ریو میں برطانیہ کی دوسری پوزیشن مزید مستحکم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سائیکلنگ میں برطانیہ کے جیسن کینی اور لارا ٹراٹ نے طلائی تمغے حاصل کیے

ریو اولمپکس کے 11ویں دن کے اختتام پر جہاں امریکہ 28 طلائی تمغوں سمیت کل 84 تمغوں کے ساتھ میڈل ٹیبل پر سرفہرست ہے وہیں برطانوی کھلاڑیوں نے مزید تین طلائی تمغے جیت کر اپنی ٹیم کی دوسری پوزیشن مزید مستحکم کر دی ہے۔

منگل کو میزبان برازیل ریو اولمپکس میں اپنا تیسرا طلائی تمغہ جیتنے میں بھی کامیاب رہا۔

٭ آؤ ریو چلیں: اولمپکس پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

برازیل کو یہ طلائی تمغہ باکسر رابسن نے 60 کلوگرام کے لائٹ ویٹ مقابلے میں دلوایا جہاں فائنل میں انھوں نے دوسرا راؤنڈ میں اپنے فرانسیسی حریف سفیان اومیہا کو ناک آؤٹ کر دیا۔

امریکہ کے لیے جمناسٹ سیمون بائلز نے فلور روٹین میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ یہ ان مقابلوں میں ان کا چوتھا گولڈ میڈل ہے۔ اس مقابلے میں امریکہ کی ہی الیگزینڈرا ریسمین دوسرے جبکہ برطانیہ کی 16 سالہ ایمی ٹنکلر تیسرے نمبر پر رہیں۔

امریکہ کے دوسرا طلائی تمغہ کرسچیئن ٹیلر نے مردوں کے ٹرپل جمپ مقابلے میں حاصل کیا۔

برطانیہ کے لیے دن کا پہلا طلائی تمغہ کشتی رانی کی ’فِن‘ کلاس میں 29 سالہ سکاٹ نے حاصل کیا۔

Image caption امریکہ کے لیے جمناسٹ سیمون بائلز نے فلور روٹین میں طلائی تمغہ حاصل کیا

ان کے علاوہ سائیکلنگ میں جیسن کینی اور لارا ٹراٹ نے طلائی تمغے حاصل کیے۔ یہ دونوں سائیکلسٹ ستمبر میں رشتۂ ازدواج میں بندھنے والے ہیں۔

کینی نے کیرین مقابلے میں حاصل کیے گئے اس طلائی تمغے کی مدد سے سر کرس ہوئے کا اولمپکس میں چھ طلائی تمغوں کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا۔

ادھر ٹراٹ کا یہ چوتھا اولمپکس گولڈ میڈل تھا اور یوں وہ اولمپکس کی تاریخ کی کامیاب ترین برطانوی خاتون کھلاڑی بن گئیں۔

ایتھلیٹکس میں جمیکا نے عمر میکلیوڈ نے 110 میٹر رکاوٹوں کی دوڑ میں طلائی تمغہ جیتا۔

22 سالہ عمر نے مقررہ فاصلہ 13.05 سیکنڈز میں طے کیا اور سپین کے اورلینڈو اورٹیگا کو چاندی جبکہ فرانس کے دمیتری باسکو کو اس مقابلے میں کانسی کا تمغہ ملا۔

جمیکا کے ہی سپر سٹار ایتھلیٹ یوسین بولٹ باآسانی دو سو میٹر کی دوڑ کے فائنل میں پہنچ گئے۔ بولٹ اب تک ریو میں سو میٹر کی دوڑ میں طلائی تمغہ جیت چکے ہیں اور ان کی نظر دو سو اور چار ضرب سو میٹر ریلے ریس میں طلائی تمغے جیتنے پر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جمیکا کے سپر سٹار ایتھلیٹ یوسین بولٹ باآسانی دو سو میٹر کی دوڑ کے فائنل میں پہنچ گئے

اگر بولٹ یہ دونوں مقابلے جیتتے ہیں تو اولمپکس میں ان کے طلائی تمغوں کی تعداد نو ہو جائے گی۔

وہ گذشتہ دو اولمپکس میں یہ تینوں مقابلے جیت چکے ہیں۔

ایتھلیٹکس میں ہی خواتین کی 1500 میٹر کی دوڑ میں کینیا کی فیتھ کپیگون نے ایتھوپیا کی عالمی ریکارڈ یافتہ ایتھلیٹ گینزیبی دبابا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے طلائی تمغہ جیتا جبکہ دبابا کو چاندی کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا۔

مردوں کے ہائی جمپ مقابلے میں طلائی تمغہ کینیڈا کے ڈیرک ڈروئن کے حصے میں آیا جنھوں نے 2.38 میٹر بلند چھلانگ لگائی۔ قطر کے متعذ عیسیٰ بارشم کو چاندی جبکہ یوکرین کے بوگدان بوندارینکو کو کانسی کا تمغہ ملا۔

میڈل ٹیبل پر تیسرے نمبر پر موجود چین کو دن کے دو طلائی تمغے ڈائیونگ اور ٹیبل ٹینس میں ملے۔

ڈائیونگ میں چاؤ یوان نے مردوں کے تین میٹر سپرنگ بورڈ مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ ٹیبل ٹینس میں خواتین کے ڈبلز مقابلوں میں لی زیاوزیا اور لیو شیون نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔

یہ لگاتار تیسرے اولمپکس ہیں جن میں چین نے خواتین کے ٹیبل ٹینس مقابلوں میں طلائی تمغہ حاصل کیا ہے۔

اسی بارے میں