ریو اولمپکس کے یادگار لمحے

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں پانچ سے 21 اگست تک منعقد ہونے والے اولمپکس کا ہر لمحہ کسی نہ کسی فرد کے لیے خاص تھا اور یہ مقابلے بہت سے لوگوں کے لیے یادگاری رہے۔ ان یادگار لمحات میں سے بعض یہاں پیش کیے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

سب سے پہلا یادگار لمحہ وہ تھا جب ریو اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں برازیل کے لمبی دوڑ کے ایتھلیٹ وینڈرلی ڈی لیما نے اولمپک مشعل روشن کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اس کے فورا بعد ٹونگا کے جھنڈا بردار لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے۔ اپنے ملک کے لیے تائیکوانڈو کے مقابلے میں شرکت کرنے والے پیٹا ٹوفاٹوفوا بغیر قمیص کے اپنے روایتی لباس میں پرچم اٹھائے نظر آئے جبکہ جبکہ انھوں نے اپنے جسم پر تیل بھی مل رکھا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اولمپکس کی تاریخ میں یہ پہلا مقابلہ تھا جس میں پناہ گزینوں کی بھی ٹیم نے شرکت کی اور اس میں دس ایتھلیٹ شامل تھے اور ان کا تعلق جنوبی سوڈان، شام، جمہوریہ کونگو اور ایتھیوپیا سے تھا۔ افتتاحی تقریب میں ان کا ہیرو کی طرح استقبال کیا گيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

ریو کی ایک تصویر انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی اور وہ یہ ظاہر کرتی تھی کہ اولمپکس میں ہر شکل اور سائز کے لوگوں کے لیے جگہ ہے۔ یہ تصویر امریکی جمناسٹ ریگن سمتھ اور باسکٹ بال کھلاڑی دی آندرے جورڈن کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ

جنوبی کوریا اور شمالی کوریا، جو تکنیکی طور پر ایک دوسرے سے جنگ کی حالت میں، ان کے دو ایتھلیٹوں کی ایک ساتھ مسکراتی ہوئی سیلفی بھی یادگار لمحوں میں شامل تھی اور یہ سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنی۔

تصویر کے کاپی رائٹ

لیکن اس کا یہ مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ اچھا اچھا ہی نہیں تھا۔ تیراکی کے لیجنڈ مائکل فیلپس کی تصویر ٹوئٹر پر وائرل ہوئی جس میں وہ مقابلے سے قبل اپنے حریف کوگھورتے دکھائی دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

میزبان ملک کے لیے پہلا سنہری موقع اس وقت سامنے آیا جب 57 کلوگرام وزن کے جوڈو مقابلے میں رفائلا سلوا نے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ ان کا تعلق ریو کے غریب ترین علاقے سے ہے اور ان کی جیت سے وہاں خوشی کے دیے جل اٹھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اولمپکس کی تاریخ میں سب سے زیادہ میڈل حاصل کرنے والے امریکی تیراک مائیکل فیلپس نے جنوبی افریقہ کے لا کلوز کو 200 میٹر بٹر فلائی میں شکست دی۔ بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ کلوز کو اپنے حریف کو دیکھنے کے بجائے تیراکی پر توجہ دینی چاہیے تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ

یہ اولمپکس صرف فاتحین کا نہیں تھا۔ پناہ گزینوں کی ٹیم کی نمائندگی کرنے والے شام کے رامی انیس کی لوگوں نے اٹھ کر حوصلہ افزائی کی جب انھوں نے 100 میٹر فری سٹائل تیراکی میں اپنی بہترین کارکردگی پیش کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ

فیجی جیسے چھوٹے ملک کے لیے یادگار تاریخی لمحہ اس وقت سامنے آيا جب انھوں نے رگبی سیون میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ یہ ان کے ملک کے لیے پہلا تمغہ تھا اور جیت کا جشن انھوں نے اپنے مخصوص گیت گا کر منایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

امریکہ کی جمناسٹ سیمون بائلز نے لوگوں کو اپنے پرفارمنس سے ششدر کر دیا اور انھوں نے خواتین کی آل راؤنڈ درجہ بندی میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ انھوں نے ریو میں مجموعی طور پر چار طلائی اور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

ایک پول میں پانی کے رنگ میں تبدیلی بھی موضوع بحث رہی کیونکہ راتوں رات اس کا پانی نیلے سے سبز ہو گيا۔ منتظمین نے پانی میں کیمیائی اجزا کی سطح کو اس کے لیے مورد الزام ٹھہرایا، تاہم کہا کہ اس سے تیراکوں کی صحت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

بیچ والی بال مقابلے میں جب مصر کی دعا الغوبیشی نے حجاب کے ساتھ شرکت کی تو ان کی تصویر بھی انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ

امریکی خاتون تیراک کیٹی لیڈیکی نے 800 میٹر فی سٹائل مقابلے میں اپنا ہی ریکارڈ تقریباً دو سیکنڈ سے توڑ دیا اور وہ اپنے حریف سے تقریبا 12 سیکنڈ آگے تھیں۔

اس کے علاوہ وہ خواتین کے 200 میٹر 400 میٹر فری سٹائل اور چار ضرب دو سو میٹر فری سٹائل ریلے میں بھی فاتح رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

جب ساتویں دن بالآخر ایتھلیٹکس کے مقابلوں کی ابتدا ہوئی تو خالی نشستیں بہت کچھ بیان کر رہی تھیں تاہم ایتھلیٹوں کی کارکردگی اپنی جگہ رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اولمپکس میں پہلا عالمی ریکارڈ اس وقت بنا جب ایتھیوپیا کی الماز ایانا نے دس ہزار میٹر کی دوڑ کو 14 سیکنڈ سے توڑ دیا اور طلائی تمغہ حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

مصر کے اسلام الشہابی کے رویے پر اس وقت تنازع کھڑا ہوگيا جب انھوں نے اسرائیل کے اپنے حریب اوس سیسن سے مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

سنگاپور کے تیراک جوزف سکولنگ بچپن سے مائیکل فیلپس کو اپنا ہیرو مانتے رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے ہیرو کو 100 میٹر بٹر فلائی میں شکست دے کر اپنے ملک کے لیے پہلا طلائی تمغہ حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

سائیکلنگ کے ٹریک کی ایک تصویر بھی توجہ کا مرکز رہی جس میں نیدرلینڈز کی لورن وان رائزن نے فرانس کی ورجنی کوئف کے ساتھ خطرناک ٹکر سے خود کو بال بال بچایا اور سائیکل کو کنارے کی دیوار پر دوڑا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

بعض ایتھلیٹوں کو چاندی یا کانسی کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا۔ لیکن لتھوانیا کے ویٹ لفٹر نے ایسا نہیں ہونے دیا اور 94 کلو گرام کے درجے میں طلائی تمغہ حاصل کر کے خوشی کا اظہار اس الٹی قلابازی سے کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

جب مو فرح ٹریک پر گرے تو برطانیہ کی سانسیں تھم گئیں لیکن وہ پھر اٹھے اور انھوں نے مردوں کی دس ہزار میٹر دوڑ میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

جیتنے کے بعد آنسو ہی عام نہیں برطانیہ کے سر بریڈلی وگنز نے سائیکلنگ ٹیم پرسوٹ میں پانچواں میڈل حاصل کیا تو اپنی زبان باہر نکال کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

وہ پہلے برطانوی ہیں جنھوں نے آٹھ اولمپکس میڈلز جیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

چینی کی ڈائیور ہی زی نے خواتین کے تین میٹر سپرنگ بورڈ مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیتا۔

تقریب کے وقت ان کے ملک کے ساتھی ڈائیور قن کائی وہاں پہنچے اور انھوں نے اپنے گھٹنے کے بل انگوٹھی لے کر انھیں شادی کی پیشکش کی اور ہی زی نے ہامی بھر لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ

یوسین بولٹ ہمیشہ توجہ کا مرکز رہتے ہیں لیکن 100 میٹر دوڑ کے سیمی فائنل مقابلے میں انھوں نے دوڑ کے درمیان کیمرے کے لیے مسکرانے کا وقت نکال لیا۔

انھوں نے ریو میں جن تین مقابلوں میں شرکت کی ان سب میں طلائی تمغہ حاصل کیا اور وہ لگاتار تین اولمپکس میں یہ کارنامہ سرانجام دینے والے پہلے ایتھلیٹ بنے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

وہ لمحہ یادگار تھا جب جنوبی افریقہ کے ایتھلیٹ ویڈے وان نیکرک نے 400 میٹر دوڑ میں مائیکل جانسن کا 17 سال پرانا ریکارڈ توڑتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔

اس کا سہرا ان کی 74 سالہ پر دادی کو جاتا ہے جو ان کی ٹرینر رہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

آپ ایک رقص کرنے والے ویٹ لفٹر کو کیسے بھول سکتے ہیں کیریباتی کے ڈیوڈ کٹواٹاؤ جب بھی کامیابی کے ساتھ وزن اٹھاتے رقص کے ایک دو قدم ضرو اٹھاتے۔

وہ فائنل میں چھٹے نمبر پر آئے لیکن ناظرین کو بہت محظوظ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

بہاماز کی شونے ملر نے ڈرامائی انداز میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ وہ 400 میٹر کی دوڑ کے فائنل میں اخیر میں لڑکھڑا گئیں اور انھوں نے خود کو فنشنگ لائن پر گرا دیا اور امریکہ کی عالمی چیمپیئن کو جیت سے محروم کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

آئرلینڈ کے باکسر مائیکل کونلان کوارٹر فائنل میں پوائنٹس کی بنیاد پر ہار گئے لیکن انھوں نے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان سے اولمپک گولڈ میڈل جیتنے کا خواب چھین لیا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

برطانیہ کے سنہرے جوڑے کے لیے سنہری رات۔ پہلے لارا ٹراٹ نے خواتین کے اومنیم مقابلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا اور پھر وہ اپنے منگیتر جیسن کیری کی جیت دیکھنے کے لیے وہیں رکی رہیں۔ ان کے منگیتر نے تیسرا طلائی تمغہ حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

فرانس کے رینو لیویلینی کی آنکھوں میں آنسو۔ انھیں پول والٹ میں چاندی کا تمغہ ملا۔ تماشائیوں نے ان کا مذاق اڑایا اور فائنل میں میزبان ملک کے تیاگو براز دا سلوا نے ڈرامائی انداز میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

ریو کی سب سے عجیب داستان امریکہ کے طلائی تمغہ جیتنے والے تیراکوں اور پیٹرول سٹیشن کی ہے۔

امریکی تیراک ریان لوکٹے، جمی فیگن اور جیک کونگر لوٹے جانے کی جھوٹی کہانی اور عالمی سکینڈل کا حصہ بن گئے۔ اس کے بعد پولیس تفتیش اور معافیوں کا سلسلہ چل نکلا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

کیا یہ برادرانہ شفقت اور محبت کا منظر ہے؟ یقیناً ایسا ہی ہے، کیونکہ براؤن لی برادران الیسٹر اور جانی نے مردوں کے ٹرائی ایتھلون میں سونے اور چاندی کے تمغے حاصل کیے۔ یہ منظر بہت دنوں تک لوگوں کی یادداشت میں محفوظ رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

بولٹ نے ایک بار پھر اپنی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کینیڈا کے اپنے حریب آندرے ڈی گراس کی تعریف و توصیف کی۔ دونوں سیمی فائنل میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آئے لیکن فائنل میں بازی یوسین بولٹ کے ہاتھ ہی رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ

امریکہ کی چار ضرب سو میٹر ریلے کی ٹیم فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے ابتدائی مقابلے میں ڈس کوالیفائی ہونے اور پھر کامیاب اپیل کے بعد تنہا ٹریک پر دوڑی۔ فائنل میں اس ٹیم نے طلائی تمغہ حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

نک سکیلٹن برطانیہ کے سب سے زیادہ عمر میں اولمپک گولڈ میڈل حاصل کرنے والے دوسرے شخص بنے جب انھون نے گھڑسواری میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔ 58 سالہ گھڑسوار نے 2000 میں ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اولمپک کے حقیقی جذبے کا اظہار خواتین کی پانچ ہزار میٹر دوڑ میں سامنے آيا جب امریکہ کی ایتھلیٹ نے نیوزی لینڈ کی ایتھلیٹ کو اٹھایا اور پھر جب فنشنگ لائن پر امریکہ ایتھلیٹ گریں تو نیوزی لینڈ کی نکی ہیملن نے انھیں سہارا دے کر اٹھایا۔ ان کے اس امداد باہمی کے مظاہرے کے سبب آخری نمبروں آنے پر بھی دونوں کو فائنل میں جگہ دی گئي۔

تصویر کے کاپی رائٹ

فٹبال کے ورلڈ کپ میں جرمنی کے ہاتھ ایک گول کے مقابلے سات گول سے شکست کھانے کا بھوت برازیل نے اولمپک میں اتار دیا جب انھوں نے پینلٹی شوٹ آؤٹ میں جرمنی کو ہرا کر طلائی تمغہ حاصل کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اگر یوسین بولٹ نے ٹرپل ٹرپل یعنی تین اولمپکس میں تین تین طلائی تمغے حاصل کیے تو برطانیہ کے محمد فرح نے دو اولمپکس میں دو دو طلائی تمغے حاصل کیے۔ انھوں نے پانچ ہزار اور دس ہزار میٹر دوڑ کے مقابلے جیتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یوسین بولٹ کے ٹرپل ٹرپل

اسی بارے میں