انگلش بیٹنگ یا پاکستانی شادی کا کھانا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کہانی صرف ریکارڈ توڑنے تک محدود نہیں تھی

اور پھر آخرکار یہ ہو کر ہی رہا۔ پہلے دو ایک روزہ میچوں کے بعد، جہاں انگلینڈ کی ٹیم کسی حد تک نپے تلے انداز میں کھیلی، انگلش کھلاڑیوں نے آخرکار احتیاط کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک روزہ کرکٹ کی کمزرو ترین ٹیم پاکستان کے خلاف اپنی صلاحیتوں کا کھل کر مظاہرہ کیا۔

انگلینڈ کے بلے باز ریکارڈز پر اس طرح حملے کر رہے تھے جیسے پاکستانی شادیوں میں مہمان کھانے پر کرتے ہیں یعنی انتہائی بے رحم انداز میں۔ اس دوران انھوں نے کسی بھی انگلش کھلاڑی کی طرف سے تیز ترین نصف سینچری، سب سے زیادہ انفرادی سکور اور ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے سکور جیسے ریکارڈ قائم کیے۔

لیکن کہانی صرف ریکارڈ توڑنے تک محدود نہیں تھی۔ یہ انگلش ٹیم کا اس سیزن کے دوران سب سے زبردست کھیل کا مظاہرہ تھا۔

اس شاندار کارکردگی کا آغاز انگلینڈ کی طرف سے سکور کیے گئے پہلے رن سے ہی ہو گیا تھا۔ بغیر سکور جانے والی چند گیندوں کے بعد محمد عامر کی ایک بال کو لیگ سکوائر کی طرف کلپ کیا گیا۔ اس شاٹ پر دو رنز بننے چاہیے تھے لیکن فیلڈر اس بال پر بھدے انداز سے گرے اور گیند چار رنز کے لیے باؤنڈری پار کر گئی۔

یہ میچ کے دوران ہونے والے فیلڈنگ کی بچگانہ غلطیوں میں سے پہلے غلطی تھی اور اسی سے پتہ چل رہا تھا کہ پاکستانی ٹیم پہلے ہی ہار مان چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption وہاب ریاض اپنے کیریئر کی بدترین بالنگ فگرز کے ساتھ میدان سے باہر آئے

شاید ان کی دن بھر کا کارکردگی کی سب سے موزوں مثال وہاب ریاض کا کھیل تھا۔ وہ فاسٹ بالر، جنھوں نے نے اسی سیزن میں ٹیسٹ سیریز کے دوران دو بار کھیل کا پانسہ پلٹ دیا تھا، اپنے کیریئر کی بدترین بالنگ فگرز کے ساتھ میدان سے باہر آئے۔ انھوں نے دو بار بیٹسمینوں کو آؤٹ کیا لیکن دونوں بار ایسا نو بالوں پر ہوا، وہ جرم جو وہ تسلسل سے کرتے چلے آ رہے تھے۔ تیسری بار ٹیم کے بہترین فیلڈر یاسر شاہ نے ان کی گیند ایک آسان کیچ چھوڑ دیا۔

انگلینڈ کی طرف سے یہ ایک روزہ کرکٹ کی بیٹنگ کی ایک عمدہ مثال تھی جو اس بات کا پتا دے رہی تھی کرکٹ کے اس فارمیٹ میں بیٹنگ ہونی کیسے چاہیے اور یہ کہ پاکستانی ٹیم کس طرح اس سے کوسوں دور ہے۔

جیسن روئے کے ابتدائی نقصان کے بعد، ایلکس ہیلز اور جو رُوٹ نے آہستہ آہستہ سکور کو آگے بڑھانے پر توجہ دی اور ایک بار سکور سو سے آگے گیا تو ہیلز نے کمزور بالنگ اور فیلڈنگ سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے سکور میں تیزی سے اضافہ کرنا شروع کر دیا۔انھوں نے اپنی انفرادی سینچری 25ویں اوور تک مکمل کر لی اور ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ وہ ڈبل سینچری بنانے کے لیے تیار ہیں۔

اس کے بجائے انھیں انگلینڈ کی طرف سب سے بڑے انفرادی سکور پر اکتفا کرنا پڑا اور وہ اپنے پارٹنر جو رُوٹ کے ساتھ اوپر تلے آؤٹ ہوکر میدان سے باہر چلے گئے۔ اس سے جوس بٹلر کو ڈٹ جانے کا موقع مل گیا اور انھوں نے پاکستانی بالروں کی گیندوں کو گراؤنڈ کے چاروں طرف زبردست شاٹ کھیلے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے

اس میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ انھوں نے زیادہ تر کلین شاٹ کھیلے اور گیندوں کو بنا کر کھیلنے کی کوشش نہیں کی۔

یہی وہ بنیادی فرق تھا جو پاکستان کی بیٹنگ کے دوران دیکھنے میں آیا۔ شرجیل کی دھواں دار اننگز کے علاوہ پاکستان کے سارے ٹاپ آرڈر نے ایک نہایت ہی آسان وکٹ پر گیندوں کو بنا کر کھیلنے کی کوشش کی۔ پاکستان کی کمزور بیٹنگ کی قلعی محمد عامر نے کھولی جو 11ویں نمبر پر بیٹنگ کرنے کے لیے آئے اور اس پوزیشن پر سب سے بڑا سکور بنانے میں کامیاب رہے۔ انگلش بلے بازوں کی طرح عامر نے بھی کلین ہٹنگ پر توجہ دی اور خواہ مخواہ کے تجربات سے گریز کیا۔

مِکی آرتھر کے لیے شاید یہ اس بات کا سب سے واضح مظاہرہ ہے کہ ان کی ایک روزہ ٹیم کتنی کمزور ہے۔ بیٹنگ اور بالنگ دونوں شعبے میں بین الاقوامی کرکٹ کے معیار سے بہت پیچھے ہیں اور ان میں بہتری لانے کی کوششوں میں ایک طویل عرصہ لگے گا۔ لیکن ایسے کرنے کے لیے بھی ایک پلان کی ضرورت ہو گی۔ اس مرحلے پر تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے۔

اسی بارے میں