ریو میں غلط بیانی، امریکی تیراک پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سے پہلے کہ رائن کے مبینہ جھوٹے دعوے کے متعلق پولیس ان سے اچھی طرح پوچھ گچھ کر سکتی وہ برازیل سے واپس چلے گئے تھے

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیریو میں اولمپک کھیلوں کے دوران لوٹے جانے جیسا جھوٹا بیان دینے پر پولیس نے امریکی تیراک رائن لوکٹے کے خلاف کیس درج کیا ہے۔

پولیس نے اپنے بیان میں عدالت سے اس سلسلے میں طلائی تمغہ جیتنے والے اس کھلاڑی کے خلاف سمن جاری کرنے کو بھی کہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں اچھی طرح سے آگاہ ہے۔

کھیلوں کے بعد اس سے پہلے کہ رائن کے مبینہ جھوٹے دعوے کے متعلق پولیس ان سے اچھی طرح پوچھ گچھ کر سکتی وہ برازیل سے واپس چلے گئے تھے۔

انھوں نے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ جب وہ ایک پارٹی کرکے واپس کھیلوں کے کمپلیکس کی طرف آرہے تھے تو انھیں اور ان کے دیگر تین تیراک ساتھیوں کے ساتھ بعض ان لوگوں نے بندوق کی نوک پر ٹیکسی میں لوٹ لیا جو پولیس کی وردی میں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اگر وہ اس جرم میں قصوروار پائے گئے تو انھیں 18 ماہ کی قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ قانونی طور پر ان کی غیر موجودگی میں بھی ان پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے

لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ رائن لوکٹے نے یہ کہانی خود سے گڑھی تھی۔ پولیس نے اس سلسلے میں ویڈیو شواہد بھی پیش کیے ہیں جس کے مطابق تیراکوں کے اس گروپ نے پیٹرول پمپ کے ایک ٹوائلٹ میں پہلے توڑ پھوڑ کی تھی جس پر سکیورٹی گارڈز نے انھیں چیلنچ کیا تھا۔

اس واقعے کے بعد امریکی تیراک نے یہ کہتے ہوئے معافی مانگ لی تھی کہ انھوں نے شراب پی رکھی تھی۔ لیکن اب ان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس کیس میں اپنا دفاع کرنے برازیل آتے ہیں کہ نہیں۔

اگر وہ اس جرم میں قصوروار پائے گئے تو انھیں 18 ماہ کی قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ قانونی طور پر ان کی غیر موجودگی میں بھی ان پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

یہ بھی ممکن ہے کہ رائن اس مقدمے کی سماعت میں حاضر ہوں اور بس وہ جرمانہ دیکر اس سے چھٹکارہ حاصل کرلیں جیسے کہ ان کے ایک دوسرے ساتھی جمی فیگن نے کیا ہے جو اس وقت انھیں کے ساتھ تھے۔

فیگن نے اپنے مقدمے کو رفع دفعہ کرنے کے لیے برازیل کے ایک خیراتی ادارے کو اپنی انعامی رقم میں سے 11،000 ہزار ڈالر خیرات کرنے پر راضي ہوگئے تھے۔

برازیل اور امریکہ کے درمیان حوالگی کا معاہدہ ہے لیکن برازیل ماضی میں اسش کی خلاف ورزی کر چکا ہے اور اگر برازیل نے حوالگی کا معادہ کیا تو امریکہ بھی جوبا اس کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں