امریکی اولمپیئنز پر ’جیت کا ٹیکس‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اچھلتی کودتی اور چھلانگیں لگاتی سیمون بائلز نے اولمپکس مقابلوں کے دوران لاکھوں دلوں میں جگہ تو بنا لی، لیکن جب وہ وطن واپس پہنچیں گی تو بڑے استقبالی جشن کے ساتھ ساتھ بھاری ٹیکس بھی ان کا منتظر ہو گا۔

سیمون بائلز نے 19 سال کی عمر میں پانچ اولمپکس تمغے حاصل کیے ہیں جن میں چار طلائی اور ایک کانسی کا تمغہ شامل ہے۔ انھوں نے مسلسل تین بار عالمی چیمپیئن بننے اور تمام مقابلوں میں طلائی تمغے حاصل کر کے خود کو دنیا کی بہترین جمناسٹ منوا لیا ہے۔

لیکن اتنا کچھ جیتنے پر انھیں کیا ملے گا؟

٭ ریو اولمپکس 2016

سیمون بائلز کو 21 اگست کو تقریباً 43560 ڈالر کے بھاری ٹیکس کا بل دیا جانے والا ہے۔

ٹیکس کی اس رقم کا اندازہ سیمون کو معاہدوں کے تحت حاصل ہونے والے 20 لاکھ ڈالر کی بنیاد پر لگایا گیا ہے، اور خیال کیا جا رہا ہے کہ انھیں امریکہ میں انکم ٹیکس پر لگنے والی سب سے بلند شرح 39.6 فیصد کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔

سیمون بائلز اس معاملے میں تنہا نہیں ہیں۔ ان کے ساتھ دیگر تمغے جیتنے والے امریکی ایتھلیٹس کو بھی ان کی جیت پر ٹیکس کے بل تھمائے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

امریکی اولمپیئنز پر ’فتح کا ٹیکس‘ اولمپک کمیٹی کی جانب سے نہ صرف جیت کی صورت میں ملنے والی انعامی رقم بلکہ میڈل کی مالیت پر بھی ادا کرنا ہو گا۔

ریو اولمپکس کے دوران تمغے جیتنے والے امریکی ایتھلیٹس کو تمغے کے ساتھ ساتھ امریکی اولمپک کمیٹی جانب سے بونس رقم بھی دی جائے گی۔

طلائی تمغہ جیتنے والے ایتھلیٹ کو 25 ہزار ڈالر، چاندی کا تمغہ جیتنے والے کو 15 ہزار ڈالر اور کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والے کو دس ہزار ڈالر ملیں گے۔

لیکن اس تمام انعامی رقم پر آمدنی کے تحت ٹیکس عائد کیا جائے گا اور انھیں لاٹری جیتنے والوں کی طرح انعامی ٹیکس ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔

دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ایتھلیٹس کو اس قسم کے ٹیکسوں کی چھوٹ ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ ان کو حاصل ہونے والے تمغوں کی قیمت کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے اور انھیں اس پر بھی ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

طلائی تمغے میں زیادہ تر چاندی ہوتی ہے اور اس پر سونے کا پانی چڑھایا جاتا ہے۔ اس کی اندازاً قیمت چھ سو ڈالر بنتی ہے۔ چاندی کے تمغے کی مالیت تین سو ڈالر اور کانسی کے تمغے، جس میں زیادہ تر تانبے کا استعمال کیا گیا ہوتا ہے، کی قیمت صرف چار ڈالر کے قریب بنتی ہے۔

اس حساب سے امریکی ایتھلیٹس کو اندازاً طلائی تمغے پر 9900 ڈالر، نقرئی تمغے پر 5940 ڈالر اور کانسی کا تمغہ جیتنے والے کو 3960 ڈالر ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ وہ رقم ہے جو میڈل جیتنے والے ایتھلیٹوں کو ادا کرنا ہوگی۔

اب مائیکل فیلپس اور سیمون بائلز جیسے ایتھیلٹس، جنھوں نے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور کئی طلائی تمغے جیتے ہیں، انھیں اس سے کہیں زیادہ رقم ادا کرنا ہو گی۔

بعض ماہرین کے اندازوں کے مطابق مائیکل فیلپس کی جیتی ہوئی رقم اندازاً ساڑھے پانچ کروڑ ڈالر ہو گی، جس پر انھیں 55 ہزار ڈالر ٹیکس پڑ سکتا ہے۔

اسی بارے میں