پاکستان کی بلے بازی میں ’فائر پاور‘ کی کمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شرجیل خان نے حال ہی میں آئرلینڈ کے خلاف جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے سنچری بنائی تھی

چند برس قبل کوکنگ کا ایک عالمی مقابلہ ایک سیزن کے لیے پاکستانی سکرینز پر نظر آیا۔ اس کی ابتدائی اقساط میں سے ایک میں مقابلے کے شرکا کو ایک ایسی ڈش بنانے کو کہا گیا جس کی تیاری کے بارے میں وہ پراعتماد ہوں۔

تمام شرکا جن میں چترال سے تعلق رکھنے والا مقابلے کا فاتح بھی شامل تھا جدید کوکنگ گیم شوز کی توقعات سے آگاہ تھے یعنی کہ پکوان پیش کرنے کا طریقہ بھی ذائقے جتنا اہم ہے کیونکہ ناظرین اس ڈش کو چکھ نہیں سکتے صرف دیکھ سکتے ہیں۔

٭ 1990 کی کرکٹ 2016 میں نہیں چلے گی

٭ بارش سے متاثرہ میچ میں انگلینڈ 44 رنز سے فاتح

شرکا میں سے ایک خاتون نے کباب بنائے جو دیکھنے سے ہی لذیذ لگ رہے تھے لیکن انھیں پیش کرنے کا انداز بھدا تھا۔

مجھے بہت الجھن اور افسوس ہوا۔

وہ ایک ٹی وی شو میں تو پہنچ گئیں لیکن ان کے خیال میں یہ عید پر رشتہ داروں کی دعوت جیسی چیز تھی جہاں سب کو صرف ذائقے سے مطلب ہوتا ہے یا پھر وہ جدید دور میں قدیم طریقے سے کام کر کے آگے بڑھنا چاہتی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شعیب ملک جس قسم کی کرکٹ وہ کھیل رہے ہیں وہ بہت پرانی ہو چکی ہے

مجھے ان کا خیال پاکستان کو انگلینڈ کے ہاتھوں پہلے ایک روزہ کرکٹ میچ میں شکست کھاتے دیکھ کر آیا۔

جہاں گذشتہ پانچ سے چھ برس میں دیگر ممالک نے اس طرز کی کرکٹ میں بلے بازی کو متنوع بنایا ہے پاکستان اس سلسلے میں تنزل کا شکار رہا ہے۔

بدھ کو پاکستانی ٹیم کے مجموعی سکور اور 24 برس قبل اسی ملک کے خلاف ورلڈ کپ کے فائنل میں بنائے جانے والے سکور میں صرف 11 رنز کا فرق تھا۔

پاکستانی ٹیم اپنے طریقے کو مستقبل قریب میں بدلتی دکھائی بھی نہیں دیتی۔ سرفراز احمد جنھوں نے پاکستانی اننگز میں سب سے بہتر باری کھیلی، ان کی اننگز کو دیگر ٹیمیں انتہائی سست ہی قرار دیں گی۔

دیگر نمایاں کھلاڑیوں میں سے بابر اعظم ایسے بلے باز ہیں جو اچھی اوسط کے ساتھ ایک لمبی اننگز کھیل سکتے ہیں۔

لیکن پاکستان کی بلے بازی میں ’فائر پاور‘ کی کمی تھی۔ صرف شرجیل ہی ایک ایسے بلے باز ہیں جو جدید بلے بازی کی اوسط سے سکور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ کوشش کئی میچوں میں ایک آدھ بار ہی کامیاب ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یاسر کی حالیہ ٹیسٹ فارم دیکھتے ہوئے انھیں ہی جلد ون ڈے ٹیم میں شمولیت کا بلاوا آ سکتا ہے

باقی بلے بازوں میں شعیب ملک اور محمد حفیظ صرف اپنے ’تجربے‘ کی بنیاد پر ٹیم کا حصہ ہیں اور جس قسم کی کرکٹ وہ کھیل رہے ہیں وہ بہت پرانی ہو چکی ہے۔

یقیناً اس کی اہم وجہ یو اے ای کی سلو پچوں پر باقاعدگی سے کھیلنا اور آئی پی ایل اور بی بی ایل جیسے مقابلوں میں عدم شرکت ہے لیکن کیا کریں یہ تمام وجوہات سکور کارڈ پر نہیں لکھی جاتیں۔

اور ساتھ ہی ساتھ پاکستانی بولنگ میں وہ بھی دم خم باقی نہیں رہا۔ کچھ وجہ یہ ہے کہ سفید گیند میں بالروں کے پاس زیادہ کچھ کرنے کے لیے نہیں اور پھر پاکستان کو اس فارمیٹ میں اچھے سپنرز کی کمی کا سامنا ہے۔

پاکستان کے پاس کچھ اچھے نوجوان سپنرز ہیں لیکن یاسر کی حالیہ ٹیسٹ فارم دیکھتے ہوئے انھیں ہی جلد بلاوا آ سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بہترین کوشش اور نیت کے باوجود پاکستان کی ایک روزہ کرکٹ ٹیم ایسے کبابوں جیسی ہی ہے جن کی بھدی پیشکش ان کے ذائقے کو نظرانداز کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

چند دن ایسے ہوتے ہیں کہ حالات اس کا ساتھ دیتے ہیں لیکن زیادہ تر وقت وہ پرانی اور باسی ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں