ترانے کا احترام: امریکی کھلاڑی کا ایک بار پھر احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بعض شائقین نے اُن کی اس حرکت پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔

امریکی نیشنل فٹبال لیگ کے کھلاڑی کولن كیپرنك نے اپنا احتجاج جاری رکھتے ہوئے ایک بار پھر قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

سان فرانسسکو 49 کے لیے کھیلنے والے کولن كیپرنك نے ملک میں نسلی امتیاز اور سیاہ فام لوگوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

اس سے پہلے بھی وہ ایک ہفتہ قبل بھی قومی ترانہ پڑھے جانے کے دوران اپنی نشست پر بیٹھے رہے تھے۔

اُن کی ٹیم میں شامل ایک ساتھی کھلاڑی بھی اس احتجاج میں شامل تھے لیکن بعض شائقین نے اُن کی اس حرکت پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا: ’میں اس پرچم یا ملک کی تعظیم کے لیے کھڑا نہیں ہوں گا جو سیاہ فاموں اور دوسرے رنگ و نسل کے لوگوں کا استحصال کرتا ہے۔‘

قومی ترانہ بجنے کے دوارن کولن كیپرنك ایک سابق فوجی کے پاس چلے گئے جن سے انھوں نے کھیل شروع ہونے سے پہلے بھی ملاقات کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کولن كیپرنك سان فرانسسکو 49 ٹیم سے کھیلتے ہیں، جب قومی ترانہ بج رہا تھا تو احتراماً کھڑے ہونے کی بجائے کرسی پر بیٹھے رہے

امریکہ کی خصوصی افواج کے سابق فوجی نیٹ بویئر نے گذشتہ ہفتے انھیں خط لکھا تھا، جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ’آپ کے احتجاج پر میرا پہلا ردعمل تو غصے سے بھرپور تھا، تاہم اب میں کوشش کر رہا ہوں کہ یہ سمجھ سکوں کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔‘

’دوسرے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو آگ کے خلاف آگ سے جنگ کر رہے ہیں اور اس سے کسی کا بھلا نہیں ہو رہا۔ اس لیے میں آپ کو کھلے ذہن سے سننے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘

كیپرنك نے مسٹر بویئر سے ملاقات کے بعد انھیں اپنا میچ دیکھنے کے لیے بلایا۔ مسٹر بویئر ترانے کے لیے کھڑے ہوئے جبکہ کیپرنک احتجاجاً بیٹھے رہے۔

کئی افراد نے کولن كیپرنك کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ محبِ وطن نہیں ہیں اور انھوں نے اُن افراد کی بےحرمتی کی ہے جو اس ملک کی خاطر جان دینا چاہتے ہیں۔

کولن كیپرنك سوشل میڈیا پر سیاہ فاموں کے لیے چلنے والی تحریک ’بلیک لائیوز میٹر‘ کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے ہیں۔

انھوں نے میڈیا سے بات چيت میں کہا کہ ’میری اس مخالفت کو اگر دوسرے انداز سے دیکھیں تو یہ خود غرضی ہوگی لیکن ایسا کرنا میرے لیے فٹبال سے بھی بڑا کام ہے۔‘

اسی بارے میں