1990 کی کرکٹ 2016 میں نہیں چلے گی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کی ٹیم آخری اوورز میں زیادہ سکور نہیں کر پائی

انگلینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کے ابتدائی بیٹسمینوں کا وہی جلدی آؤٹ ہونا، وہی مڈل آرڈر کا ریسکیو مشن اور وہی دو، ڈھائی سو رنز۔

پاکستان کی اننگز کسی پرانی ہندی فلم کا سکرپٹ نئے چہروں کے ساتھ لکھنے جیسا ہے۔

* بارش سے متاثرہ میچ میں انگلینڈ 44 رنز سے فاتح

اس میچ کے بعد انگلینڈ اور پاکستان کی کارکردگی کا موازنہ کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ موازنہ ہمیشہ برابری کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی دیکھ کر نہ تو ٹیلنٹ کا پتہ چلتا ہے اور نہ ہی اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کھلاڑی فارم میں ہیں یا نہیں۔

اگر کچھ معلوم ہوتا ہے تو وہ یہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ ابھی تک 80 کی دہائی اور 90 کے اوائل میں پھنسی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انگلینڈ کے بلے بازوں نے ابتدائی نقصان کے بعد عمدہ اننگز کھیلی

جس طرح دنیا کے ہر اس کھیل میں جہاں ٹیم ایک یونٹ کی طرح کھیلتی ہے وہاں اکیلا کھلاڑی ہر بار آپ کو میچ نہیں جتوا سکتا۔ اسی طرح پاکستانی شائقین ہر بار کسی میچ ونر پر بھروسہ کر کے میچ جیتنے کی امید نہیں کر سکتے۔

ایک بار میرے ساتھ ایک صحافی نے مصباح الحق سے ورلڈ کپ کے دوران سوال کیا کہ آپ کی بیٹنگ جارحانہ نہیں ہے اور یہ میچ کی رفتار سست کر دیتی ہے تو اس پر مصباح نے جواب میں کہا کہ جارحانہ میچ کھیلنے کے لیے آپ کے پاس وسائل بھی ہونے چاہییں۔

اس میچ میں اظہر علی کی بیٹنگ دیکھ کر اور میڈیا روم میں کچھ صحافیوں کی ان پر تنقید سن کر مجھے مصباح کی یہی بات یاد آ گئی۔

لیکن پھر بھی اگر اظہر علی تیز کھیل کر آؤٹ ہو جاتے تو پاکستان کا سکور شاید 200 کا ہندسہ بھی پار نہ کر پاتا۔

پاکستان کی اننگز میں صرف اظہر علی ہی وکٹ پر رک کر سکور کر سکے۔ سرفراز اور بابر اعظم نے بھی رنز کیے لیکن وہ زیادہ دیر نہ تو وکٹ پر رک سکے اور نہ ہی ڈیتھ اوورز یعنی آخری اوورز میں سکور کر سکے اور بالکل اسی طرح کے کچھ مسائل کا سامنا پیچھے آنے والے بیٹسمینوں کو بھی ہوا۔

کھلاڑیوں کا تیزی سے سکور نہ کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان میں ٹیلنٹ نہیں لیکن اس سے یہ بات یقینی ضرور ہو جاتی ہے کہ موجودہ ٹیم کو جدید ون ڈے کرکٹ کو تھوڑا سا ہی سہی لیکن قریب سے دیکھنا اور سمجھنا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کو اپنی درجہ بندی میں بہتری کے لیے یہ سیریز واضح برتری سے جیتنی ہو گی

موجودہ ون ڈے ٹیموں کے بیٹسمینوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان میں کوئی بٹن ہو جو کہ 30 اوورز کے بعد دبا دیا جاتا ہے اور بیٹسمین ون ڈے چھوڑ کر ٹی ٹوئنٹی کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ بٹن نہیں بلکہ جدید ون ڈے کرکٹ کھیلنے کی طرز ہے۔ پاکستان کا اس طرز کی کرکٹ نہ کھیلنے کی وجہ صرف یہ نہیں کہ ہمارے یہاں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو رہی بلکہ اس کے پیچھے بڑی وجہ ملک میں کرکٹ کے بنیادی ڈھانچے کا جدت اس کے اس دور میں پیچھے رہ جانا ہے۔

ایئن چیپل سے ایک بار شارجہ کرکٹ گراؤنڈ میں بات ہوئی تو انھوں نے پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور میں انھوں نے جب باغ جناح میں کھلاڑیوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا تو کھڑے کھڑے دو انٹرنیشنل لیول کی ٹیمیں بنا لیں۔ بولر بیٹسمین اور فیلڈر۔

پاکستان کے پاس ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ اگر کمی ہے تو وہ ہے سوچ کی، جدید کرکٹ کھیلنے کی سوچ۔ بس یہی فرق تھا انگلینڈ اور پاکستان میں۔ انگلش کھلاڑی 2016 کا ون ڈے کھیل رہے تھے اور پاکستان کی ٹیم 1990 کا۔

اسی بارے میں