اولمپکس: فجی کا پہلا، فیلپس کا 22 واں طلائی تمغہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ریو میں جاری اولمپکس کا چھٹا دن امریکی تیراک مائیکل فیلپس کے لیے ایک اور طلائی تمغے کی نوید لایا ہے اور اب ریو میں ان کے طلائی تمغوں کی تعداد چار ہوگئی ہے۔

جمعرات کو فیلپس نے ریو میں اپنا چوتھا گولڈ میڈل 200 میٹر میڈلے کے مقابلے میں حاصل کیا۔

٭آؤ ریو چلیں: اولمپکس پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

٭ ریو اولمپکس کا چھٹا دن: ویڈیو

وہ لگاتار چار اولمپکس میں کوئی بھی ایک مقابلہ جیتنے والے والے پہلے کھلاڑی بھی بن گئے ہیں۔ انھوں نے سنہ 2004، سنہ 2008 اور سنہ 2012 کے اولمپکس میں بھی اس ریس میں کامیابی حاصل کی تھی۔

یہ اولمپکس میں مجموعی طور پر فیلپس کا 22 واں طلائی تمغہ جبکہ مجموعی طور پر 26واں تمغہ ہے۔

اس مقابلے میں 31 سالہ مائیکل فلپ کے ساتھ ان کے امریکی ساتھی تیراک ریان لوکتے بھی شامل تھے لیکن وہ پانچویں پوزیشن ہی حاصل کر پائے۔

Image caption افریقی ملک فجی نے رگبی کے فائنل مقابلے میں برطانیہ جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دیکر اولمپکس کا اپنا پہلا تمغہ حاصل کیا

جمعرات کو خواتین کے 100 میٹر کے فری سٹائل تیراکی کے مقابلے میں امریکہ کی سیمون مینویل اور کینیڈا کی پینی اولیکسیاک کے درمیان گولڈ میڈل کے لیے مقابلہ ٹائی ہوا۔

اس طرح سیمون مینویل ایسی پہلی سیاہ فام خاتون بن گئیں جنھوں نے تیراکی کے مقابلے میں امریکہ کے لیے طلائی تمغہ حاصل کیا ہو۔

چھٹے دن کی ایک اہم بات جنوبی بحرالکاہل کے ملک فجی کا اولمپکس کی تاریخ میں پہلا تمغہ رہی۔

فجی نے رگبی سیون کے فائنل مقابلے میں برطانیہ جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دیکر طلائی تمغہ حاصل کیا۔

رگبی سیون میں کانسی کا تمغہ جنوبی افریقہ کو ملا جس نے جاپانی ٹیم کو شکست دی۔

Image caption سیمون مینویل طلائی تمغہ جیتنے والی امریکہ کی پہلی سیاہ فام خاتون تیراک بن گئیں

چھٹے دن کے اختتام پر امریکہ 16 طلائی تمغوں سمیت کل 38 تمغے جیت کر میڈل ٹیبل پر سرفہرست ہے جبکہ چین بدستور دوسرے نمبر پر ہے جس کے کھلاڑیوں نے 11 طلائی، آٹھ نقرئی اور 11 کانسی کے تمغے حاصل کیے ہیں۔

جمعرات کو ٹیبل ٹینس میں چینی کھلاڑی ما لونگ نے اپنے ہی ملک کے دوسرے کھلاڑی ژانگ کو ہرا کر خطاب اپنے نام کیا اور اس طرح چین کو ایک اور گولڈ میڈل حاصل ہوا۔

چھٹا دن برطانیہ کے لیے بھی بہت اچھا رہا اور اس کی مردوں کی سائیکلنگ ٹیم نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس جیت کے ساتھ ہی برطانیہ چار گولڈ میڈل، چھ نقرئی اور چھ کانسے کے تمغوں کے ساتھ 16 تمغے جیت کر آٹھویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔

اسی بارے میں