ریو میں انڈین پہلوان ساکشی ملک کا کانسی کا تمغہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ساکشی ملک کی فتح پر انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے انھیں سوشل میڈیا پر مبارکباد دی ہے

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں جاری اولمپکس مقابلوں میں انڈیا کی ساکشی ملک نے کُشتی کے مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیت لیا ہے۔

ریو اولمپکس مقابلوں میں یہ انڈیا کا پہلا تمغہ ہے جبکہ ساکشی ملک اولمپکس مقابلوں میں انڈیا کے لیے کُشتی کے مقابلوں میں تمغہ حاصل کرنے والی پہلی اور مجموعی طور پر چوتھی خاتون ہیں۔

٭ ریو اولمپکس 2016: خصوصی ضمیمہ

23 سالہ ساکشی نے خواتین کے فری سٹائل ریسلنگ کے 58 کلوگرام مقابلے میں كرغستان کی اسولو تینبیکووا کو پانچ کے مقابلے میں آٹھ پوائنٹس سے ہرایا۔

اس دلچسپ مقابلے میں ایک موقع پر ساکشی ملک پانچ صفر سے ہار رہی تھیں لیکن انھوں نے بھرپور انداز میں واپسی کرتے ہوئے فتح اپنے نام کی۔

اس سے پہلے ریپچیژ راؤنڈ ٹو میں ساکشی نے منگولیا کی پریودورج اوركھون کو بارہ تین کے سکور سے شکست دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ساکشی ملک اولمپکس مقابلوں میں انڈیا کے لیے کُشتی کے مقابلوں میں تمغہ حاصل کرنے والی پہلی اور مجموعی طور پر چوتھی خاتون ہیں

اولمپکس میں انڈیا کے لیے ساکشی ملک سے پہلے کبھی کسی خاتون پہلوان نے تمغہ نہیں جیتا تھا۔

یہ تمغہ جیتنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں انڈیا کے لیے اولمپکس میں تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون بنوں گی۔ امید کرتی ہوں کہ باقی پہلوان بھی اچھی کارکردگی دکھائیں گی۔‘

ساکشی ملک کی فتح پر انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے انھیں سوشل میڈیا پر مبارکباد دی ہے۔

نریندر مودی نے اپنے پیغام میں ساکشی کو ’انڈیا کی بیٹی‘ قرار دیا اور کہا کہ ’رکھشا بندھن کے مبارک تہوار پر انڈیا کی بیٹی ساکشی ملک نے کانسی کا تمغہ جیت کر ہم سب کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔‘

انڈیا کی ریاست ہریانہ کے ضلع روہتک میں پیدا ہونے والی ساکشی نے 12 سال کی عمر میں اکھاڑے کا رخ کیا تھا اور مقامی آبادی کی مخالفت کے باوجود ان کے والدین نے ان کا حوصلہ بڑھایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ساکشی نے خواتین کے فری سٹائل ریسلنگ کے 58 کلوگرام مقابلے میں كرغستان کی اسولو تینبیکووا کو پانچ کے مقابلے میں آٹھ پوائنٹس سے ہرایا

وہ اولمپکس میں تمغہ جیتنے سے قبل سنہ 2014 میں گلاسگو میں منعقدہ دولتِ مشترکہ کھیلوں میں بھی چاندی اور اسی سال انچیون کے ایشیائی کھیلوں میں کانسی کا تمغہ جیت چکی ہیں۔

ساکشی نے کہا کہ اولمپکس میں کانسی کا تمغہ ’12 برس کی محنت کا نتیجہ ہے۔ میں نے آخر تک ہار نہیں مانی اور اپنا پورا زور لگایا کیونکہ مجھے خود پر یقین تھا۔‘

ساکشی کے والد سکھویر ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ساکشی کو کُشتی کا شوق اپنے دادا کو دیکھ کر ہوا تھا۔

’اس نے دن رات محنت کی۔ اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ تمغہ لے کر آئے گی اور اس نے یہ وعدہ پورا کیا ہے۔‘

سکھویر ملک کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ساکشی کے اس کارنامے کے بعد پورا ملک انھیں جان گیا ہے اور لوگ رات سے ہمارے گھر کے باہر جشن منا رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں