فٹبال میں بھی ویڈیو ری پلے کے استعمال کا آغاز

Image caption کھیل کے دوران جب اٹلی نے اس شک میں پینلٹی کی اپیل کی کہ باکس میں دفاعی کھلاڑی لیوین کروزاوا کا ہاتھ بال پر لگا ہے تو اس کی جانچ کے لیے پہلی بار ویڈیو ری پلے کا استعمال کیا گيا

فرانس اور اٹلی کے درمیان ہونے والے ایک دوستانہ بین الاقوامی میچ کے دوران پہلی بار ویڈیو ری پلیز کا استمعال کیا گيا جس میں فرانس نے اٹلی کو ایک کے مقابلے تین گول سے شکست دی۔

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر جیانی انفینیٹو نے اس موقع پر کہا کہ اس کے ساتھ ہی فٹبال میں ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی ہے۔

کھیل کے دوران جب اٹلی نے اس شک میں پینلٹی کی اپیل کی کہ باکس میں دفاعی کھلاڑی لیوین کروزاوا کا ہاتھ بال پر لگا ہے تو اس کی جانچ کے لیے پہلی بار ویڈیو ری پلے کا استعمال کیا گيا۔

میچ کے ریفری جارن کوپیئر نے اس وقت تک کے لیے کھیل کو روک کر رکھا جب تک ری پلے ریفری سے صلاح و مشورہ نہیں ہوگیا، جس کے بعد ان کے مشورے کی بنا پر پینلٹی کی اپیل کو مسترد کر دیا گیا۔

فیفا کے صدر انفینٹینو کو توقع ہے کہ 2018 میں روس میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں اس تکنیک کا استعمال کیا جائے گا۔

امریکہ میں یونائیٹیڈ ساکر لیگ میں اس کی آزمائش پہلے سے ہوتی رہی ہے اور آئندہ دو برسوں میں جرمنی اور اٹلی سمیت چھ ممالک میں اس کے مزید تجربات ہونے کی توقع ہے۔

اٹلی کے ایک ٹی وی چینل رائے سے بات کرتے ہوئے فیفا کے صدر انفینٹینو نے کہا: ’ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ریفری نے بس چند سیکنڈ کے لیے کھیل روکے رکھا اور اسی دوران ری پلے والے دونوں ریفریوں نے تصدیق کی کہ پینالٹی نہیں ملنی چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے یہاں پر فٹبال کی تاریخ دیکھی ہے۔ ہم 2016 میں ہیں اور اب اسے آزمانے کا وقت آگیا ہے۔‘

جمعرات کو ہونے والا یہ میچ سان نکولا سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔

اسی بارے میں