ریو اولمپکس: 1908 کے بعد برطانیہ کی بہترین کارکردگی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption چین کے کھلاڑیوں نے 15 ویں دن چار طلائی تمغے حاصل کیے

برطانیہ کے ایتھلیٹ محمد فرح نے لندن اولمپکس کے بعد ریو میں جاری اولمپکس میں کامیابی کے ساتھ اپنے طلائی تمغوں کا دفاع کیا ہے جبکہ امریکہ اور برطانیہ بدستور سر فہرست ہیں۔

انھوں نے لندن کی طرح رواں اولمپکس میں بھی پانچ ہزار اور دس ہزار میٹر مردوں کی دوڑ میں طلائی تمغہ حاصل کیا ہے اور اس طرح وہ اولمپکس کی تاریخ میں دوسرے شخص ہیں جنھوں نے ان دونوں زمروں میں لگاتار دو بار طلائی تمغہ حاصل کیا ہے۔

مو فرح نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دس ہزار میٹر دوڑ کے بعد میری ٹانگیں تھک چکی تھیں۔ مجھے پتہ نہیں وہ کس طرح ٹھیک ہوئیں۔‘

’بچپن میں میں نے صرف ایک میڈل کی خواہش کی تھی۔ یہ ایک لمبا سفر رہا۔ اگر آپ کوئی خواب دیکھتے ہیں اور اس کے لیے حوصلہ رکھتے اور محنت و لگن کے ساتھ کام کرتے ہیں تو آپ اسے پورا کر سکتے ہیں۔‘

ریو اولپمکس میں 1908 کے بعد برطانیہ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مو فرح نے برطانیہ کے لیے دو طلائی تمغے حاصل کیے

لندن کے مقابلے امریکہ اور برطانیہ نے مجموعی طور پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ چین کو بڑا نقصان ہوا ہے اور اس نے ابھی تک 70 میڈلز حاصل کیے ہیں جبکہ گذشتہ اولمپکس میں اس کے تمغوں کی تعداد 88 تھی جس میں 39 طلائی تمغے تھے۔

اب جبکہ چند طلائی تمغوں کے لیے مقابلہ بچا ہے ایسے میں بہت زیادہ الٹ پھیر کی گنجائش نظر نہیں آتی تاہم چین اور برطانیہ میں دوسری پوزیشن کے لیے کانٹے کی ٹکر ہے۔ چین مجموعی طور پر برطانیہ سے آگے ہے لیکن طلائی تمغوں میں وہ ایک تمغہ پیچھے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ کی خواتین رنرز نے 4x400 میٹر دوڑ جیت لی

مو فرح کے طلائی تمغے کے ساتھ برطانیہ نے لندن اولمپکس میں حاصل ہونے والے 65 تمغوں کی تعداد کی برابری کر لی تھی جبکہ 4x400 میٹر ریلے میں جب اس نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا تو اس کے میڈل کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہو گيا۔

امریکہ نے لندن میں مجموعی طور پر 104 تمغے حاصل کیے تھے جس میں طلائی تمغوں کی تعداد 46 تھی جبکہ ریو اولمپکس میں 15 ویں دن تک اس نے ابھی تک 43 طلائی تمغوں کے ساتھ مجموعی طور پر 116 تمغے حاصل کر لیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لی چونگ ویئی لگاتار تیسرے اولمپکس کے فائنل میں ہارنے کے بعد

امریکہ نے خواتین اور مردوں دونوں کی 4x400 میٹر ریلے دوڑ میں طلائی تمغے حاصل کیے جبکہ اس نے لگاتار چھٹی بار خواتین کے باسکٹ بال مقابلے میں طلائی تمغہ حاصل کرکے اپنا دبدبہ قائم رکھا ہے۔

تائیکونڈو میں آذربائیجیان کے رازق عیسیٰ ایو نے مردوں کے 80 کلو گرام سے زیادہ وزن کےزمرے میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔

جنوبی افریقہ کی کاسٹر سیمینیا نے خواتین کی 800 میٹر دوڑ میں طلائی تمغہ حاصل کیا جبکہ فٹبال میں برازیل کی ٹیم نے جرمنی کو پینلٹی شوٹ آوٹ میں شکست دے کر طلائی تمغہ حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption برازیل کی فٹبال ٹیم کا جشن

چین نے 15 ویں دن چار طلائی اور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ خواتین والی بال مقابلے میں چین نے سربیا کو ہرا کر طلائی تمغہ حاصل کیا اور تائیکونڈو کے 67 کلو گرام سے زیادہ وزن کے زمرے میں ژنگ شوئن نے طلائی طمغہ حاصل کیا جبکہ ملائیشیا کے کھلاڑی لی چونگ ویئی کو ہرا کر چین لونگ نے بیڈمنٹن کے مردوں کے سنگلز کا طلائی تمغہ حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption روس کی مارگریٹا مامون اپنی لے میں

ملائشیا کے لی چونگ لگاتار تیسری بار اولمپکس کے فائنلز میں شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔

ردمک جمناسٹکس میں روس کی مارگریٹا مامون نے آل راؤند انفرادی زمرے میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔

اسی بارے میں