ریو اولمپکس: امریکی تیراکوں کو ایئرپورٹ پر روک دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تیراکی کے مقابلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والے امریکی تیراک رائن لوکٹی، جیمی فیجن اور تیراکی کی ٹیم کے دیگر دو ممبران جیک کونگر، گونر بنٹز نے کہا تھا کہ مسلح افراد نے انھیں ریو میں لوٹ لیا تھا

امریکہ کی اولمپک کمیٹی نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ برازیل کے حکام نے دو امریکی تیراکوں گونر بنٹز اور جیک کونگر کو برازیل کے ریو ڈی جنیرو ایئرپورٹ پر روک لیا ہے۔

برازیل کے حکام نے دونوں امریکی تیراکوں کو تفتیش کے لیے بدھ کی رات گئے امریکہ جانے والی فلائٹ سے اتار لیا تھا اور پھر چند گھنٹوں بعد چھوڑ دیا۔

اس سے پہلے ریو ڈی جنیرو میں ایک جج نے امریکی تیراک رائن لوکٹی اور جیمز فیجن کو پولیس کی جانب سے ڈکیتی کی واردات کے شواہد کے حوالے سے پوچھ گچھ کے بعد ملک چھوڑنے کے خلاف حکم جاری کیا تھا تاہم رائن لوکٹی پہلے ہی امریکہ واپس چلے گئے تھے۔

تیراکی کے مقابلوں میں طلائی تمغہ جیتنے والے امریکی تیراک رائن لوکٹی، جیمی فیجن اور تیراکی کی ٹیم کے دیگر دو ممبران جیک کونگر، گونر بنٹز نے کہا تھا کہ مسلح افراد نے انھیں ریو میں لوٹ لیا تھا۔

٭ ریو اولمپکس 2016 پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا بیان سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگز سے مماثلت نہیں رکھتا۔

رائن لوکٹی کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ دو روز قبل امریکہ واپس آ چکے ہیں۔

وکیل جیفری اوسٹرو کا کہنا تھا کہ وہ جج کی جانب سے کوئی بھی حکم جاری ہونے سے پہلے لوٹ آئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ برازیلی حکام کو بیان دینے کے بعد لوکٹی کو یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ مزید تفتیش یا کسی اور مقصد کے لیے انھیں یہاں رکنا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریو اولمپکس میں لوکٹی نے 4x200 فری سٹال ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا ہے

پیر کو رائن لوکٹی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں ان کی امریکہ واپسی کی فٹیج بھی جاری کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ رائن لوکٹی کا شمار دنیا کے کامیاب ترین تیراکوں میں ہوتا ہے اور وہ 12 اولمپک میڈل جیت چکے ہیں۔

ریو اولمپکس میں انھوں نے 4x200 فری سٹال ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا ہے۔

ان کے ساتھی تیراک فیجین نے بھی 4x100 میٹر فری سٹائل ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا اور انھوں نے اخبار سان انتونیو ایکسپریس کو بتایا ہے کہ وہ برازیل میں ہی ہیں۔

مبینہ ڈکیتی کی واردات کے حوالے سے تیراکوں کے بیان شروع سے ہی تضاد دیکھا گیا ہے۔

رائن لوکٹی نے پہلے امریکی چینل این بی سی کو اس بارے میں بتایا تھا لیکن انٹرنیشنل اولپمک کمیٹی کے ترجمان مارک ایڈمز نے کہا تھا کہ ڈکیتی کی خبروں میں بالکل سچائی نہیں ہے۔

تاہم بعد میں امریکی اولمپک کمیٹی نے اس واقعے کی تصدیق کر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تیراک فیجین نے بھی 4x100 میٹر فری سٹائل ریلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا

رائن لوکٹی نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی فیجین، گنر بنٹز اور جیک کونگر فرانسیسی اولمپک ٹیم کے ایک پروگرام میں شرکت کے بعد ٹیکسی میں واپس ایتھلیٹکس ویلج جا رہے تھے کہ راستے میں ان کو روک کر لوٹ لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں نے مسلح پولیس کی وردی پہن رکھی تھی اور ایک شخص نے ان کے سر پر بندوق رکھی اور رقم اور دیگر استعمال کی اشیا کا مطالبہ کیا۔

تاہم اس کیس کی تفتیش کرنے والی پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں ڈکیتی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ پولیس کی جانب سے تیراکوں کے بیانات میں ڈاکوؤں کی تعداد کے حوالے سے بھی تضاد پایا گیا ہے۔

رائن لوکٹی اور فیجین نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ اور دیگر تیراک اولمپک ولیج میں مقامی وقت کے مطابق چار بجے لوٹے تھے لیکن سی سی ٹی وی ریکارڑنگ سے ظاہر ہوتا ہے وہ مقامی وقت کے مطابق سات بجے لوٹ کر آئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس ڈرائیور کو تلاش نہیں کر سکی جس نے تیراکوں کے بقول انھیں واپس پہنچایا تھا۔

اسی بارے میں