’پہلی پوزیشن مسلسل محنت کا نتیجہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مصباح الحق نے سنہ 2010 میں مشکل حالات سے دوچار پاکستانی ٹیم کی قیادت سنبھالی اور ٹیم کو اہم کامیابیوں سے ہمکنار کیا

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کے نزدیک پاکستان کا ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرلینا کوئی معمولی بات نہیں اور یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوگیا بلکہ یہ مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔

مصباح الحق کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم اگر اپنی تاریخ میں پہلی بار عالمی نمبر ایک بنی ہے تو یہ ٹیم ورک اور خود پر یقین کے سبب ہی ممکن ہوسکا ہے۔

مصباح الحق کے نزدیک عالمی رینکنگ میں پہلی بار پہلی پوزیشن حاصل کرنے کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ پاکستان سنہ 2009 سے اپنی تمام تر انٹرنیشنل کرکٹ ملک سے باہر کھیلنے پر مجبور ہے۔

بحیثیت کپتان وہ پاکستان میں کرکٹ کے شائقین کے جذبات کو ہمیشہ محسوس کرتے آئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا ان شائقین کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ درحقیقت یہ تمام شائقین کے لیے ایک تحفہ بھی ہے جنھوں نے ہر وقت پاکستانی ٹیم کو سپورٹ کیا ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں پاکستان کی پہلی پوزیشن پر خوش ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اظہرعلی کا کہنا ہے کہ مصباح الحق نے تمام کھلاڑیوں کو مشکل حالات میں مقابلہ کرنا سکھایا ہے

ون ڈے ٹیم کے کپتان اظہرعلی اس کا کریڈٹ کپتان مصباح الحق کو دیتے ہیں جنھوں نے سنہ 2010 میں مشکل حالات سے دوچار پاکستانی ٹیم کی قیادت سنبھالی اور ٹیم کو اہم کامیابیوں سے ہمکنار کیا۔

اظہرعلی کا کہنا ہے کہ مصباح الحق نے تمام کھلاڑیوں کو مشکل حالات میں مقابلہ کرنا سکھایا ہے۔

اظہر علی بھی اس بات کو بڑی اہمیت دیتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم اپنے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیل پا رہی ہے لیکن اس کے باوجود اس نے مختلف کنڈیشنز میں کھیلتے ہوئے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اظہر علی نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کی ابتدا سنہ 2010 میں کی تھی اور ابھی تک وہ پاکستان میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیل پائے ہیں۔

اظہرعلی کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کی عمدہ کارکردگی میں کئی نام یاد آتے ہیں جن میں سعید اجمل، عبدالرحمن، جنید خان اور عمرگل بولنگ میں قابل ذکر رہے ہیں جبکہ بیٹنگ میں یونس خان سب سے نمایاں رہے ہیں۔ مصباح الحق اور اسد شفیق نے بھی عمدہ بیٹنگ کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاسر شاہ کا کہنا ہے کہ مصباح الحق بڑے ٹھنڈے دماغ والے کپتان ہیں

اظہرعلی کا کہنا ہے کہ کوچنگ سٹاف کی محنت کو کسی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان سب کی کوششوں کے نتیجے میں ہی آج پاکستانی ٹیم اس مقام پر پہنچنے میں کامیاب ہوسکی ہے۔

پاکستانی ٹیم کے لیگ سپنر یاسر شاہ کا کہنا ہے کہ انھیں فخر ہے کہ وہ اس ٹیم کا حصہ ہیں جو عالمی نمبر ایک بنی ہے۔

یاسر شاہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی تمام تر کرکٹ مصباح الحق کی کپتانی میں کھیلی ہے انھیں پتہ ہے کہ کس کھلاڑی کی صلاحیت سے کیسے فائدہ اٹھانا ہے۔وہ بڑے ٹھنڈے دماغ والے کپتان ہیں۔

یاسر شاہ کہتے ہیں کہ جب وہ ٹیم میں آئے تھے تو ٹیم کچھ ڈاؤن تھی جس کا سبب سعید اجمل پر بولنگ ایکشن کےسبب لگنے والی پابندی تھی۔ انھیں اس بات کی خوشی ہے کہ ان کی کارکردگی ٹیم کے کام آئی ہے۔

اسی بارے میں