہے۔

ورلڈ کپ ٹیم کو ایتھلیٹس، کوچز اور کھیلوں کے حکام کے ایک اجلاس میں لایا گیا جہاں ان پر کامیابی نہ حاصل کرنے کی پاداش میں کڑی تنقید کی گئی۔

ٹیم کے کوچ کو کسی تعمیراتی مقام پر مزدوری کرنے بھیج دیا گیا جہاں سے واپسی پر انھیں فٹ بال ایسوسی ایشن میں نچلے درجے کی ملازمت دی گئی۔

شمالی کوریا میں ٹیم اور کوچ کے ساتھ اچھی کارکردگی نہ دکھانے پر کسی بھی دوسرے گروہ کی طرح کا سلوک کیا گیا۔ یقیناً یہ پریشان کن اور اور کسی کی عزت نفس کے لیے ناروا سلوک ہے تاہم یہ سزائیں جیل بھیجے جانے یا سزائے موت سے بہرحال بہتر ہیں۔

بعض معاملات میں تو ایتھلیٹس کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے شمالی کوریا کا ریاستی میڈیا اسے رپورٹ بھی نہیں کرتا۔

اسی بارے میں