پاکستان کا موازنہ پاکستان سے ہی ہوسکتا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

مجھے نہیں یاد کہ آخری بار کب ایک پاکستانی بلے باز کی سنچری نے مجھے اتنا مضطرب کیا تھا۔ شاید وہ سنہ 1996 کے ورلڈ کپ میں رمیض راجہ کی جنوبی افریقہ کے خلاف سنچری تھی جو سست روی کی وجہ سے میچ کے نتیجے پر کوئی اثر نہ ڈال سکی تھی۔

٭ پاکستان کی بلے بازی میں فائر پاور کی کمی

٭انگلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کو چار وکٹوں سے شکست

مجھے یقین ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں اس فہرست میں اور بھی نام آئے ہوں گے مگر انگلینڈ کے خلاف سرفراز احمد کی سنچری نے مجھے دکھ دیا۔

جہاں یہ حقیقت ہے کہ ایسے موقع پر بیٹنگ کرنے آنا جب تین رنز پر دو وکٹیں گر چکی ہوں اور پھر انگلینڈ کے خلاف سنچری بنا دینا ون ڈے بلے باز کے لحاظ سے بہترین کارکردگی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ سرفراز کا 130 گیندوں پر یہ سنگ میل عبور کرنا اس بات کامظہر ہے کہ پاکستانی ٹیم جدید کرکٹ سے کس قدر نابلد ہے۔

ایک وقت تھا جب ٹیم کے کسی ایک بلے باز کا سنچری بنانا فتح کی ضمانت ہوتا تھا۔ مگر آج کل ضروری ہے کہ آپ کے کئی بلے باز تیزی سے کھیلتے ہوئے 30، 40 رنز بنائیں۔ پاکستان کے پاس نہ تو ایسے بلے باز ہیں بلکہ ان میں سے کئی تو کسی بھی طریقے سے ہی اتنے رنز بنانے کی صلاحیت کے حامل ہی دکھائی نہیں دیتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس صورتحال میں سرفراز کی اننگز اندھوں میں کانا راجہ والی بات تھی۔ وہ سنچری اگرچہ ایک سنگ میل تھا تاہم جس رفتار سے یہ رنز بنے اس سے میچ نہیں جیتے جاتے اور دیگر کوئی بلے باز تو اتنا بھی نہ کرپایا۔

‎شعیب ملک نے جو اس ٹیم کے سب سی تجربہ کار کھلاڑی ہیں انگلینڈ میں اپنے سب سے زیادہ سکور کا ریکارڈ توڑنے کے لیے اس میچ کو چنا تو مگر ان کے 28 رنز کسی بھی طرح کافی نہیں تھے۔ ساتھ ہی ساتھ ان کے کریز پر آتے ہی رن بنانے کی شرح بھی متاثر ہوئی۔

‎عماد وسیم جو اس ٹیم میں ایک پاور ہٹر کے طور پر شامل ہیں 90 کے سٹرائیک ریٹ سے کھیلے اور ہم سب جاننا چاہیں گے کہ اتنے نیچے بلے بازی کے لیے آنے کا باوجود ان کا یہ ریٹ 100سے کہیں اوپر کیوں نہ تھا۔

‎چار بلے بازوں کا سکور صفر رہا تو تین کا چھ رنز سے زیادہ نہ بڑھ سکا۔ ون ڈے سیریز میں 100 اوور کھیل کر پاکستان نے صرف دو چھکے لگائے ہیں اور ان کی مخالف ٹیم یعنی انگلینڈ کو ابھی تک دوسرے گیئر سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی ہے۔
دوسرے ون ڈے میں ہدف عبور کرنے کے لیے چھ وکٹیں گنوانا اور 48 اوور کھیلنا جہاں یہ ظاہر کرتا ہے کہ انگلش ٹیم سست پڑ گئی تھی وہیں یہ بھی کہ یہ ایک یکطرفہ مقابلہ بن کر رہ گیا تھا۔

‎مسئلہ یہ ہے کہ ان مسائل کا کوئی فوری حل نہیں۔ سفید گیند کی کرکٹ بلے بازوں کا کھیل بن چکی ہےاور جس دن پاکستان یہ میچ ہارا سمندر پار انڈیا اور ویسٹ انڈیز کے میچ میں دونوں ٹیموں نے بیس اوورز میں پاکستان جتنا سکور بنالیا تھا۔

‎مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی کارکردگی بہت ہی شاندار لگتی ہے جب اس کا موازنہ خود اس سے کیا جائے۔ باقی دنیا کے معیار کے تو وہ پاسنگ بھی نہیں

اسی بارے میں