ریو اولمپکس اعدادوشمار کے آئینے میں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں پانچ سے 21 اگست تک منعقد ہونے والے اولمپکس 2016 میں 207 ممالک سے تعلق رکھنے والے دس ہزار سے زائد ایتھلیٹس نے 31 کھیلوں میں حصہ لیا۔

ان 16 دنوں میں ریکارڈ ٹوٹے، تاریخ رقم ہوئی، لیجنڈز بنے اور سپرسٹارز نے جنم لیا جبکہ ان مقابلوں میں 306 تمغے دیے گئے۔

اس سارے ایونٹ کے اعداد و شمار کچھ یوں رہے:

امریکہ کی پہلی پوزیشن برقرار

  • امریکہ نے مسلسل دوسری اور مجموعی طور پر 17ویں مرتبہ میڈل ٹیبل پر 43 تمغوں طلائی تمغوں کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی۔
  • امریکی ٹیم کی جانب سے اس قبل مجموعی طور سنہ 1984 کے بعد سب سے زیادہ جیتے ہوئے تمغوں کی تعداد 116 تھی۔ سنہ 1984 میں امریکہ نے اپنی ہی سرزمین پر 174 تمغے جیتے تھے۔
  • ایتھلیٹکس میں امریکہ 31 تمغوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جن میں 13 طلائی تمغے شامل تھے۔ یہ تعداد دوسرے نمبر پر رہنے والی جمیکا کی ٹیم سے 20 تمغے زیادہ ہیں۔ جمیکا نے چھ طلائی تمغے حاصل کیے تھے۔

  • تیراکی میں بھی امریکہ سب سے آگے رہا۔ 104 تمغوں میں سے اس نے 32 فیصد یعنی 33 تمغے تیراکی میں حاصل کیے۔ ان تمغوں میں 16 طلائی تمغے شامل ہیں۔امریکہ کے سب سے قریبی حریف آسٹریلیا نے تیراکی کے مقابلوں میں 10 تمغے جیتے جن میں تین طلائی تمغے شامل رہے۔
  • ریو اولمپکس امریکہ کے لیے اس لیے بھی یادگار رہا کیونکہ وہ ان مقابلوں میں دو قابل ذکر سنگ میل عبور کرنے میں کامیاب رہا۔امریکہ ایک ہزار طلائی اور مجموعی طور پر ڈھائی ہزار تمغے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اس طرح وہ آل ٹائم اولمپکس میڈل ٹیبل پر اپنی برتری بڑھانے میں بھی کامیاب ہوا ہے۔

پہلی مرتبہ اولمپکس میڈل جیتنے والے ممالک

ریو اولمپکس میں فجی، اردن اور کوسوو وہ تین ممالک رہے جو پہلی مرتبہ اولمپکس میں کوئی تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

فجی نے اولمپکس میں رگبی سیون کے مردوں کے مقابلوں میں طلائی تمغہ حاصل کیا۔

اردن کے احمد ابوغوث نے مردوں کے 68 کلو گرام تائیکوانڈو مقابلوں میں پہلا تمغہ جیتا۔

پہلی مرتبہ اولمپکس میں شمولیت کرنے والے ملک کوسوو کی جانب سے ازالنڈا كلمینڈي نے جوڈو کے 52 کلوگرام مقابلےمیں طلائی تمغہ جیت کر اپنے ملک کو پہلی بار یہ افتخار دلایا۔

تین امریکی ایتھلیٹس کا میڈل ٹیبل پر راج

امریکہ کی جانب سے تین ایتھلیٹس مائیکل فلپس، کیٹی لیڈیکی اور سیمون بائلز سب سے زیادہ میڈلز حاصل کرنے والے ایتھلیٹس رہے۔

  • اپنے پانچویں اولمپکس میں مائیکل فیلپس اپنے اولمپکس تمغوں کی تعداد کو 28 تک بڑھانے میں کامیاب رہے۔ ان میں 23 طلائی، تین چاندی اور دو کانسی کے تمغے شامل ہیں۔
  • خاتون امریکی تیراک کیٹی لیڈیکی نے چار طلائی اور ایک چاندی کا تمغہ جیتا اور خواتین تیراکی کے فری سٹائل مقابلوں میں سرفہرست رہیں۔
  • 19 سالہ جمناسٹ سیمون بائلز نے چار طلائی اور ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

بولٹ کا جادو ایک بار پھر چل گیا

جمیکا کے ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ دنیا کے تیز ترین ایتھلیٹ ہیں۔

انھوں نے ریو اولمپکس میں تین طلائی تمغے جیتے جس کے بعد ان کے تمغوں کی مجموعی تعداد نو ہو گئی ہے۔

انھوں نے 4x100 ریلے، 100 اور 200 میٹر دوڑ میں طلائی تمغے حاصل کیے۔

نو طلائی تمغے جیتنے کے بعد یوسین بولٹ امریکی سپرنٹر اور لانگ جمپر کارل لوئس اور فن لینڈ کے طویل فاصلے کی دوڑ کے ایتھلیٹ پاوو نرمی کے برابر آگئے ہیں۔

چند قابل ذکر سنگ میل

  • جاپان کے کوہی اوچیمورا گذشتہ 44 سالوں میں مسلسل اولمپک ٹائٹل جیتنے والے پہلے آرٹسٹک جمناسٹ بن گئے ہیں۔انھوں نے جاپانی ٹیم کو 2004 کے بعد پہلا طلائی تمغہ بھی دلایا۔
  • جنوبی کوریا نے پہلی مرتبہ آرچری کے مقابلوں میں تمام چار طلائی تمغے حاصل کیے۔ آرچری کے گذشتہ مقابلوں میں 36 طلائی تمغوں میں سے جنوبی کوریا نے 23 تمغے حاصل کر رکھے ہیں۔
  • برطانیہ کے مو فرح مسلسل دو مرتبہ پانچ ہزار میٹر اور دس ہزار میٹر دوڑ جیتنے والے پہلے ایتھلیٹ بن گئے ہیں۔ اس سے قبل یہ کارنامہ فن لینڈ کے لیزی وائرن نے 1972 اور 1976 اولمپکس میں سرانجام دیا تھا۔
  • برطانوی ٹیم میں شامل ٹینس سٹار اولمپکس میں اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے والے پہلے کھلاڑی بنے، جبکہ اسی دن گلف مقابلوں میں 112 سالوں بعد جسٹن روز نے برطانیہ کو طلائی تمغہ دلوایا۔
  • عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے امریکی ایتھلیٹ ایشٹن ایٹن ڈیکاتھلون مقابلوں میں مسلسل دو بار طلائی تمغہ جیتنے والے پہلے ایتھلیٹ بنے۔ اس قبل برطانیہ کے ڈیلے تھامپسن نے 1980 اور 1984 میں ایسا کارنامہ سرانجام دیا تھا۔
  • جمیکا کی ایلائن تھامسن اولمپکس مقابلوں میں سپرنٹ ڈبل مکمل کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔
  • چین کی وو منشیا اولمپکس میں پانچ طلائی تمغے جیتنے والی پہلی ڈائیور بن گئی ہیں۔ انھوں نے پانچواں طلائی تمغہ اپنی ساتھی ڈائیور شی تنگماؤ کے ساتھ خواتین کے تین میٹر سینکرونائیزڈ سپرنگ بورڈ مقابلہ جیت کر حاصل کیا۔

ٹوٹنے والے ریکارڈز

  • ریو اولمپکس کے دوران سات مقابلوں میں 27 نئے عالمی ریکارڈز قائم ہوئے۔
  • یہ ریکارڈز تیراندازی، ایتھلیٹکس، ماڈرن پینٹاتھلن، ٹریک سائیکلنگ، نشانہ بازی، تیراکی، اور ویٹ لفٹنگ میں قائم کیے گئے۔
  • امریکی کیٹی لیڈیکی نے خواتین کے تیراکی کے 400 اور 800 میٹر فری سٹائل مقابلوں میں دو ریکارڈ بنائے۔
  • خواتین کے ٹیم سائکلنگ میں ریو اولمپکس کے دوران تین مرتبہ ریکارڈ ٹوٹا۔ یہ ریکارڈ برطانیہ کی کیٹی آرچبیلڈ، ایلینور بارکر، جوانا رازویل شینڈ اور لارا ٹراٹ نے قائم کیا۔
  • ایتھلیٹکس میں مردوں کی 400 میٹر میں مائیکل جانسن کا 17 سالہ ریکارڈ جنوبی افریقہ کے ویڈ وین نیکرک نے توڑا، جبکہ ایتھوپیا کی الماز ایانا نے خواتین کی دس ہزار میٹر دوڑ 29 منٹ اور 17.45 سیکنڈ میں مکمل کر کے 1993 میں وانگ جونژیا کا بنایا ہوا ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔
  • خواتین کے ہیمر مقابلوں میں پولینڈ کی انیتا ولودرزیک نے اپنا ہی عالمی ریکارڈ توڑا۔ انھوں نے اس مرتبہ 82.29 میٹر دور تک ہیمر پھینکا۔

اسی بارے میں